تہران (پاکستان نیوز)ایران اپنی موجودہ 60 فیصد یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کر کے 20 فیصد کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ افزودگی کا 90 فیصد نیوکلیئر بم وار ہیڈز، 60 فیصد نیوکلیئر آبدوز ایندھن، 20 فیصد نیوکلیئر میڈیکل ادویات اور 5 فیصد بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بشرطیکہ امریکہ ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے، اقتصادی پابندیاں ہٹائے، خطے سے فوجیں نکالے، اور بیلسٹک میزائل پروگرام اور مزاحمتی قوتوں کی حمایت جیسے معاملات کو مذاکرات سے دور رکھے تاہم امریکی مؤقف یہ تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو صفر کی سطح پر لے جائے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکا سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو بے وقوف ہو گا۔امریکی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں 10 طیارے گرائے جا چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے، ٹیرف کا استعمال نہ کرتا تو وہ ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی ایٹمی جنگ بن سکتی تھی، میری رائے میں وہ واقعی شدید لڑائی لڑ رہے تھے۔دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی حکام ایرانی تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر غور کر رہے ہیں۔امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر بات ہوئی ہے۔امریکی حکام کو ایران کی جوابی کارروائی اور عالمی تیل منڈیوں پر اثرات کا خدشہ ہے۔یاد رہے کہ وزیر خزانہ اسکاٹ کینتھ نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ڈالر کی شدید قلت پیدا ہونے کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار تھا۔ غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک سینیٹر نے ایران پر دبائو بڑھانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات سے متعلق سوال کیا ۔ رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران میں مالی دبائو بڑھا اور ایک ایرانی بینک دسمبر میں دیوالیہ ہو گیا، جس سے معاشی بحران مزید شدید ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مرکزی بینک کو نوٹ چھاپنے پڑے ، جس کے باعث ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی آئی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ امریکی میڈیا کے مطابق دبائو کی پالیسی کے تحت واشنگٹن نے ایران کی تیل برآمدات کو بھی شدید حد تک محدود کیا، جس سے ایران کی معیشت مزید دبائو کا شکار ہوئی۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کرنسی کی گراوٹ کے خلاف ایران میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ کچھ غیر مکی رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ بعض منظم گروہوں نے مظاہروں میں شامل ہو کر تشدد کو ہوادی ، تاہم ان دعوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ ایران میں معاشی مشکلات اور سیاسی کشیدگی کے باوجود حکومتی نظام برقرار رہا۔









