آبنائے ہرمزکی بندش ؛معاشی بحران کا باعث

0
10

نیویارک (پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، بالخصوص ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے بعد آبنائے ہرمزکی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جہاز رانی پر پابندی کے اشاروں نے عالمی معیشت، بالخصوص جنوبی ایشیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20% سے 30% حصہ گزرتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے اس کی اہمیت کلیدی ہے۔ بھارت اپنی ضرورت کا 90% خام تیل درآمد کرتا ہے، جس کا تقریباً 50% سے 65% حصہ اسی راستے سے آتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات اور قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس (LNG) کا واحد راستہ یہی ہے، جو بجلی کے کارخانوں اور صنعتوں کے لیے ایندھن فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ بحری راستہ طویل عرصے کے لیے بند ہوتا ہے یا یہاں حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے، تو اس کے اثرات کسی سونامی سے کم نہیں ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت $100 سے $120 فی بیرل تک جا سکتی ہے، جبکہ مکمل بندش کی صورت میں یہ $130 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ مزید برآں، جہاز رانی کے انشورنس پریمیم میں 50% تک اضافے اور مال برداری کے اخراجات میں 25ـ30% اضافے کا خدشہ ہے، جس سے بھارت اور پاکستان کی کرنسیوں پر دباؤ بڑھے گا اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ حالیہ خبروں کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز میں ریڈیو پیغامات کے ذریعے بحری جہازوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں اس راستے سے گزرنے والی ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ درجنوں ٹینکرز کھلے سمندر میں لنگر انداز ہو کر حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگرچہ بھارت نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی پائپ لائنز جیسے متبادل راستوں پر غور شروع کر دیا ہے، لیکن یہ سمندری راستے کا مکمل نعم البدل ثابت نہیں ہو سکتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش جنوبی ایشیا کے لیے صرف ایک توانائی کا بحران نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی بحران ثابت ہو سکتا ہے، جو ان ممالک کے مالیاتی خسارے کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here