بسم اللہ الرحمن الرحیم!!!

0
1

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بعض چھوٹی چیزوں اور مختصر نیکیوں سے بڑی برکت عطا کی ہے۔”بسم اللہ الرحمن الرحیم” بھی اسی میں شامل ہے، اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد حاصل ہوتی ہے، اس چھوٹی سی آیت میں اس قدر طاقت ہے کہ کوئی عام مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہمار پیاس ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” جیسی قوت وطاقت ہونے کے باوجود اگر ہم مایوس ہوتے ہیں، یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔”بسم اللہ الرحمن الرحیم” کی فضلیت کے بارے میں رسول اللہۖ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت اُتری ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ کسی نبی پر ایسی آیت نہیں اُتری، وہ آیت ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” ہے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے، ہوائیں ساکن ہوگئیں، سمندر ٹھہر گیا، جانوروں نے کان لگا لئے، شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے، پروردگار عالم نے اپنی عزت وجلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہوگی۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جہنم کے اُنیس داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھے، اُس کے بھی(٩١) حرف ہیں، ہر حروف ہر فرشتہ سے بچائو بن جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ آنحضرتۖ کی سواری پر آپ علیہ السلام کے پچیھے جو صحابی سوار تھے ان کا بیان ہے کہ حضور اکرمۖ کی اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا شیطان کا ستیاناس ہو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ نہ کہو، اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا۔ ہاں ”بسم اللہ شریف، پڑھنے سیوہ مکھی کی طرح ذلیل وپست ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا: ہر کام جو اللہ کی حمد وثناء سے شروع نہ کیا جائے، وہ ناقص اور بے برکت ہے۔(سنن ابودائود) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرنا، دراصل اس کی اطاعت وفرماں برداری کا اعلان ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھاجائے کہ سب کچھ دینے والا صرف ایک اللہ ہے، پھر اللہ کی نعمتوں پر زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرنا قولی شکر ہے اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا عملی شکر ہے۔ ایک اور حدیث میں ”رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا، ہر وہ کام جسے بسم اللہ سے شروع نہ کیا گیا ہو، وہ ناقص اور ادھورا ہے۔”(الحدیث) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا، اے ابوہریرہ جب تم وضو کرو، تو ”بسم اللہ والحمد” کہہ لیا کرو، جب تک تمہارا وضو باقی رہے گا۔ اس وقت تک تمہارے فرشتے(کراماً کاتبین) تمہارے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔(طبرانی) ”بسم اللہ” کی وجہ سے گناہ گار کی بخشش ہوگی:۔ایک گناہ گار کو مرنے کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ اس نے جواب میں کہا، ایک دن میں ایک مدرسے کی طرف سے گزرا اور ایک پڑھنے والے نے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھی، اسے سن کر میرے دل میں اللہ تعالیٰ کے نام کی شیرینی(مٹھاس) نے اثر کیا اور اسی وقت میں نے سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے ”ہم دو چیزوں کو جمع نہ کریں گے۔ ایک اللہ کے نام کی لذت اور دوسری موت کی تلخی” پھر مرنے کے بعد پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا۔(انیس الواعظین) اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اگر ہم خیروبرکت چاہتے ہیں تو ہر نیک کام کے آغاز میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھا کریں۔ بصورت دیگر ہمارے فعل میں شیطان لعین شریک ہوجائے گا۔ ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید سے کچھ مجوسیوں نے عرض کیا کہ آپ ہمیں کوئی ایسی نشانی بتائیں کہ جس سے ہم پر اسلام کی حقانیت واضح ہوجائے، چنانچہ آپ نے زہر قاتل منگوایا اور ”بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھ کر اسے کھالیا۔ ”بسم اللہ شریف کی برکت سے اس زہر قاتل نے آپ پر اثر نہ کیا۔ یہ منظر دیکھ کر مجوسی(آتش پرست) بے ساختہ پکار اُٹھے، دین اسلام برحق ہے۔(تفسیرابن کیثر)۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here