دو کروڑ سے بھی زائد مولوی ہیں پاکستان میں جو صرف زبان ہلانے کی کمائی کھاتے ہیں حالانکہ اسلام میں پیشہ ور مولوی کا کوئی کانسیپٹ نہیں ہے وہ نماز پڑھانے کے ساتھ ساتھ عام عوام کو تعلیم دے مدرس کے طور پر فرائض انجام دے اور تنخواہ پائے تاکہ اس کی افادیت برقرار رہے لیکن اب یہ کلٹ بن چکے ہیں مافیا ہیں جو عددی برتری کی بدولت سرعام دھمکیاں لگاتے ہیں ان کا کلہ کمہ ہونا ضروری ہے اور ہونا بھی حکومت کے ایما پر چاہیئے فوج کے نہیں لیکن وہ حکومت کو تو لونڈی سمجھتے ہیں اور فوج کو مقتدرہ جب فوج مقتدرہ کا رول ادا کرے گی تو سب کی انگلیاں اسی طرف اٹھیں گی یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مدرسے میں بچوں کو قرآن و حدیث پڑھانے والا استاد، دینی تعلیم دینے والا عالم اور مذہبی ادارے میں باقاعدہ تدریسی خدمات انجام دینے والا شخص معاشرے کا مفید رکن ہے۔ اس کی تنخواہ بھی جائز محنت کا معاوضہ ہے اسلام میں علم کو کاروباری اجارہ داری بنانے یا مذہب کو ذاتی مفادات کے تحفظ کا ہتھیار بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ دینی خدمات انجام دینے والے شخص کو معاشی تحفظ ملنا چاہیے لیکن اس تحفظ کے ساتھ علمی، اخلاقی اور ادارہ جاتی جواب دہی بھی لازم ہے کیا ہمارے ہاں مذہبی اداروں کی مالی معاونت، چندہ اکٹھا کرنے کے طریقوں، تدریسی معیار اور انتظامی معاملات کا شفاف نظام موجود ہے کیا ان اداروں کے ذمہ داران بھی اسی طرح جواب دہ ہیں جس طرح دوسرے شعبوں کے اداروں کے سربراہان ہوتے ہیں کسی عالم کو اس کے علم اور کردار کی بنیاد پر عزت ملنی چاہیے نہ کہ اس بنیاد پر کہ اس کے پیچھے کتنے افراد جمع ہیں اور وہ ریاست کو کتنی بڑی دھمکی دے سکتا ہے پاکستان میں جب بھی کوئی مذہبی یا سیاسی گروہ ریاست کو للکارتا ہے تو بحث فوراً فوج اور مقتدرہ کی طرف چلی جاتی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی حکومتیں اکثر اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے میں کمزوری دکھاتی ہیں اگر کوئی شخص یا جماعت سرعام تشدد کی دھمکی دے، شہریوں کو خوف زدہ کرے، قانون شکنی کی ترغیب دے یا ریاستی اداروں کو زبردستی دباؤ میں لانے کی کوشش کرے تو اس کا جواب فوجی کارروائی نہیں بلکہ قانون، عدالت اور منتخب حکومت کے ذریعے دیا جانا چاہیے اصلی حکومت کو چاہیے کہ وہ ریاستی رٹ قائم کرے مگر یہ کام آئین، قانون اور عدالتی نگرانی کے تحت ہو فوج کا بنیادی آئینی کردار دفاع اور قومی سلامتی ہے اسے سیاسی و مذہبی تنازعات کا براہ راست فریق بنانے سے اداروں کی غیر جانب داری پر سوال اٹھتے ہیں اگر ہر سیاسی تنازعے کا فیصلہ فوجی طاقت کے ذریعے ہونے لگے تو پھر منتخب حکومت چلیں نام ہی کی حکومت سہی کی آئینی حیثیت اور سیاسی ذمہ داری کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے مولانا فضل الرحمٰن ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ انہیں حکومت پر تنقید، آئینی خلاف ورزیوں کی نشاندہی، فوج کے سیاسی کردار پر سوال اٹھانے اور پارلیمان کی بالادستی کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس تیزی سے تندو تیز بیانات اور اس پر جوابی بیانات پر عملی اقدام ندارد تو کیا سمجھا جائے جہاں ایک ٹویٹ پر دس سال کی قید لگا دی جائے وہاں سرعام دھمکیاں کیا ظاہر کرتی ہیں کہ دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال کالی ہے عمران خان اور پی ٹی آئی لانگ مارچ ہر چیز لائم لائٹ سے غائب ہو چکی ہے یہی تو اسٹیبلشمنٹ چاہتی تھی یہی تو حکومت چاہتی تھی اور یہی تو مولانا چاہتے تھے اور اب تو وہ حصہ قدرے جثہ سے بھی زیادہ کے حق دار سمجھے جائیں گے حقیقی جمہوریت گئی تیل لینے۔
٭٭٭٭٭










