نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک کی ریاستی انتظامیہ اور ناساؤ کاؤنٹی کے درمیان امیگریشن سے متعلق نئے نافذ کردہ قانون پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ ریاست کے نئے قانون کے تحت مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ وفاقی امیگریشن حکام بالخصوص آئس کے ساتھ غیر قانونی تارکین وطن کو تحویل میں دینے کے معاہدوں پر عمل درآمد بند کریں۔ اس قانون کی تعمیل کے لیے مقررہ آخری تاریخ گزرنے کے باوجود ناساؤ کاؤنٹی نے ان معاہدوں کو ختم کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔ کاؤنٹی کی قیادت کا موقف ہے کہ وفاقی اداروں کے ساتھ یہ تعاون علاقائی تحفظ اور جرائم کی شرح میں کمی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب ریاستی انتظامیہ اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والی مقامی اتھارٹیز کو سنگین قانونی نتائج اور ریاستی فنڈز کی معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس معاملے پر سول رائٹس کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے بھی شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں جن کا ماننا ہے کہ ایسے معاہدے مقامی آبادی میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ عدالتی سطح پر بھی اس معاملے پر قانونی جنگ جاری ہے کیونکہ وفاقی محکموں اور ریاستی پالیسی کے درمیان اس تنازع نے انتظامی ڈھانچے کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام آئندہ دنوں میں مزید قانونی اقدامات پر غور کر رہے ہیں تا کہ ریاست کے طے شدہ قوانین پر مکمل طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔










