بلاشبہ پاکستان کو پہلی مرتبہ کو اس کی مختصر تاریخ میں ماضی کی قدیم طاقت ایران اور موجودہ صدی کی واحد طاقت امریکہ کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا موقع ملا ہے جس سے پاکستان زیرو سے ہیرو بن گیا ہے۔ جس کا کبھی وہم گمان نہ تھا کہ وہ ملک جو بھارت کے ساتھ جنگ جدل میں مبتلا ہو۔ امریکی پروگسی جنگیں لڑ چکا ہے جس میں سینٹو، سیٹو، افغان جہاد یا فساد یا پھر ڈگیا کھوتے توں تے غصہ کمار پر والی دہشت گردی کی جنگ، افغانستان پر مسلط جنگ، کشمیر کی آزادی کا حامی، کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں مبتلا، دہشت گردی کی گرے لسٹ کا شکار جس کو بھارت جیسا مکار اور دھوکے باز ملک دن رات رسوا کر رہا ہو۔ وہ ملک نہ جانے کیسے اور کیوں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے چُن لیا گیا ہے کہ وہ آج دو سابقہ اور موجودہ طاقتوں ثالث بنا ہوا ہے۔ جس کا کریڈٹ صرف اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے کہ جنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے صلح خانوں کو رد کرتے ہوئے پاکستان کو اپنا ثالث منتخب کیا ہے کہ جس پر آج بڑے بڑے جوگارڈی حیران اور پیشمان ہیں کہ آج جنیوا جیسا صلح خانہ بھی سوچنے پر مجبور ہوگا کہ اب جنگوں کے صلح نامے یورپ میں نہیں ایشیا میں ہوا کریں گے۔ بشرطیکہ جنوبی ایشیا ایک ملک بھارت اپنی شیطانیت سے باز آجائے۔ جو امن کا دشمن ہے اور دن رات پاکستان کے خلاف زہر اگلتا نظر آتا ہے ابھی کل کی بات ہے کہ افغان جنگ کا روس، امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان معاہدہ امن جنیوا میں ہوا تھا یا پھر ناروے کے دارلخلافہ اوسلو معاہدہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہوا تھا۔ جس کو اسرائیلی حکمران نے رد کرتے ہوئے ناکام بنا دیا جس میں اوسلو معاہدے کے میں شریک اسرائیل کے وزیراعظم روبین جاتک اور فلسطینی قیادت یاسر عرفات کو قتل کر دیا گیا تھا۔ جس کے ثالث امریکی صدر بل کلنٹن کو مانکالیونسکی جنسی اسکینڈل میں پھنسا دیا تھا جس کے بعد دنیا بھر میں اوسلو معاہدے کا ذکر تک باقی نہ رہا۔ اسی طرح کا جنسی اسکینڈل کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو درپیش ہے۔ جس پر بلیک ویلروں کو منہ کی کھانا پڑے گی کیونکہ صدر ٹرمپ جنسی، مالی، اخلاقی اسکینڈلوں سے میسر ہیں جن پر دنیا کا کوئی اسکینڈل کام نہیں کرسکتا ہے اگر صدر ٹرمپ نے ایران مذاکرات میں کامیابی حاصل کرلی تو وہ اسرائیلی طاقت کو بش پشت ڈال کر فلسطین کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے امن کے ایوارڈ کا حق دار بن جائے گا۔ بشرطیکہ ان کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی خفیہ طاقت جس کے قبضے میں تمام ساہوکاری نظام، مالیاتی ادارے، ٹیکنالوجی کی ملکیت ہے۔ جو آج اسرائیل کی توسیع پسندی پر عمل کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کو ہزاروں سالوں کے بعد حضرت نوج علیہ اسلام کے باغی اور طوفان اعظم میں فنا ہونے والے بیٹے کفعان کے نام پر قائم قدیم سلطنت کفعان بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ جس میں عراق، سعودی عرب، شام، لبنان اور مصر وغیرہ شامل ہونگے جس کا شکار ٹرمپ ہوسکتا ہے۔ جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں جس کے لئے دوسری بیٹھک کے امکانات باقی ہیں۔ کہ جس میں فیصلہ ہوگا کہ ایرانی یورینیم کا کیا ہوگا۔ خلیج فارس پر کس کا قبضہ ہوگا جس کی بندش سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔ تاکے پوری دنیا کی بے چینی کو روکا جاسکے۔ بہرحال جنگ بندی لازم ملزوم بن چکی ہے کہ جس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے کہ آج لوگوں کے تیل سے جلنے والے چولہے تک بند ہوچکے ہیں جس کی قلت کی بنا پر دنیا بھر میں ہر شے کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ اگر یہ جنگ بندی ناکام ہوئی تو شاید پوری دنیا میں شدید ردعمل ہوگ جس میں جنگ میں ملوث فریقین کے کاروبار بڑی طرح متاثر ہونگے جس میں جنگجوئوں کو دنیا بھر میں ہٹلر کی طرح نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











