تقریباً پون صدی پہلے، اس دنیا میں دو ایسی ریاستیں وجود میں آئیں جنہیں ”مذہبی” ریاستیں متصور کیا گیا۔ دو مختلف الہامی مذاہب کی بنیادوں پر قائم ہونے والی ان دونوں ریاستوں کو پاکستان اور اسرائیل کے نام دئیے گئے۔ ان دونوں ریاستوں میں کئی قدریں مشترک نظر آتی ہیں، مثلاً انہیں قائم کرنے سے پہلے، نصف صدی تک خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، اور ان دونوں کے اصل آقا ہمیشہ برطانیہ اور امریکہ رہے، لیکن اس کے باوجود، ان دونوں کی باہمی نفرتیں بھی نقط عروج سے ہمیشہ فزوں تر رہیں۔ مزے کی بات یہ ہے دونوں ”مذہبی” ریاستوں میں زمامِ کار مذہبی رہنماؤں کے سپرد نہیں ہونے دی گئی۔ ان دونوں ریاستوں کو ایٹمی طاقتیں ہونے کا شرف حاصل ہے لیکن ساتھ ساتھ، ان کا اپنے آقاؤں پر مکمل انحصار بھی پایا جاتا ہے۔ مرزا غالب کے الفاظ میں
بازیچ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
ان دونوں ممالک کا نظامِ سیاست تو ہمیں ہمیشہ شب و روز ہونے والا تماشا ہی لگتا ہے۔ پاکستان کی مقتدرہ اعلیٰ کا برطانیہ اور امریکہ بہادر انتخاب کرتے ہیں اور وہ مقتدرہ پھر چار پانچ سال کیلئے ایک پتلی تماشا کھڑا کردیتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی مقتدرہ کا وجود جس طرح بھی عمل میں آئے، اس کا مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کی تیل کی دولت پر مغربی قبضہ کو ہر حالت میں برقرار رکھنا قرار پاتا ہے۔ اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کیلئے، گذشتہ پون صدی سے فلسطین کے معصوم و مجبور عوام کا قتلِ عام جاری ہے۔ وہاں کی آدھی سے زائد آبادی، دوسرے ممالک میں جاکر ”پناہ گزیں” بن چکی ہے اور اپنے آبائی وطن میں واپس نہیں جاسکتی۔ جدید دور کے ”مہذب” معاشرے، مسلمہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مکمل طور پر حیا باختہ ہوچکے ہیں۔ معصوم بچوں اور خواتین پر بمباری ہوتے دیکھ کر بھی پوری دنیا کی رائے عامہ چپ سادھے رکھتی ہے۔ کلیدی سوال یہ ہے کہ آخر ظلم و جبر پر قائم یہ نظام، دنیا کو کیا سکون و اطمینان دے سکتا ہے؟ مرزا غالب نے صحیح کہا تھا کہ!
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
اس ہفتے مکمل ہونے والے تازہ ترین اسرائیلی انتخابات کے نتائج، ہیں تو توقعات کے عین مطابق لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے مقتدرہ کا دوغلہ پن بہت اچھی طرح عیاں ہو گیا ہے۔ دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کا اس بات پر متفق رہنا کہ فلسطینی عوام پر مظالم پہلے کی طرح جاری رکھے جائیں اور لبنان و ایران کے ساتھ جنگ بھی جاری رہے، اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اصل آقا، ایک مرتبہ پھر کامیاب ہو گئے ہیں۔ بہت زیادہ بدنامِ زمانہ نیتن یاہو کو اک ذرہ کم بدنام ظالم سے تبدیل کر بھی دیا جائے تو اصل مقاصد کے حصول میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عباس تابش کے اس شعر کے مطابق
ستم تو یہ ہے کہ پتلی بٹھا کے مسند پر
کہا گیا کہ یہی فیصلہ عوام کا ہے
دونوں سیاسی اتحاد، صدرِ امریکہ کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ اس مرتبہ قرعہَ فال کس کے نام نکلتا ہے؟ ویسے حیرت بلکہ دکھ تو ہوتا ہے کہ اپنے چند سال کے اقتدار کیلئے انسان کتنے ظالم بن جاتے ہیں؟ بلکہ لاکھوں لوگ ان کو اپنے ووٹ بھی دے دیتے ہیں تاکہ وہ معصوم بچوں اور کمزور خواتین پر مہلک ہتھیاروں سے مسلسل ظلم ڈھاتے رہیں۔ عمران پرتابگڑھی نے کیا اچھی دعا کی ہے۔
دودھ مونہے بچوں کے بھی خواب ہوا کرتے ہیں
جنگ کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
ہم نہیں کہتے ہمیں کوئی پیمبر دے دے
جو فقط تیرے ہی آگے جھکے وہ سر دے دے
لشکر ِ فیل جہالت پہ اتر آیا ہے
اے خدا پھر سے ابابیلوں کو کنکر دے دے
امریکی رائے عامہ میں فلسطین کے حوالے سے جو تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے، اس کا صحیح اندازہ اگلے ہفتے ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج سے ہوگا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ، یہاں کے ذرائعِ ابلاغ اور دیگر اہل الرائے، غزہ کے مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم کاکھل کر ذکر کر رہے ہیں۔ صیہونی لابی کے لاکھوں انتخابی ڈالر بھی اب تک رائے عامہ تبدیل کرنے میں، بظاہر غیر مؤثر دکھائی دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ترقی و ترویج سے مثبت تبدیلیوں کی توقع ہے۔ عباس تابش نے بھی کیا اچھا کہا ہے اور شاید یہی سوشل میڈیا کی زبان ہے کہ
یار اک بار پرندوں کو حکومت دے دو
یہ کسی شہر کو مقتل نہیں ہونے دیں گے
٭٭٭٭٭











