کاش کہ ایسا ہوتا!!!

0
118
عامر بیگ

میثاق جمہوریت میں آئینی عدالتوں پر عمران خان سمیت سب جماعتوں کا ایکا تھا مگر ان آئنی عدالتوں کے قیام کے لیے کس آئین اور قانون کا سہارہ لیا گیا جسے بری طرح روند ڈالا گیا جمہوریت میں جمہور کا مطلب ہوتا ہے عوام اور جمہوریت عوام کی لائی ہوئی حکومت ہوتی ہیں جس میں عوام کی مرضی چلتی ہے پر عوام کے منتخب نمائندوں کو تو جیلوں میں ڈالا ہوا ہے ایک ایم این اے کے حلقہ میں دس ہزار کی لیڈ سے جیتنے والے نون لیگ کے مخالف نے اسے چیلنج کیا تو اس حلقہ کی دوبارہ کانٹنگ ہوئی جس میں اس کے چودہ ہزار ووٹ غلط قرار دیکر نون لیگ کے امیدوار کو جتوا دیا گیا فارم پینتالیس والے کیسز کا فیصلہ نہیں ہونے دیا گیا اور جن کا ہوا ان میں فارم پینتالیس دیکھے بغیر بس کسی نہ کسی اور آڑ لیکر فیصلہ نون یا پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے حق میں دے دیا گیا پی ٹی آئی کا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا پر وہ بینگن ٹرک اور جیپ کے نشانوں پر بھی جیت گئے مگر انہیں دھاندلی سے ہروا دیا گیا پی ٹی آئی کو پارٹی نہ گر دانتے ہوئے ان کی مخصوص نشستیں چھین کر بندر بانٹ کے زریعے حکومتی بینچوں کو دے دی گئیں نو مئی کے فالس فلیگ اوپریشن میں سزا کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پی ٹی آئی کے کئی ممبرز نااہل قرار دے دیے گئے نہ آئین میں دی گئی مدت پر الیکشن ہوئے نہ الیکشن کمیشن نے عدالتوں کی بات مانی اور تو اور تین مہینے کی کیئر ٹیکر حکومت کو کس آئین کی تحت نو مہینے تک چلنے دیا گیا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے نومینیسن پیپرز تاج جمع کروانے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور پھر جب آئینی ترامیم ہوئیں تو ممبر قومی اسمبلی یا ان کے لواحقین کو اغوا کر کے زبردستی یا لالچ کے زریعے ترامیم کے حق میں ووٹ دلوائے گئے منظوری تو ہونی تھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی القادر یونیورسٹی کیس میں قید کی سزا کو چیلنج کرنے کے لیے کسی عدالت میں اپیل ہی لگنے نہیں دی جا رہی کس آئین اور قانون کے تحت اس کے میل ملاقاتیوں کو عدالتی حکم کے باوجود خان سے ملنے کی صورت نہیں نکل رہی کون سا قانون اور آئین اجازت دیتا ہے جبکہ انیس سو تہتر کے آئین کے تحت کوئی بھی ایسا قانون نہیں بن سکتا جو اسلامی شعائر کے مخالف بنا ہواور اسلام کسی کو استثنی نہیں دیتا جزا اور سزا کا حکم ہے اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی بھی چوری کرتی تو ہاتھ ضرور کٹتے یہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیوں بھول گئے شاید اسی لیے جسٹس ریٹائر جواد ایس خواجہ نے ستائسویں آئینی ترمیم کر چیلنج کر دیا ہے لیکن ابھی سے کہے دیتے ہیں کہ ہوگا کچھ نہیں ڈنڈے کے آگے کس کا زور چلتا پنجابی کا محاورہ ہے کہ رب نیڑے کہ کسن مطلب اللہ نزدیک ہے یا گھونسا تو سب کو معلوم ہے کی یہ ترامیم کیوں اور کس لیے کی جارہی ہیں ان کی آڑ میں کیا گل کھلائے جائیں گے اور کن کن کو فائدہ اور کن کو نقصان پہنچے گا اگر ترمیم ہی کرنی تھی تو کھل کر آرمی چیف کو کابینہ کا حصہ بناتے تاکہ کارکردگی کا بھی پتا چلتا۔ مگر ان سب کے لیے بھی سب سے پہلے ایک ایسی الیکٹورل باڈی تشکیل دینا از حد ضروری تھا کہ جس پر انگلی اٹھانے کی جرات کسی ایک مخالف کو بھی نہ ہوتی کاش کہ ایسا ہوتا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here