مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور نیلگوں سمندری وسعتوں میں طاقت کا وہ توازن جو دہائیوں سے ایک خاص رخ پر استوار تھا، اب یکسر بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری اعصاب شکن معرکہ آرائی نے ایک ایسے موڑ پر دستک دی ہے جہاں قدیم سفارتی اصول اپنی اہمیت کھو چکے ہیں اور میدانِ جنگ کی تلخ حقیقتوں نے مذاکرات کی میز پر نئے ضابطے مرتب کر دیے ہیں۔ تہران نے حالیہ برسوں کے تجربات اور بالخصوص فروری 2026 کے عسکری ٹکراؤ کے بعد یہ باور کرا دیا ہے کہ اب وہ دفاعی حصار سے نکل کر جارحانہ سفارت کاری کے اس مقام پر کھڑا ہے جہاں شرائط کا تعین واشنگٹن نہیں بلکہ وہ خود کرے گا۔ اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال ہے، جسے ایران نے اپنی بقا اور عالمی معیشت کی شہ رگ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی قیادت کا یہ دو ٹوک موقف کہ جب تک سمندری گزرگاہوں پر عائد پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کی گفتگو ممکن نہیں، عالمی سیاست میں ایک بڑا زلزلہ ثابت ہوا ہے۔
اس تزویراتی تبدیلی کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی حکمتِ عملی اب تین واضح مراحل میں منقسم ہو چکی ہے۔ پہلا مرحلہ دشمنی کے مکمل خاتمے اور خطے میں جنگ بندی کی ضمانت سے عبارت ہے، جس میں کسی بھی قسم کے ایٹمی سمجھوتے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ پہلے اس کی سرحدوں اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور جب تک امن کی ٹھوس بنیادیں فراہم نہیں ہو جاتیں، وہ اپنے دفاعی اثاثوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسرا مرحلہ معاشی اور تجارتی آزادی کا ہے، جس کا مرکز آبنائے ہرمز ہے۔ تہران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی بلا تعطل فراہمی اب یک طرفہ رعایت نہیں ہوگی بلکہ یہ ایرانی بندرگاہوں کی آزادی سے مشروط ہے۔ یہ ایک ایسی معاشی مساوات ہے جس نے امریکی پالیسی سازوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ عالمی معیشت میں توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست مغربی ممالک کے اندرونی سیاسی استحکام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تیسرا اور آخری مرحلہ ایٹمی مذاکرات کا ہے، جسے تہران نے اپنی ترجیحات میں سب سے آخر میں رکھا ہے۔ یہ اس قدیم امریکی روش کا الٹ ہے جہاں واشنگٹن ہمیشہ ایٹمی فائل کو ہر گفتگو کا نقطہ آغاز بناتا تھا۔ اب ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس کھیلنے کے لیے صرف ایک ہی پتہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت، خطے میں اس کے تزویراتی گہرے اثرات اور جدید عسکری ٹیکنالوجی میں اس کی خود کفالت اسے ایک مضبوط فریق بناتی ہے۔ حالیہ تنازع کے دوران قبضے میں لیے گئے جدید ترین امریکی ہتھیاروں کی واپسی اور ان پر کی جانے والی الٹی انجینئری نے تہران کے اعتماد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ ہتھیار اب محض لوہے کے ٹکڑے نہیں رہے بلکہ وہ ایران کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا وہ شارٹ کٹ بن چکے ہیں جن کے حصول کے لیے اسے برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر درکار ہوتے۔
دوسری جانب واشنگٹن کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کے پرانے اتحادی بھی اب بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان اور عمان جیسے ممالک کا بطور ثالث انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ ایران اب براہِ راست امریکی دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے علاقائی تعاون کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ یہ گمان کیا تھا کہ پابندیاں اور فوجی دھمکیاں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گی، لیکن 2026 کے زمینی حقائق نے اس مفروضے کو ریت کی دیوار ثابت کر دیا۔ آج کا ایران اپنی طاقت کو پرکھنے کے بعد ایک ایسے اعتماد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہے جہاں وہ اپنی شرائط پر سودے بازی کر سکے۔ طاقت کا یہ نیا توازن بتاتا ہے کہ اکیسویں صدی میں غلبہ صرف طیارہ بردار بحری جہازوں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ جغرافیائی محلِ وقوع کا درست استعمال اور معاشی مفادات کی گرہ گری کسی بھی بڑی طاقت کو مذاکرات پر مجبور کر سکتی ہے۔ امریکہ کے لیے اب واپسی کا راستہ کٹھن ہے، کیونکہ اسے ایک ایسے حریف کا سامنا ہے جس نے جنگ کی آگ میں تپ کر اپنی سفارتی اور عسکری صلاحیتوں کو کندن بنا لیا ہے۔
٭٭٭












