حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے!!!

0
34

سر زمینِ فلسطین اور خاص طور پر غزہ کے مظلوم و مجبور باشندگان کیلئے آزمائشوں کا بھیانک دور ختم ہونے کو نہیں دے رہا۔ صعوبتوں کے اس طویل دور کا ایک اور ماہِ رمضان سایہ فگن ہو چکا ہے۔ حال ہی میں شہید ہونے والی مساجد کے کھنڈرات میں رمضان کی عبادات کا اہتمام ہوتے دیکھا تو دل پر ایک عجیب و غریب کیفیت طاری ہو گئی ۔ انتہائی نحیف و نزار بچے، کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بے گھر ہوجانا بھی بہت بڑی آزمائش ہے لیکن جب اس کے ہمراہ زندگی کی تمام ضروری سہولتیں بھی ناپید ہو جائیں تو ایسا گزر بسر صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کا ایمان مضبوط ہو اور اپنی دھن کے انتہائی پختہ ہوں۔ افتخار عارف کے الفاظ میں، غزہ کے لوگ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ!
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
پچھلی ایک صدی سے، صیہونی طاقتوں نے جس طرح سرزمینِ فلسطین کو اپنی ہر طرح کی چیرہ دستیوں کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، اس کی مثال دنیا کی معلوم تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں اب حالات نے کچھ کروٹ تو لی ہے۔ ظالم و جابر قوتوں کے خلاف رائے عامہ کے انداز بدل رہے ہیں۔ مغربی طاقتیں اپنی نئی نسلوں کے دبا کا شکار ہوتے ہوئے، اپنا دیرینہ مقف تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ اس سب کو دیکھتے ہوئے صیہونی طاقتیں بھی موجودہ ورلڈ آرڈر کے زوال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس میں اپنی پسند کی ترامیم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ صرف مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے وہ چاہتی ہیں کہ بدکردار اور لالچی، نام نہاد مسلمان حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کمزور اور غریب فلسطینیوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ اس کام کیلئے اقوامِ متحدہ کے ادارے کو مزید کمزور کر کے امن بورڈ جیسی تنظیم قائم کردی گئی ہے۔ مکر و فریب کے یہ جال نہ جانے کتنے کارگر ثابت ہونگے لیکن فی الحال تو صیہونی ریاست کا مستقبل اسی تعمیر کی مرہونِ منت نظر آرہا ہے جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا کہ!
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
غزہ کی نام نہادتعمیر نو کیلئے کئے جانے والے معاہد ابراہیمی میں تین بڑے بنیادی سقم پائے جاتے ہیں۔ا۔ غزہ کے مسلمانوں کو غیر مسلح کر کے جنگی مجرمان کے سامنے پھینک دینا۔ 2۔ فلسطین کی آزاد و خود مختار ریاست کا منصوبہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ترک کر دینا3۔ صیہونی اور ان کے ہمنواں کی جانب سے کئے جانے والے سارے جنگی اور غیر جنگی جرائم کو نظر انداز کر کے ان کے ماخذے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہضم کر جانا۔ان جیسی شرائط کو دیکھ کر ہی شائد افتخار عارف نے یہ اشعار کہے ہونگے۔
حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
ہم اہلِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے
اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
بیچ آئے سرِ قری زر جوہرِ پندار
جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے
شہ کا مصاحب ہونا بھی کتنی ذلت کا کام ہوتا ہے، اس کا اندازہ امریکی صدر کی آجکل کی سجائی ہوئی محفلوں میں شریک درباری حکمرانوں کی حالتِ زار دیکھ کر ہوتا ہے۔ قیادت کی گراوٹ کے آجکل کے حالات پر تو صرف علامہ اقبال ہی کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں۔ غلام قادر روہیلہ کے اس مشہور سونے کا ڈرامہ کرنے والے واقعہ کی نظم کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
رہیلہ کس قدر ظالم جفاجو کینہ پرور تھا
نکالیں شاہ تیموری کی آنکھیں نوک خنجر سے
دیا اہل حرم کو رقص کا فرماں ستمگر نے
یہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے
بھلا تعمیل اس فرمان غیرت کش کی ممکن تھی
شہنشاہی حرم کی نازنینان سمن بر سے
بنایا آہ سامان طرب بیدرد نے ان کو
نہاں تھا حسن جن کا چشم مہر و ماہ و اختر سے
پھر اٹھا اور تیموری حرم سے یوں لگا کہنے
شکایت چاہیے تم کو نہ کچھ اپنے مقدر سے
مرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھی تکلف تھا
کہ غفلت دور ہے شان صف آرایان لشکر سے
یہ مقصد تھا مرا اس سے کوئی تیمور کی بیٹی
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here