نیویارک (پاکستان نیوز) کثیر المشاع رائیٹرز/ایپسوس پول کے مطابق، ایران کیخلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائیآپریشن ایپک فیوری کو امریکی عوام کی جانب سے بہت کم پذیرائی مل رہی ہے۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ صرف 27 فیصد امریکی ان حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ 43 فیصد نے اس کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ اس آپریشن کے دوران، جس میں اسرائیل بھی امریکہ کا شراکت دار ہے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ حکام کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی صبح تک تین امریکی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے ہیں۔ سیاسی طور پر امریکی عوام اس معاملے میں بری طرح منقسم نظر آتے ہیں۔ریپبلکنزکے 50 فیصد سے زائد اس کارروائی کے حق میں ہیں۔جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے صرف 7 فیصد نے حمایت کی، جبکہ 74 فیصد سراپا احتجاج ہیں۔غیر سیاسی حلقوں میں یا عام تاثرمیں 60 فیصد غیر جانبدار امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ فوجی طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ، جنہوں نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں غیر ملکی جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، اب بیک وقت ایران، وینزویلا، شام اور نائیجیریا میں فوجی مہم جوئی میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اپنی “ماگا” بیس سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ 90 ملین آبادی والے اس ملک میں یہ فوجی عمل تقریباً چار ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔












