اسرائیل کیساتھ تعلقات پر اعتراضات؛ دفاعی بجٹ کم کرنیکا مطالبہ

0
8

واشنگٹن (پاکستان نیوز)ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز کے ایک گروپ نے اپنے ساتھی ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ قومی دفاعی منظوری ایکٹ یعنی ملکی دفاعی بجٹ بل کی پیشرفت کو اس وقت تک روک دیں جب تک ایوان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی شقوں پر تفصیلی بحث نہیں کر لی جاتی۔ ریاست میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کرس وان ہولن کی قیادت میں لکھے گئے ایک خط میں قانون سازوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈیموکریٹک ارکان کو ایسے اقدامات کے حق میں ووٹ نہیں دینا چاہیے جو امریکی صدر کو نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے پر مجبور کریں۔ اس خط پر کرس وان ہولن کے علاوہ الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف میرکلے اور برنی سینڈرز جیسے اہم رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس رواں سال کے دفاعی بجٹ کا مسودہ تیار کر رہی ہے، جس میں اسرائیل کے ساتھ عسکری اور انٹیلیجنس تعاون کو بڑھانے اور مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی کی تحقیق کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ ایوان نمائندگان کے رکن رو کھنہ نے بھی ان شقوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات امریکی فوج کو اسرائیلی فوج کے ساتھ ضم کر دیں گے جس سے امریکی خودمختاری متاثر ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے لیے روایتی حمایت میں آنے والی واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں حالیہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹک ووٹرز میں اسرائیل کی مقبولیت 2018 میں 59 فیصد کے مقابلے میں گر کر اب صرف 22 فیصد رہ گئی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here