واشنگٹن (پاکستان نیوز)ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دھمکی آمیز انتباہ اور سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں اللہ کی تعریف پر مبنی جملے کا استعمال عالمی سطح پر شدید بحث اور حیرت کا باعث بن گیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ ایک پیغام میں ایران کو سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے انہیں قتل کرنے یا ایسی کسی کوشش کی حمایت کی تو اس کا ہولناک جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1000 میزائل بالکل تیار حالت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف رخ کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی کارروائی کی صورت میں ہزاروں مزید میزائل فوری طور پر داغے جائیں گے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکی فوج کو پہلے ہی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور وہ 1 سال کی مدت کے لیے، جس میں توسیع بھی ممکن ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر ملیا میٹ اور تباہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار اور مستحکم ہے۔ تاہم، جس چیز نے مبصرین اور تجزیہ کاروں کو سب سے زیادہ حیران کیا، وہ اس انتہائی سخت فوجی دھمکی کے اختتام پر ان کا عربی انداز میں اللہ کا شکر ہے لکھنا تھا۔ اس بیان پر سابق امریکی حکام، صحافیوں اور سیاسی ماہرین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی ناقدین نے اس زبان کو سفارتی آداب کے منافی اور انتہائی غیر سنجیدہ قرار دیا ہے جبکہ مسلم حقوق کی تنظیموں نے ماضی میں بھی ٹرمپ کی جانب سے اسلامی اصطلاحات کے اس طرح کے استعمال کو مذہب کا مذاق اڑانے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب ایران میں سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے دوران ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی دیکھنے میں آئی تھی۔










