عافیت کی دعا کہتے ہیں کہ شام کے علاقے کا ایک بہت بڑا تاجر ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ بڑے بڑے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کروایا، بے شمار دولت خرچ کی، مگر بیماری کی تشخیص نہ ہوسکی۔ بالآخر ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب اس کے پاس زندگی کے صرف چند دن باقی ہیں۔ وہ شخص مایوس اور انتہائی پریشان ہوگیا۔ ہر وقت اپنے آنے والے انجام کے بارے میں سوچتا اور اپنی زندگی کے باقی ماندہ لمحے گنتا رہتا۔ ایک دن وہ شام کے ایک بزرگ اور معروف شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی پوری داستان سنائی۔شیخ نے فرمایا: “بیٹا! جامع اموی جاؤ۔ وہاں جس شخص کو جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے، سب کو سلام کرو اور ہر ایک سے کہو: اللہ آپ کو عافیت عطا فرمائے۔” تاجر نے حیرت سے کہا: “حضرت! میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ میں مرنے والا ہوں، اور آپ مجھے جامع اموی جانے کا مشورہ دے رہے ہیں؟” شیخ نے فرمایا: “بیٹا! جو کہا ہے، بس وہ کر گزرو۔” وہ شخص مسجد چلا گیا۔ وہاں جس سے بھی ملاقات ہوتی، سلام کرتا اور کہتا: “اللہ آپ کو عافیت عطا فرمائے۔” اور سامنے سے جواب ملتا: “اللہ آپ کو بھی عافیت دے۔” وہ کچھ دیر اسی طرح لوگوں کو دعائیں دیتا رہا، پھر واپس آیا اور فوراً اپنے ڈاکٹر سے دوبارہ ٹیسٹ کروائے۔ رپورٹ سامنے آئی تو ڈاکٹر حیران رہ گیا! تمام رپورٹس بالکل نارمل تھیں۔ بیماری کا کوئی نشان باقی نہ تھا۔ وہ شخص فوراً شیخ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: “حضرت! آپ نے میرے ساتھ کیا کیا؟” شیخ مسکرائے اور فرمایا: “بیٹا! کیا خبر، شاید مسجد میں تمہاری ملاقات کسی ایسے اللہ والے سے ہوگئی ہو کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا کر دعا کرتا تو اللہ اس کی دعا قبول فرما دیتا۔ ممکن ہے اس نے تمہارے لیے عافیت کی دعا کی ہو اور اللہ نے تمہیں شفا عطا فرما دی ہو۔” ایک خوبصورت سبق ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری زبان سے نکلی ہوئی کون سی دعا کسی کی زندگی میں خیر کا سبب بن جائے۔ اس لیے ایک دوسرے کے لیے اچھے الفاظ اور دعائیں کہنا اپنی عادت بنا لیجیے: اللہ آپ کو عافیت عطا فرمائے۔ اللہ آپ کی پریشانیاں دور فرمائے۔ اللہ آپ کے دل کو سکون دے۔ اللہ آپ کے رزق میں برکت عطا فرمائے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ اللہ آپ کو اتنا عطا فرمائے کہ آپ راضی ہوجائیں۔ اللہ دونوں جہانوں میں آپ کی عزت فرمائے۔ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ اللہ آپ کے ہاتھوں میں برکت دے۔ کسی کے لیے کہی گئی ایک چھوٹی سی دعا بھی کبھی کبھی بہت بڑی رحمت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لہٰذا اچھے الفاظ بولیے، دعائیں دیجیے اور ایک دوسرے کے لیے خیر چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور انہیں پاکیزہ بات کی طرف رہنمائی دی گئی اور انہیں اس ذات کے راستے کی طرف رہنمائی دی گئی جو تعریف کے لائق ہے۔” (سور? الحج: 24) کسی کے لیے عافیت کی دعا کیجیے، شاید اللہ نے آپ کی دعا ہی کو اس کے لیے شفا کا وسیلہ بنا رکھا ہو۔ منقول ۔
٭٭٭









