ملک میں ڈاکوؤں کا راج!!!

0
8
شبیر گُل

مملکت خداداد پر کبھی چھوٹے چور اور کبھی بڑے ڈاکوؤں کو اقتدار پر مسلط کیا جاتا ہے جو اس بوسیدہ نظام کے اہم کل پرزے ہیں۔ ماضی میں صرف چینی، تیل اور بجلی مافیا کا ذکر ہوتا تھا مگر اب چکن، دودھ، گندم اور چاول مافیا بھی انہی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ملکی معیشت، زراعت اور ہر بڑی صنعت پر یہی لوگ یا ان کے چیلے چانٹے قابض ہیں اور قومی وسائل پر ان کا قبضہ اس قدر مضبوط ہے کہ عوام کی قسمت کے فیصلے اب انہی ہاتھوں میں محصور ہیں۔
حالیہ دنوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کو صدارت سے ہٹایا جا رہا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر ایک سو بلین ڈالرز دبئی میں سرمایہ کاری کر رکھے ہیں۔ قارئین، زرداری تو اس دیگ کا محض ایک دانہ ہیں کیونکہ ملک کو شریفوں، زرداریوں اور جرنیلوں نے مل کر لوٹا ہے اور انہوں نے مختلف ممالک میں اپنا سرمایہ محفوظ کر رکھا ہے۔ ان کے دو سو ارب ڈالرز سوئٹزرلینڈ جبکہ کئی ہزار ارب کی سرمایہ کاری دبئی، لندن اور امریکہ میں موجود ہے۔ کوئی وزیراعظم بنتا ہے تو کوئی صدر، مگر حقیقت میں یہ لٹیرے اسی نظام کے اہم مہرے ہیں جو بجلی اور گیس کے منصوبوں پر بھی قابض ہیں۔
ماضی کی معروف اداکارہ شبنم نے اپنے دورہ پاکستان پر ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کی ترقی دیکھ کر حیران ہیں کیونکہ جو شخص ماضی میں ان کی فلموں کے ٹکٹ بلیک کرتا تھا وہ اج صدر پاکستان ہے۔ اس صورتحال کے باوجود قوم غفلت کی نیند سو رہی ہے، بالخصوص سندھ کے حالات افسوسناک ہیں جہاں وڈیرہ شاہی سے نکلنے کی امنگ مفقود ہے اور صرف ایک مخصوص انتخابی نشان اور نعروں پر سمجھوتہ کر لیا جاتا ہے۔ یہ نظام کی سنگین ناانصافی ہے کہ بیس لاکھ روپے تنخواہ لینے والا مفت بجلی، گیس اور دیگر مراعات سے لطف اندوز ہوتا ہے جبکہ پندرہ ہزار روپے کمانے والا غریب ان تمام سہولیات کو مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے۔
ان مفاد پرستوں کے ساتھ پیروں اور مولویوں کا ایک طبقہ بھی شریک ہو چکا ہے۔ کسی نے درست کہا تھا کہ اسرائیل کی کل آبادی اتنی نہیں ہے جتنی ہمارے ملک میں پیروں اور مولویوں کی تعداد ہے، مگر اس کے باوجود نہ دعائیں قبول ہوتی ہیں اور نہ ہی کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے کیونکہ عوامی استحصال میں ان کا کردار بھی سیاسی لٹیروں سے کم نہیں۔ جب حق کی آواز اٹھانے والے مراعات کے بدلے خاموش ہو جائیں تو عوامی حقوق کی بات صرف جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمن کے حصے میں آتی ہے، جنہیں یا تو ووٹ نہیں ملتے یا پھر اسٹیبلشمنٹ نتائج تبدیل کر کے اپنے پسندیدہ افراد کو مسلط کر دیتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں زرداری ملک سے جائیں یا بلاول آئیں، یہ سب معاشی دہشت گرد ہیں جن کے پالتو جانوروں کو تازہ گوشت میسر ہے جبکہ عوام ہڈیوں کو ترستے ہیں۔ حافظ عاصم منیر ہوں، نواز شریف، زرداری، فضل الرحمن یا عمران خان، ان کا عوامی مسائل سے کوئی حقیقی تعلق نہیں بلکہ یہ اقتدار کے بھوکے گروہ ہیں جو کبھی مذہب اور کبھی فلسفے کے نام پر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن فارم 47 پر فلسفہ جھاڑ رہے ہیں جبکہ وہ خود اسی نظام کی پیداوار ہیں۔ یہ مکار ٹولہ ہر بار نئے نعروں کے ساتھ سامنے آتا ہے اور آئینی ترامیم کے ذریعے اپنی بددیانتی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
کراچی کے حالات پر نظر ڈالیں تو وہاں پلاٹ مافیا کا راج ہے اور عوام نے پروفیسر غفور احمد، سید منور حسن، نعمت اللہ خان اور حافظ نعیم الرحمن جیسے مخلص رہنماؤں کی قدر نہیں کی۔ حکمرانوں نے اب سورج کی روشنی یعنی سولر پر ٹیکس لگا کر اپنی بے حسی کی انتہا کر دی ہے۔ ایک طرف اربوں ڈالرز بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں اور گورنر پچیس کروڑ کی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، دوسری طرف عوام پر پٹرول اور بجلی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صرف جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جو حقیقی عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے۔ اللہ رب العزت نے پاکستان کو بے شمار وسائل اور معدنیات سے نوازا ہے، اگر ان سے فائدہ اٹھانا ہے تو ان لٹیروں سے جان چھڑانا ہوگی اور جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہوگا جو ملک میں عدل و انصاف کا معاشرہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here