”فرعونی سیاست”

0
1
شبیر گُل

یورپ کے ایک چھوٹے سے غیر مسلم ملک سربیا میں طالبعلموں کے احتجاج نے حکمرانوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔اس سیاست بھونچال نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا طلباء کے احتجاج کا مقصد ملکی پارلیمنٹ کو گندے انڈوں سے پاک کرنا تھا۔ طلباء کی خواہش کے مطابق تحریک کامیاب ھوئی۔ پارلیمنٹ میں پڑھے لکھے اور صاف ستھرے لوگوں کی ساٹھ فیصد اکثریت پہنچی جس نے یورپی نظام پر لرزا طاری کردیا ہے۔قارئین کرام! اگر مسلم ممالک کی پارلیمنٹس اور پارلمنٹیرینز کا جائزہ لیا جاے تو اندازہ ھوگا کہ ہم مذہب کا اثر ہمارے دل پر نہیں ہوا۔ہم سود خور بھی ہیں اور کرپٹ بھی۔ ذخیرہ اندوز بھی ہیں اور ملاوٹ خور بھی۔ لْٹیرے بھی ہیں بددیانت بھی۔ مسلم ممالک میں احکام شریعت کے خلاف ہر ادارے میں بڑے سے بڑا فرعون بیٹھا ہے۔ احکام شریعت کا برملا مذاق اْڑاتے ہیں۔ پاکستان میں آئین کو ردی کا ٹکڑا سمجھتا ہے۔ بیوروکریٹس ، جرنیلوں اور سیاستدانوں کی اکثریت دوہری شہریت رکھتی ہے۔ کوئی ایسا قانون نہیں کہ انکی کرپشن پر ہاتھ ڈالا جاسکے۔ پچاس کڑوڑ تک کی کرپشن پر ضمانت ہے۔اور پانچ سو والے قرضدار کے لئے جیل۔ ہر چیز پر بھاری ٹیکس ہیں۔ معروف دانشور انور مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی یورپ کے حساب سے۔ سہولتیں یوگنڈا کے حساب کی طرح۔وزیراعظم ،انکے وزیر مشیر عرب شہزادوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ دراصل ہماری بربادی کا راز 550ارب روپے کی مفت بجلی۔220 ارب روپے کا مفت پٹرول۔نوئے ہزار سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیاں ہیں۔پارلیمنٹ میں بیٹھے چور، غنڈے اور فرعون سوالیہ نشان ہیں۔آج پاکستان کو ایسی ہی پارلیمنٹ کی ضرورت ہے جو پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قیام پاکستان کے مقاصد کو پورا کرسکے۔ اسکے لئے عوام میں سیاسی شعور کا ہوناضروری ہے جو شخصیت پرستی کی بجائے اپنے حقوق کا تخفظ کرسکیں۔ اسٹبلشمنٹ کی اے، بی اور سی ٹیم کو پہچان سکے۔پیپلز پارٹی پہلے ایوب خان کو اور اب جرنل عاصم منیر کو ڈیڈی مانتی ھے۔ ن لیگ جرنل ضیاء کو اور اب عاصم مْنیر کو ابا مانتی ہے۔ پی ٹی آئی پہلے جرنل پاشا، جرنل فیض اور جرنل باجوہ کو ابا جان کہتی تھی۔آجکل اْنکی اسٹبلشمنٹ سے کْٹی ھے۔اب اسٹبلشمنٹ کے یہ کھلاڑی۔ بچے جمہورے ھوگئے ھیں۔انکی کوکھ سے جنم لینے والوں کو جمہوریت یاد آگئی ہے۔لیکن واحد جمہوری جماعت۔جماعت اسلامی کو ”بی ٹیم ” کے طعنے سْننا پڑتے ہیں۔جو باقاعدہ پارٹی الیکشن کرواتے ہیں۔ جنہیں اسٹبلشمنٹ کبھی اقتدار میں آنے نہیں دیتی وہ اسٹبلشمنٹ کی ”بی” ٹیم ہیں۔؟ جن سے کراچی کی مئیر شپ چھین لی گئی وہ بی ٹیم ہیں۔ ؟جنہیں ہر جگہ سے فارم سنتالیس کے ذریعے پارلیمنٹ سے محروم رکھا گیا۔ وہ بی ٹیم ہے۔ ؟اور جنہیں ہارنے کے باوجود اسمبلیوں کی ذینت بنایا گیا ، اور وہ جو اسٹبلشمنٹ کے تلوے چاٹتے ھیں۔ سرکاری زمینوں پر اسٹبلشمنٹ کی مدد سے قبضے کرتے ھیں۔ ہر جرنیل کے بوٹ چاٹتے ھیں۔ وہ جمہوریت پسند ٹھہرتے ہیں؟۔ جو اسٹبلشمنٹ کی بدبودار ٹیم رہے ھیں۔ماضی اور حال میں اسٹبلشمنٹ کے پالتو جمہوری بچونگڑے۔؟۔ یہ لوگ اقتدار سے باہر آکر جمہوریت کے مامے بن گئے ھیں۔؟ پاکستان کی بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ فضل الرحمن اور اسٹبلشمنٹ میں بھی ٹھن گئی ھے۔ ایک دوسرے پر الزامات رکھ رہے ھیں۔ یہ ایک دوسرے کے کانے اور کالے کرتوتوں کے حصہ دار رہے ھیں۔ فضل الرحمن ہر دور میں ن لیگ ، پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی طرح اسٹبلشمنٹ کے بوٹ کا تسمہ رہے۔ ساری گندگیوں ،ساری کرپشنوں، ساری بے ایمانیوں اور عوام دشمن پالیسیوں میں ہمنوائ رہے۔ مولانا فضل الرحمن جیسی شخصیت پر لعنتیں ،الزام در الزام۔ اور شکوہ جواب شکوہ سے محسوس ھوا کہ مولانا واقعی انتہائی گندی اور بدبودار شخصیت ہیں۔جنہیں مولانا کہنا اس لفظ کی توہین ہے۔یہ شخض مفاد پرست ، ابن الوقت مذہبی لْٹیرا ،اور سیاسی ڈاکو ھے۔اربوں پورے کی جائداد کا مالک ھے۔۔ جو درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول اور سیکورٹی حصار میں رہتا ھے۔ ہر حکومت کا خوشامدی اور پروٹوکول کے مزے لوٹتا ہے۔ اسکی غلیظ زبان اور لہجہ اسکی فرعونیت اصلیت اور شخصیت کا احاطہ کرتی ہے۔ نہ اس کا کوئی کاروبار ھے اور نہ بزنس۔ نہ یہ کہیں ملازم ھے اور نہ کوئی ذریعہ معاش۔ یہ سیاسی بلیک میلنگ سے مال بٹورتا ھے۔ اسکا داغدار ماضی حکومتیں بنانے اور اکھاڑنے میں رہا ھے۔ اس کی بار اسے بغیر ہڈی کے تکلیف اٹھ رہی ھے۔نہ ہی ایسے آخرت کا خوف اور نہ ہی اسکے حواریوں کو خوف خدا ھے۔ اسکی پارٹی لیڈرشپ میں اتنی اخلاقی جرآت نہیں کہ اسکے منفی اور منعفت بخش سیاسی کیریر پر انگلی اٹھا سکے۔ یہ سیاسی تاریخ کا وہ گندہ انڈہ ھے جسے مذہب سے کوئی غرض نہیں۔ اسکی سیاست مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کی طرز سیاست ہے۔سیاست میں اسکا کردار انتہائی متعفن رہاہے۔اسمبلی میں ان پر الزامات در الزامات کے جواب میں شکوہ جواب شکوہ نے مولانا کی بدبودار شخصیت کو عیاں کردیا۔مملکت میں زندہ لاشیں اور زندہ بْت اسمبلیوں میں پہنچتے ھیں۔ جنکی زبانوں پر چھالے۔ لبوں پر تالے اس چیز کے غماز ھیں کہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ڈمی لوگ اسمبلی میں پہنچتے ھی چابی والے کھلونے بن جاتے ہیں۔جن کے ریموٹ اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیںجنہیں کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر رسول پر تشریف فرما تھے ایک صحابی اٹھے پوچھا یا رسول اللہ میرے ہمسائے کس جرم میں پکڑے گئے ہیں۔ رسول خدا نے خطبہ جاری رکھا۔ صحابی نے یہی سوال دوبارہ دہرایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ جاری رکھا۔ صحابی رسول نے تیسری بار یہی سوال پوچھا۔ تو رسول خدا نے فرمایا انکے ہمسائے کو چھوڑدیا جائے۔ یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب رسول سوال کرتے تھے۔ اور اور تشفی بخش جواب پاتے تھے۔ آج انبیاء کے ورثاء ان علماء سے سوال نہیں کیا جاسکتا۔؟ مولانا سے انکی کرپشن کا انکے گناہوں کا انکی بدمعاشیوں کا حساب نہیں پوچھا جاسکتا ہے۔فضل الرحمن جیسے گندے انڈے کبھی پی ٹی آئی کو یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں کبھی انکی تعریفیں کرتے ہیں۔کبھی ن لیگ ، کبھی پیپلز پارٹی کے ہمنواء بن جاتے ہیں۔ آجکل پی ٹی آئی کے لئے درد رکھتے ھیں۔ جب سیاسی لوگ اپنے مفادات کے لئے لڑتے ھیں تو اس میں غریب ہی پستے ہیں۔ سزا غریب بھگتتے ھیں۔دشمنیاں غریب پالتے ہیں۔مگر جب مذہبی رہنماء کرپشن کرتا ہے تو دھبہ سب مذہبی جماعتوں پر لگتا ھے۔مفادات کے اسیر سیاسی اور مذہبی گماشتے صرف اپنے اْلو سیدھا کرتے ھیں۔کمپرومائزڈ ھوجاتے ھیں۔ مذہب اور سیاست کو چند سیٹیوں اور ذاتی لالچ کی نظر کردیتے ھیں۔ مگر جب مذہبی لوگ مفادات کے لئے گندے انڈوں سے مل جاتے ھیں وہ مذہبی کو نقصان پہنچاتے ھیں لیکن سیاست کو بھی متعفن کردیتے ہیں۔ یہ وہ ناقابل اعتبار لوگ ہیں۔ ہمیں جن پر قوم نے 79 سال بھروسہ کیا ہے۔ جو ملک لوٹتے ہیں ، ملک پر قرض کا بوجھ لادتے ھیں۔ اور جمہوریت کے مامے بن جاتے ہیں۔ایسے سسٹم اور نظام پر سوال تو اٹھتاھے جو غریب کے مفادات کا تخفظ نہ کرے۔ عام آدمی کو تعلیم ، صحت، روزگار اور انصاف فراہم نہ کرسکے۔ ایسے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر لعنت ھے جو اسمبلی میں بیٹھ کر عوام کی مشکلات کم کرنے کی بات نہ کریں۔ ایسے دین فروش ملاؤں پر تھو ،جو چند ٹکوں پر بک جائیں۔ٹکٹوں کے لئے اپنا ضمیر بیچ دیں۔ ان بے شرموں کی لڑائی کس لئے ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے مہرے آہستہ آہستہ الیکٹیڈ کی جگہ سلیکٹیڈ ماڈل متعارف کرانے کیطرف بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ روز میکسیکو کے ایک رکن پارلیمنٹ نے پوری کپڑے اتار کے اسمبلی میں برہنہ حالت میں آئے اور تقریر میں کہا کہ آپکو مجھے ننگا دیکھ کر شرم آتی ھے۔لیکن باہر سڑکوں پر ننگے پاؤں بھوک سے بلکتے غریبوں اور روزگار کی تلاش میں دربدر پھرنے والے نوجوانوں کو دیکھ کر شرم نہیں آتی جن مزدوروں اور غریبوں کا حق چھین کر جو دولت جمع کی ہے۔ انکی حالت دیکھ کر تمہیں دکھ نہیں پہنچتا۔تم امیر سے امیر تر ھوتے جارہے ھو اور عوام ننگے ،بھوکے اور بے روزگار ہوتے جارہے ہیں۔ تمہارے ضمیر کب جاگیں گے۔ قارئین ! ایک مسلم ملک کی اسمبلوں پہنچنے والوں کی اکثریت جرنیلوں اور فرعونوں کے دست وبازو کیوں بن جاتے ھیں۔ ؟پارلیمنٹیرین کا لفظ ہی ایسا ھے کہ کچے گھروں سے اٹھ کر آنے والے چار پانچ سال میں بڑے بنگلوں کے مالک بن جاتے ھیں۔ موٹر سائیکل والے کڑوڑوں روپے کی گاڑیوں اور کئی کئی سیکورٹی گارڈز کے جلو میں چلتے ھیں۔ انکا غرور تکبر دیکھ کر فرعونیت بھی شرما اٹھتی ھے۔ فرعون محض ایک تاریخی کردار نہیں، بلکہ ایک سوچ، رویے اور نظام کا استعارہ ہے۔ فرعونیت صرف کسی ایک فرد کے ظلم و جبر کا نام نہیں، بلکہ اْس ذہنیت کا نام ہے جو طاقت، اختیار اور اقتدار کے بل بوتے پر دوسروں کے حقوق پامال کرتی ہے اور خود کو جواب دہی سے بالاتر سمجھتی ہے۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی معاشرہ صرف ایک ظالم حکمران یا طاقت ور فرد کی وجہ سے فرعونیت کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ اْس وقت فرعونیت ایک اجتماعی صورت اختیار کر لیتی ہے جب معاشرے کے صاحبِ شعور، صاحبِ اختیار اور صاحبِ استعداد لوگ ظلم دیکھنے کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔ کوئی خوف کی وجہ سے، کوئی مصلحت کے تحت اور کوئی اپنے مفادات کی خاطر ظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔نتیجتاً ظالم کو مزید حوصلہ ملتا ہے، ظلم کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور خاموشی رفتہ رفتہ ظلم کی پشت پناہی بن جاتی ہے۔ یوں ایک فرد کی فرعونیت پورے معاشرے کے رویے اور اجتماعی کردار میں سرایت کر جاتی ہے، اور معاشرہ محض ایک فرعون کا نہیں بلکہ متعدد فرعونوں کا معاشرہ بن جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فرعون صرف وہ نہیں جو ظلم کرتا ہے، بلکہ فرعونیت اْس خاموشی سے بھی طاقت حاصل کرتی ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اختیار کی جاتی ہے۔خدارا! ہوش کیجئے ! پاکستان میں جماعت اسلامی کی شکل میں دیانت و ایمانت کے اہل۔ خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار لوگ موجود ھیں جو پاکستان کا مستقبل سنوار سکتے ھیں۔ یہ نہ اسٹبلشمنٹ کی اے ، نہ بی اور نہ ہی سی ٹیم ھے۔ یہ خوف خدا رکھنے والے لوگ دستیاب ھیں۔ انکا ساتھ دیجئے۔ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ پاکستان کو اس نہج تک پہنچانی والی مافیا۔ اور ان فرعونوں سے ملک کو مخفوظ فرمائے۔ عوام کو حقیقی عقل وشعور عطاء فرمائے تاکہ وہ ملکی فلاح اور اپنے حقوق کے لئے جانوروں کی بجائے انسان کے بچوں کو ووٹ دیں۔ فرعونوں کی جگہ اللہ سے ڈرنے والوں کا انتخاب کریں۔ (آمین یارب العالمین )۔
٭٭٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here