حساس نشستوں پر فتح کیلئے 30 ملین ڈالرز مختص

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز) امریکی سیاست میں نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات کا معرکہ جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، حکمران ریپبلکن پارٹی کے اندر سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں پر اپنا سیاسی غلبہ اور کنٹرول برقرار رکھنے کے حوالے سے سخت تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم سے وابستہ انتہائی قریبی اور سینئر مشیروں نے نجی ملاقاتوں اور غیر رسمی گفتگو کے دوران اس تلخ حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت قائم رکھنے کی امیدیں انتہائی تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ پارٹی کے لیے پیدا ہونے والی اس سنگین اور ناہموار صورتِ حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالاآخر اپنے ذاتی سیاسی فنڈ سے لاکھوں ڈالر جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ ان ریپبلکن امیدواروں کی مالی معاونت کی جا سکے جو مقابلے کے سخت ترین م?دانوں میں خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ابتدائی منصوبہ بندی کے تحت اس خصوصی سیاسی فنڈ سے 30 ملین ڈالر کی بھاری رقم فوری طور پر مختص کی جا رہی ہے، جسے آنے والے ہفتوں اور روزمرہ کی اشتہاری و انتخابی مہمات کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے گا۔اس تمام سیاسی ہلچل کے پس منظر میں اہم ترین عوامل مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جنگ اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ ان دونوں بحرانوں نے عام شہریوں کے اندر شدید معاشی و جذباتی بے چینی پیدا کر دی ہے اور عوامی غصے میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے تجربہ کار رہنماؤں اور حکمتِ عملی سازوں کو یہ شدید خوف لاحق ہو چکا ہے کہ غصے اور مایوسی کی اس لہر کے نتیجے میں پارٹی کے معتبر اور بنیادی ووٹرز کی بہت بڑی تعداد پولنگ کے روز ووٹ ڈالنے کے بجائے اپنے گھروں پر بیٹھی رہ سکتی ہے۔ اس خطرناک اور پیدا شدہ سیاسی خلا سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے آخری اور حتمی مرحلے کے دوران ہر ہفتے کم از کم ایک بار مختلف اہم، نازک اور فیصلہ کن انتخابی حلقوں کا دورہ کرنے اور بڑے عوامی جلسوں سے ذاتی طور پر خطاب کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ خود ریپبلکن پارٹی کی صفوں کے اندر سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ صدر کی طرف سے انتخابی میدان میں اترنے اور مالی وسائل جاری کرنے کا یہ اقدام انتہائی تاخیر سے اٹھایا گیا ہے اور شاید اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکیں، تاہم سفید فام گھرانے کی ترجمان نے سرکاری ردِعمل میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صدر ملک کی مضبوط سرحدوں، سیکیورٹی اور معاشی اصلاحات جیسے نمایاں کارناموں کو بنیاد بنا کر اپنی پارٹی کو کامیابی کی طرف لے جانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم اور متحرک ہیں۔ دوسری جانب، اوول آفس کے اندر صحافیوں اور میڈیا نمائندگان سے بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ نے آنے والے 2026 کے مڈ ٹرم انتخابات کے تناظر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو کھلے عام ہدف بناتے ہوئے ان پر شدید اور تندوتیز تنقید کی ہے۔ صدر نے سیاسی مخالفین پر یہ سنگین الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں مختلف سطحوں پر جہادی اور کمیونسٹ نظریات کی حامل شخصیات اور سیاسی کارکنان منتخب ہو رہے ہیں، جو آنے والے وقت میں روایتی امریکی طرزِ زندگی، جمہوری اقدار اور قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا اور ناقابلِ تلافی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اپنی اس زبانی گفتگو کے ابتدائی حصے میں کسی مخصوص ڈیموکریٹک امیدوار کا براہِ راست نام لینے سے گریز کیا، لیکن سیاسی ماہرین اور میڈیا حلقوں نے ان کے اشاروں اور بیانات کو ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ممتاز سینیٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید اور دیگر نمائندہ مسلم سیاسی رہنماؤں کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں اور عوامی مقبولیت کے ساتھ براہِ راست منسلک کیا ہے۔ اس اوول آفس گفتگو کے فوراً بعد صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈاکٹر عبدالسید پر تنقید اور اعتراضات پر مبنی مواد بھی باقاعدہ طور پر شیئر کیا۔ جمہوری اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر کی جانب سے انتخابی مرحلے سے پہلے ایسی بیان بازی دراصل انتخابی مہم کے اصل معاشی و انتظامی مسائل سے توجہ ہٹا کر پورے تناظر کو سیکیورٹی اور شدید نظریاتی بحث کی طرف موڑنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ تاہم، اس طرح کے بیانات کے سامنے آتے ہی مسلمان شہری حقوق کی تنظیموں اور خاص طور پر کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی جانب سے فوری، شدید اور سخت الفاظ میں مذمت سامنے آئی ہے۔ حقوقِ انسانی کے دفاع میں پیش پیش ان تنظیموں کا موقف ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے سے مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف اس نوعیت کا غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانیہ تیار کرنا نہ صرف مسلم امیدواروں اور ان کی برادری کے لیے سیکیورٹی خدشات کو جلا دیتا ہے بلکہ معاشرے میں تعصب اور خطرات کو بھی جنم دیتا ہے۔ اس کے برعکس، ریپبلکن پارٹی کے بعض سخت گیر اور قدامت پسند حلقے ان بیانات کا دفاع کرتے ہوئے اسے امریکی ریاست کے مستقبل، قومی بقا اور سیکیورٹی و نظریاتی پالیسیوں پر پارٹی کے بنیادی موقف کا لازمی اور اہم حصہ قرار دے رہے ہیں۔نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، ریپبلکن پارٹی کی اندرونی صفوں میں تشویش اور بدحواسی کی لہر انتہائی گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والے تازہ ترین عوامی سروے کے نتائج نے یہ سچائی واضح کر دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی ذاتی مقبولیت کے گراف میں نمایاں اور ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ قدامت پسند حلقوں، مذہبی گروہوں اور روایتی ووٹروں کی جانب سے موصول ہونے والے ان پریشان کن اشاروں نے پارٹی کی قیادت کو شدید بے چینی اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ سروے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ انتخابی عمل سے الگ تھلگ رہنے اور ووٹنگ کے دن گھروں میں مقیم رہنے کی سنجیدگی سے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ اور واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ اِپساس کے مشترکہ سروے کے حیران کن ارقام سے پتہ چلا ہے کہ ان ووٹروں کی فہرست میں جو حتمی اور یقینی طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکنز پر 10 پوائنٹس کی واضح اور بھاری برتری حاصل ہو چکی ہے۔اس تشویشناک تصویر کو مزید خوفناک بناتے ہوئے ایک نامور اور اہم قدامت پسند تنظیم کے سربراہ نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے روایتی اور بنیادی ووٹروں میں سے ہر 5 میں سے 1 ووٹر اس بار الیکشن والے دن ووٹ نہ ڈالنے کا سوچ رہا ہے، جس کو انہوں نے پارٹی کی بقا کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تشویشناک اعداد و شمار قرار دیا ہے۔ اسی تسلسل میں دی اکانومسٹ اور یوگو کے ایک جداگانہ اور معتبر سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ خود ریپبلکن پارٹی کے رجسٹرڈ کارکنان اور حامیوں کے اندر صدر ٹرمپ کی مقبولیت گھٹ کر محض 79 فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ ان کی موجودہ دوسری مدتِ صدارت کے دوران اب تک ریکارڈ کی گئی سب سے کم تر سطح پر مبنی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ان کی عمومی حمایت کے گراف میں مجموعی طور پر 12 پوائنٹس کی بڑی کمی درج کی گئی ہے، جبکہ ان کے طرزِ حکمرانی اور صدارتی کارکردگی کی مکمل، غیر متزلزل حمایت کرنے والے ووٹرز کا تناسب بھی 68 فیصد کی مضبوط سطح سے سرک کر صرف 48 فیصد پر آ چکا ہے۔ خاص طور پر غیر میگا ریپبلکن ووٹرز کے طبقے میں، جو کہ ریپبلکن پارٹی کے کل ووٹر بیس کا تقریباً 30 فیصد اہم حصہ تشکیل دیتے ہیں، صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف صرف ایک ہفتے کی مختصر مدت کے اندر 13 پوائنٹس کے ایک انتہائی بڑے اور ڈرامائی ڈراپ کا شکار ہوا ہے اور اب اس گروہ میں سے صرف 51 فیصد افراد ان کے سیاسی اقدامات کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ایک اور علیحدہ قومی سروے میں بھی محض ایک ماہ کی مدت کے دوران صدر کی مقبولیت میں 8 پوائنٹس کی مسلسل کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سروے کے یہ تمام یکے بعد دیگرے آنے والے اعداد و شمار اور منفی رجحانات اس بات کا واشگاف ثبوت ہیں کہ قومی انتخابات کے اس انتہائی اہم اور حساس مرحلے پر امریکی ووٹروں کے معاشی، سفارتی اور سیاسی تحفظات شدت اختیار کر چکے ہیں، اور ریپبلکن پارٹی کے لیے کانگریس کا اقتدار بچانا اب ایک کٹھن اور مشکل ترین معرکہ بن چکا ہے۔امریکی انتخابات کی سیاست اور پارٹی مہمات کے حوالے سے مزید معلومات اور تجزیاتی خاکے کے لیے GOP IN DANGER? Trump’s Plan to Save Reps Control of Congress دیکھ سکتے ہیں، جس میں ریپبلکنز کی انتخابی حکمتِ عملی اور درپیش سیاسی چیلنجوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here