انسانی تہذیب کی پوری تاریخ دراصل ان ہاتھوں کی داستان ہے جو مٹی کو سونا بنانے اور پتھروں سے زندگی تراشنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کائنات کا حسن اور شہروں کی تمام تر رعنائیاں اس محنت کی مرہونِ منت ہیں جو کسی ستائش کی تمنا کیے بغیر اپنا فرض نبھاتی ہے۔ جب ہم اپنے اردگرد بلند و بالا عمارتوں کے سائے، سڑکوں کا جال اور زندگی کی تیز رفتاری دیکھتے ہیں تو درحقیقت یہ اس عظیم محنت کا اعتراف ہوتا ہے جو معاشرے کی بنیادیں استوار کرتی ہے۔ محنت صرف بقا کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسانی وقار کی سب سے اعلیٰ صورت ہے جو انسان کو خودداری اور خود اعتمادی کے زیور سے آراستہ کرتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حلال رزق کی خاطر مشقت کرتا ہے وہ اس کائنات کے نظم کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اسی محنت کی عظمت کو سلام پیش کرنے اور محنت کشوں کے حقوق کو اجاگر کرنے کے لیے یکم مئی کا دن دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ جس مزدور کی ہمت سے ترقی کا پہیہ چلتا ہے اسے معاشرے میں وہی مقام اور عزت ملنی چاہیے جس کا وہ حقدار ہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ رہا ہے کہ اکثر اوقات یہ طبقہ سخت محنت کے باوجود بنیادی حفاظتی سہولتوں سے محروم رہتا ہے۔ اکثر ہسپتالوں کے ہنگامی وارڈز میں دیکھے گئے وہ مناظر دل دہلا دیتے ہیں جہاں کام کے دوران پیش آنے والے حادثات کسی ہنستے بستے گھرانے کی خوشیاں چھین لیتے ہیں۔ کسی کا اونچی عمارت سے گر جانا یا بجلی کے جھٹکے کا شکار ہونا محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا حفاظتی سرپوش، دستانے اور جوتے فراہم کرنا ایک انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہیں۔
آج جب 2026 میں ہم اس دن کو منا رہے ہیں تو اس سال کا عالمی عنوان ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں مزدوروں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ بدلتے ہوئے موسم اور بڑھتی ہوئی حدت اب محنت کشوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ اب کام کے محفوظ ماحول کا تصور صرف حادثات سے بچاؤ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں شدید موسم سے تحفظ اور کام کے سازگار اوقات کی فراہمی بھی شامل ہو چکی ہے۔ سماجی تحفظ اور طبی سہولیات وہ بنیادی حقوق ہیں جو ایک مزدور کو مستقبل کے خوف سے آزاد کرتے ہیں۔ جب ایک محنت کش کو یہ یقین ہوتا ہے کہ بیماری یا معذوری کی صورت میں ریاست اور ادارہ اسے تنہا نہیں چھوڑیں گے تو اس کی کارکردگی اور وطن سے محبت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی ترقی صرف معاشی اعداد و شمار یا کنکریٹ کے ڈھانچوں کا نام نہیں بلکہ یہ محنت کش کی زندگی میں آنے والے اطمینان سے پہچانی جاتی ہے۔ جس معاشرے میں محنت کی قدر ہو اور مزدور کو محفوظ ماحول میسر ہو وہی معاشرہ پائیدار ترقی کی منزل پا سکتا ہے۔
یکم مئی ہمیں یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ جب تک مزدور محفوظ اور باوقار نہیں ہوگا ہماری ترقی کا ہر دعویٰ نامکمل رہے گا۔













