صدر ٹرمپ کتنا بولتے ہیں، اندازے کے مطابق 24 گھنٹے میں سے کم ازکم 18 گھنٹے بولتے ہیں۔ بعض اوقات وہ بولتے بولتے سو بھی جاتے ہیں اچانک آنکھ کھل جائے تو گڑ بڑا جاتے ہیں کہ سہ پہر ہے یا رات کا آخری پڑائو وہ کب کھاتے ہیں کب پیتے ہیں(شراب نہیں) صرف شور اور بعض اوقات بھول بھی جاتے ہیں کہ صحافی برداری نے کیا سوال کیا ہے اور اس کا کیا جواب ہوگا، اندازہ کرلیں ہم نے جو نوٹ کیا ان کے بیانات کا محاصرہ کیا سمجھ نہیں آیا کہ وہ کس سے باتیں کر رہے ہیں کم ازکم امریکنز سے تو نہیں ہوسکتا ہے دوسرے ممالک کے سربراہوں کو کچھ کہہ رہے ہوں ملاحظہ ہو یہ بیان جو انہوں نے آبنائے ہرمز(HO RMUZ) کے تعقل سے دیا ہے ”وہ خود اس سے اپنا بچائو کریں میں کیوں کروں اُن کا بچائو وہ کبھی بھی میرے ساتھ نہیں تھے” ہم معلوم کررہے ہیں کیا کسی نے اُن سے اس بارے میں کچھ کہا ہے اور کرتے رہینگے پھر کہتے ہیں ہم ایران کی رجیم تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ لوگ نہایت اعتدال پسند ہیں”پہلی بار صدر ٹرمپ نے موزوں لفظ استعمال کیا ہے خیال رہے گیس(پٹرول ڈیزل) کے متعلق ایک بیان میں کہا ”بات چیت جاری ہے گیس کی قیمتیں کم ہونگی” کیسے؟ ہمارا سوال ہے ٹرمپ صاحب کا جواب یہ ہی ہونا چاہئے۔ ”جب ہم جائینگے، ایسا ہمارا خیال ہے کہ جب معلوم ہوا دو آئل کمپنیوں نے جن میںEXXON اورMOBIL شامل ہیںضرورت ہے سے زیادہ منافع بنایا ہے جس کا اندازہ نہیں اگر وہ آدھا بناتے تو امریکہ میں اس کی قیمت ساڑھے تین ڈالر گیلن ہوتی۔ اسے کہتے ہیں ”لالچی کمپنیاں اور یہ سب صدر ٹرمپ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور چلتے پھرتے بول رہے ہیں ایک دفعہ تو کسی نے صدر ٹرمپ کو سوتے سے اٹھا دیا اور وہ ہڑ بڑا کر بولے، گیس کی قیمتیں زیادہ ہیں تو مجھے کیا انگریزی کچھ یوں تھا I DONT CARE جی صدر صاحب جاگئے آپ صدر ہیں اور غلطی سے ہم نے ووٹ دیئے تھے آپ نے کچھ وعدہ کیا تھا لیکن اب پلے بوائے کی مانند جو ہر لڑکی سے کہتا ہے ”تم ہی تو ہو جیسے میں پیار کرتا ہوں جب کہ سب کو معلوم ہے وہ سب ہی سے پیار کرتے ہیں سوائے ان صحافی مرد اور عورتوں کو جھاڑ پلا دیتے ہیں وہ سب ہی سے پیار کرتے ہیں سوائے ان صحافی مرد اور عورتوں کو جھاڑ پلا دیتے ہیں جوان سے سوال کریں اور اُن سے جواب نہ بن پڑے بس وہ ”YOU FIRED” نہیں کہتے اس لئے کہ وہ اُن کے ذاتی ملازم نہیں۔ اُن کی کچھ خراب عادتیں ایسی پڑی ہیں، جو وہ اپنے ساتھ اپنے ٹی وی سیریز THE APPRENTICE سے لے آئے ہیں وہ ہی لہجہ وہ ہی انداز۔ لگے کہ راجیش کھنہ غصہ میں ہو یا کسی سے محبت میں اور اس کا بدلنا ایک مشکل کام ہے۔ اور ان کا کہنا ہے باہر ملکوں سے ”ہمت سے کام لو، آگے بڑھو اور ہرمز کی طرف قدم بڑھائو اور قبضہ کرلو”۔ لیکن ٹرمپ صاحب چونکہ صدر ہیں وہ خود کچھ نہیں کرنا چاہتے ضعیف بھی ہیں اور جب آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے تو سٹھیا جاتا ہے ساٹھ کے بعد ملاحظہ ہو وہ ٨٠ سال کے ہیں تو کہینگے ”اٹھیا” گئے ہیں اور ایسے لوگ ربط نہیں رکھ سکتے یہ عمر کا تقاضہ ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ شرارت کر رہے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی وہ عوام کو ہنسانے کے لئے جملے بازی بھی کرتے ہیں۔ جیسے پچھلے دنوں انہیں نکی منہاج(SINGER) کی پشت نظر آگئی اور بھڑک کر بولے”بائی داوے میں تے خوبصورت پچھاڑی(ASS) دیکھے شکل ہے کہ انہیں نظر انداز کردوں۔اور نکی منہاج کو اسٹیج پر بلایا کہ وہ قریب سے دیکھ سکیں مجموعہ جو GENZ پر مشتمل تھانے خوشی سے شور مچایا ہو ہاکی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے صدر ہیں جو نئی جنریشن کا خیال رکھتے ہیں دوسرے ہفتہ ایک سیاست دان عورت نے اپنے مخالف کے لئے سب کو ہنساتے ہوئے کہا”وہ میری پچھاڑی چوم سکتے ہیں”واہ کیا بات ہے یقین کیجئے یہ AI کا کمال نہیں ابھیAIمہذب طریقے سے امریکی سوسائٹی اور اس کے بنیادی ڈھانچہ کو بدلنے میں تیزی سے کام کر رہا ہے جب بہت عام ہو جائیگا تو ٹرمپ صدر کی زبان میں گفتگو کرے گا۔
اور اب بتاتے چلیں کہ اُن کی صدارت کے آخری چھ ماہ کا انتظار نہ کریں ابھی دو سال پورے نہیں ہوئے اور اُن کی مقبولیت صرف33%ہے اور امریکہ کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں سب سے ناکام، اور بدنام صدر ہیں جو اول درجے کے وعدہ فراموش ہیں یہ بھی کمال ہے اور انہیں یقین ہے کہ عوام جلد ہی بھول جاتے ہیں لیکن عوام بھولتے نہیں اس کا ثبوت مڈٹرم الیکشن میں مل رہا ہے جہاں چھ ریاستوں، منی سوٹا، جارجیا، نارتھ کیرولینا، ٹیکساس، مشی گن اور اوہائیو میں کانٹے دار مقابلہ ہے ڈیموکریٹ سے جو51 فیصد سے 55 فیصد تک ریپبلکن سے آگے ہیں سوائے مشی گن کے جہاں ڈیموکریٹ کی ہیلی اسیٹوونس نے ریپبلکن مانک روجزر کی حمایت میں ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں اور مقابلے میں عبدل ال سعید کے لئے معاملہ مشکل میں ہے لیکن جب تک یہ تحریر آپ کے سامنے ہوگی عبدل سعید سینیٹر بن چکے ہونگے جن ریاستوں کے نام لکھے ہیں وہاں ڈیموکریٹ کے ”پیگی فلاناگن” جاں اوساف، رائے کو پرجیمز ٹالہ ریکو اور شیروڈبرائون ہونگے اور لکھتے چلیں ٹرمپ کی برتری ختم ہوچکی ہوگی۔
٭٭٭٭٭











