ہیوسٹن میں سراج نارسی کا نام ویسے تو پی اے جی ایچ کے صدر کی حیثیت سے مشہور ہے لیکن ان کی صلاحیتوں میں اُردو ادب کی ترویج کو بھی بڑا دخل ہے۔ ”کتاب اور چائے” کے نام سے وہ مسلسل دو سالوں سے پروگرام کر رہے ہیں جو اس سے پہلے نہیں ہوا کرتے تھے، سراج نارسی ایک پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان ہیں اور لوگوں کی عزت کرتے ہیں اور اپنا کام کرتے رہتے ہیں ان کی اور صلاحیتوں میں ایک اور صلاحیت کا انکشاف پچھلے دنوں انہوں نے پی اے جی ایچ، ایشیاء سینٹر اور آغاز ریسٹورنٹ کے تعاون سے قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر مبنی تاریخی اسٹیج ڈرامہ ”جناح، فتح اور المیہ” کے نام سے 23 اور 24 اکتوبر کو ایشیاء سنٹر میں ہائوس فل شو کیا جس میں بانیٔ پاکستان کی جدوجہد پاکستان کی تاریخ اور قومی تشخص کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک خوبصورت کاوش تھی۔ یہ ڈرامہ قائداعظم محمد علی جناح کے 150 ویں یوم ولادت کی مناسبت سے منعقد ہونیوالی تقریبات کے سلسلے کی ایک اہم کاوش تھا۔ ڈرامے کے ذریعے قائداعظم کی زندگی کے مختلف پہلوئوں، ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی، آئینی جدوجہد اور برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک آزاد وطن کے حصول کی تاریخی کوششوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ اسٹیج پر تاریخ کے مختلف واقعات کو اس انداز میں زندہ کیا گیا کہ ناظرین کو یہ قائداعظم کی شخصیت کے سیاسی اور انسانی پہلوئوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اس پروڈکشن کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں قائداعظم کو صرف ایک عظیم سیاسی رہنماء کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے بھی پیش کیا گیا جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار مشکلات ذاتی قربانیوں اور تاریخی چیلنجز کا سامنا کیا۔ معروف پاکستانی ڈرامہ نگار شاہد ندیم کی تحریر پر مبنی اس ڈرامہ کی ہدایتکاری عمر فاروق نے نہایت ہی شاندار طریقے پر کی، اور سراج نارسی نے بطور پی اے جی ایچ صدر نے اس پروڈکشن کو خصوصی طور پر قائداعظم کی زندگی اور ورثے کو اُجاگر کرنے کیلئے پیش کیا۔ یہ ڈرامہ اردو میں نہیں تھا۔ انگریزی میں پیش کیا گیا اس کے باوجود لوگوں نے اس ڈرامہ کو بہت پسند کیا سب سے زیادہ اس پروگرام کی کمنٹری جس خوبصورت انداز میں مشہور ہدایتکار، صدا کار اور اداکار عارف باحلیم نے پیش کی شاید کوئی انگریز بھی ڈبنگ کرتا تو اتنی خوبصورت آواز کیساتھ نہ کر سکتا اور پھر سونے پہ سہاگہ ان کے صاحبزادے نے جو قائد کا کردار کیا وہ تو اس ڈرامہ کا سب سے کامیاب کردار تھا کیا الفاظوں کی ادائیگی، انداز گفتگو، چہرے کے تاثرات اس لڑکے نے تو کمال کر دیا۔ باقی کرداروں کے اپنے اپنے کردار خوب نبھائے کہیں بھی ڈرامے میں جھول نظر نہیں آیا پورے ڈرامہ میں ڈائریکٹر نے اداکاروں سے خُوب کام لیا۔ کہیں کوئی بھی فنکار اپنے ڈائیلاگ نہیں بھولا۔ دونوں روز ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور لوگوں نے دل کھول کر داد دی۔ پچھلے چھ مہینوں سے سراج نارسی، شاہد اقبال اور ڈائریکٹر اس تھیٹر کو کامیاب کرنے میں محنت کر رہے تھے اور جس خوبصورتی سے پیش کیا گیا وہ تمام لوگوں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ پروڈیوسر، ہدایتکار، فنکاروں، تکنیکی عملے، رضا کاروں اور دیگر معاونین کی مشترکہ محنت اور سراج نارسی کی دن رات محنت سے ہی یہ خوبصورت تخلیق تیار ہوئی، اسٹیج ڈرامے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس نے پاکستانی نژاد امریکی نوجوان نسل کو اپنے تاریخی پس منظر اور قومی شناخت سے روشناس کرانے کا موقع فراہم کیا بیرون ملک پروان چڑھنے والی نئی نسل کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آبائو اجداد کی تاریخ، تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد سے آگاہ ہے۔ بلا شبہ تھیٹر اور فنونِ لطیفہ تاریخ کو محض کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے زندہ تجربے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس نوعیت کے پروگرام مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے باہمی احترام اور تاریخی شعور کو فروغ دینے میں بھی مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ ہیوسٹن کی پاکستانی کمیونٹی کیلئے یہ پروگرام ایک یادگار ثقافتی سرگرمی کیساتھ ساتھ اپنی قومی تاریخ سے وابستگی کے اظہار کا ذریعہ بھی بنا۔ یہ ڈرامہ محض ایک تھیٹر پروڈکشن نہیں تھا بلکہ تاریخ، شناخت، قربانی اور قومی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک قابل ذکر کوشش تھی اور اس کا سہرا سراج نارسی اور ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اسی طح اپنے ملک کے ہیروں کی زندگی پر ایسے تھیٹر پیش کرتے رہیں تاکہ ہماری نئی نسل اپنے رہنمائوں کے بارے میں جانے کہ ہمارا ملک کن کن مشکلات اور قربانیوں سے بنا ہے۔
٭٭٭














