حضور مجاہد ملت ایک تعارف !!!

0
1

حضور مجاہد کی ولادت، حصول علم دین اور اس کا پس منظر
سید اولاد رسول قدسی مصباحی
قسط 7
مسلمانو! ہماری صورت دیکھو ہم داڑھی رکھتے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، حج کرتے ہی، زکوٰة دیتے ہیں، دینی مدرسہ چلاتے ہیں، جن میں فقہ وتفسیر حدیث کی تعلیم دیتے ہیں، ہمارے دیوبند کا مدرسہ اتنا لمبا چوڑا ہے مگر یہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں اگر ہم کافر ہوتے تو یہ سب کیوں کرتے۔۔۔
حضور مجاہد ملت نے برجستہ جواب دیا:
”مولوی صاحب! آپ نے اپنی منقبت میں بہت لمبا چوڑا قصیدہ بے بحر کے پڑھ ڈالا مگر ٹیپ کا بند چھوڑ دیا۔ جہاں آپ نے یہ سب بیان کیا وہیں یہ بھی تو کہتے کہ ان سب کے ساتھ توہین رسول بھی کرتے ہیں۔ مولوی صاحب ہم آپ کو داڑھی رکھنے پر کافر نہیں کہتے، حج کرنے پر کافر نہیں کہتے، ہم آپ کو توہین رسول کرنے پر کافر کہتے ہیں، آپ نے سب بیان کیا مگر اپنا اصلی کارنامہ بیان ہی نہیں کیا۔”
حضور مجاہد ملت کے اس الزامی جواب سے سنبھلی صاحب پر ایسا سکتہ طاری ہوا کہ پھر جناب مناطرے کے اختتام تک ایک لفظ بھی بولنے پر قادر نہ رہے ان کے چہرے کی کیفیت ایسی تھی کہ ایک رنگ آتا تھا ایک رنگ جاتا تھا۔(نوائے حبیب، مجاہد ملت، نمبر،ص٢٣٣)
١٣٩٣ھ میں حج کے موقع پر حضور مجاہد ملت کا قاضی نجد عبدالعزیز بن صالح سے مناظرہ ٹھن گیا۔ دوران مناظرہ آپ نے قاضی نجد کے سوال پر فرمایا ہم لوگ توسل واستغاثہ کے قائل ہیں اس پر قاضی نجد نے تین بار اس جملے کو دھرایا کہ یہ تو شرک جلی ہے تھوڑی دیر کے بعد قاضی نجد کو جب احساس ہوا کہ ہم اپنے ہی جملے کے حصار میں بری طرح پھنس گئے ہیں تو فوراً پینتر ابدل کر بول پڑا کہ ہاں اگر وہ زندہ اور سامنے موجود ہو تو توسل جائز ہے، حضور مجاہد ملت نے فوراً الزاماً للکارتے ہوئے فرمایا:
”تمہارے یہاں زندہ خدا کا شریک ہوسکتا ہے۔ مردہ خدا کا شریک نہیں ہوسکتا۔” یہ الزامی جواب نہ تھا بلکہ نجدی قاضی کے ذہن وفکر پر ایک تیز چلتا ہوا آرہ تھا اس جواب پر وہ ایسا حواس باختہ ہوا کہ گنگ ہو کر رہ گیا۔”
(نوائے حبیب، مجاہد ملت نمبر، ص٢٣٣،٢٣٤)
کٹک کے مناظرے کے موقع پر دیوبندی مناظر مولوی ارشاد نے علامہ ارشد القادری صاحب کو جب یہ کہہ کر زیر کرنا چاہا کہ تم ارشد ہو اور میں ارشاد تم مجھ سے ہی مشتق ہو تم میرے سامنے نہ ٹک پائو گے۔ علامہ ارشد القادری اس کا علمی جواب سوچ رہے تھے کہ معاً حضور مجاہد ملت نے فرمایا۔۔۔
مولوی ارشدیہ جواب کیوں نہیں دیتے المصدر کالمخنث لایذکرولا یونث۔جونہی علامہ نے یہ جملہ چسپاں کیا مولوی ارشاد ندامت سے پانی پانی ہوگیا اور پورا مجمع قہقہ زار بن گیا۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here