ایران پر الیکشن سے قبل امریکی حملے عوام کیلئے لمحہ فکریہ

0
1

ایران پر الیکشن سے قبل امریکی حملے
عوام کیلئے لمحہ فکریہ

خلیج فارس کے تزویراتی اور حساس بحری راستوں میں پیدا ہونے والی حالیہ شدید عسکری کشیدگی نے مشرق وسطی کے پورے خطے کو ایک بار پھر ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ جزیرہ قشم پر امریکی فضائی فورسز کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین بمباری اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کی عسکری و سیاسی قیادت کا انتہائی سخت اور بپھرا ہوا موقف سامنے آیا ہے۔ بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے گرد و پیش میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، فضائی حملوں اور باہمی دھمکیوں کے اس ماحول نے نہ صرف علاقائی توازن کو دہمکایا ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی تشویش کی لہر میں مبتلا کر دیا ہے۔ تہران کے اعلی عسکری حکام نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج کی انگلی بندوق کے لبادے پر موجود ہے اور وہ کسی بھی ناگہانی سیکیورٹی پیش رفت کا فوراً اور بھرپور جواب دینے کے لیے ہر لمحہ الرٹ ہیں۔
امریکہ کی جانب سے کی جانے والی اس تلافی جوئی کو واشنگٹن کے انتظامی ایوانوں میں ایک محدود دفاعی اقدام سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد بقول ان کے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں اپنے دفاعی اور مواصلاتی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ تاہم، تہران نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد تہران میں اعلٰی سطحی سیکیورٹی کونسل اور عسکری کمانڈروں کے ہنگامی اجلاس منعقد ہوئے جن میں ملکی دفاعی حکمت عملی کو نئے سرے سے مرتب کیا گیا۔ ایرانی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی خطے کو ایک غیر مستحکم اور غیر یقینی صورت حال کی طرف دھکیل رہی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔سفارتی محاذ پر بھی زبردست تعطل اور تناؤ کا ماحول غالب ہے۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پس پردہ یا بین الاقوامی ثالثوں کی جانب سے دی جانے والی مختلف تجاویز اور فائر بندی کے خاکوں کو تہران نے مکمل طور پر ناکافی اور یکطرفہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ایرانی سفارت کاروں اور ترجمانوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ جب تک ان کی سرزمین پر بلاوجہ عسکری جارحیت اور معاشی دباؤ کا سلسلہ مکمل اور مستقل طور پر ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کی مصالحتی گفتگو یا مذاکراتی عمل کی کامیابی کا تصور کرنا محض ایک خام خیالی ہوگا۔ تہران کے موقف کے مطابق اپنے دفاع کا حق ایک بنیادی قانون ہے اور جب تک سلامتی کی ضمانت نہیں ملتی، وہ اپنے جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے تمام ضروری تدابیر اختیار کرتے رہیں گے۔اس عسکری محاذ آرائی کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز کی حفاظت اور وہاں سے گزرنے والے عالمی تجارتی جہاز رانی کا نظام ہے۔ دنیا بھر کی توانائی کی ترسیل کے لیے یہ شاہراہ نہایت اہم تصور کی جاتی ہے، اور یہاں ذرا سی غیر یقینی صورت حال بھی عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال اور سپلائی چین کے فلج ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ تہران کی طرف سے بحری گزرگاہوں پر کڑی نگرانی اور فوجی تحرک کی خبروں نے عالمی معیشت سے وابستہ حلقوں کے اندر بھی خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے مسلسل ضبط و تحمل اور تناؤ میں کمی لانے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، مگر میدانی حقیقت یہ ہے کہ فریقین کے مابین کسی قسم کی سیاسی لچک کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں مل رہا۔
مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو خلیج کا یہ تزویراتی خطہ اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ایک چھوٹی سی بھول چوک یا اشتعال انگیز قدم پورے مشرق وسطیٰ کو ایک لا متناہی جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ آنے والے ایام اس حوالے سے انتہائی نازک اور اہم ثابت ہوں گے کہ آیا عالمی برادری سفارتی ذرائع کو فعال کر کے اس بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے، یا پھر یہ تصادم مزید طول پکڑ کر خطے کے تمام ممالک کو ایک ہولناک عسکری لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ فی الوقت، تہران اور واشنگٹن کے درمیان سخت بیانات کی جنگ اور سرحدی تحرک نے حالات کو انتہا پسندی کے مقام پر پہنچا دیا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here