دو ہفتے قبل، اتوار 16اگست کو مرکزی نیو جرسی کے علاقے میں مولانا محمد یوسف اصلاحی کی یاد میں قائم کیے جانے والے یوسف اصلاحی سنٹر کی پروقار افتتاحی تقریب انعقاد پذیر ہوئی۔ اس اسلامی مرکز میں غیر رسمی طور پر سرگرمیوں کا آغاز تو پہلے سے ہی ہو چکا تھا تاہم باقاعدہ افتتاح کا انتظار باقی تھا۔ امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے ایک نمایاں مقام پر واقع اس دو منزلہ عمارت کی مولانا محترم کی شایانِ شان شخصیت کے مطابق تزئین و آرائش ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ بالآخر مولانا کے عقیدت مند مقامی خاندانوں کی انتھک کاوشیں بار آور ثابت ہوئیں اور زکا? فاؤنڈیشن آف امریکہ کے زیرِ اہتمام کمیونٹی کو یوسف اصلاحی سنٹر کی صورت میں ایک بیش قیمت تحفہ میسر آ گیا۔
یہ سنٹر ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جو موجودہ کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ نسلوں کے لیے بھی مستفید ہونے کا مستقل ذریعہ رہے گا۔ مولانا محترم نے امریکہ کی دھرتی پر الہامی ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے اپنی زندگی کے تیس سال وقف کیے اور آج اس کمیونٹی نے ان کے عظیم احسانات کی یاد میں ایک وقیع پیش رفت کی ہے۔ افتتاح کے اس مبارک موقع پر مولانا کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جن کے ذریعے آئندہ نسلوں تک ان کا نامِ نامی اور ان کی خدمات کا تذکرہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس حقیقت کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے!
نہیں ممکن کہ ہر احسان کا بدلہ اتارا جائے
آپ پھولوں کو خوشبو کے عوض کیا دیتے ہیں؟
مولانا محمد یوسف اصلاحی کے ساتھ راقم کا ذاتی تعلق 1987ء میں قائم ہوا اور 2019ء تک ہر سال ان کی میزبانی کی سعادت حاصل رہی۔ اہلِ خانہ کے لیے بھی ان کی خدمت ہمیشہ باعثِ برکت اور موجبِ افتخار رہی جبکہ دوست احباب نے بھی اس فریضے میں مکمل تعاون کیا۔ ان کے انتقالِ پرملال کو اب پانچ برس بیت چکے ہیں مگر ان کی یادیں اور دعائیں دل و دماغ پر مسلسل نقش ہیں۔ اب جبکہ یوسف اصلاحی سنٹر کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، اس ادارے کو بہترین انداز میں متحرک رکھنا کمیونٹی کا فریضہ بن چکا ہے۔ مولانا حالی نے اس جذبے کی عکاسی یوں کی تھی
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں
افتتاحی تقریب میں مقامی ٹاؤن شپ کے منتخب میئر اور ٹاؤن شپ کونسل کے صدر کے علاوہ آدم حماوی نے بھی شرکت کی، جنہوں نے کچھ عرصے قبل پرائمری انتخاب جیتا ہے اور نومبر کے انتخابات میں ان کی کامیابی متوقع ہے۔ خطے کی مساجد کے آئمہ اور مقامی مسلم قیادت بھی اس تقریب کی رونق بنی۔ آغوش الخدمت کے بورڈ چیئرمین ڈاکٹر محمود عالم اور سیکرٹری ناصر محمود میزبانی کے فرائض میں متحرک رہے۔ خاصی درخواست پر ڈاکٹر زاہد بخاری واشنگٹن ڈی سی سے بمع اہل و عیال تشریف لائے، جبکہ نیو یارک کی مسلم کمیونٹی کے رہنما طارق الرحمان بھی میزبانی میں پیش پیش رہے۔ اکنا مرکز کے امام عبدالجبار نے شمالی جرسی سے آمد کے ذریعے تقریب کو وسعت بخشی اور قانونی رہنمائی کے لیے نیو یارک کے قانون دان سبحان طارق موجود رہے۔ زکاء فاؤنڈیشن کے سربراہ خلیل دمیر کی شمولیت نے وقار میں اضافہ کیا۔ رٹگرز یونیورسٹی کے مذہبی پیشوا قیصر اسلم اور جرسی سٹی کے انور چوہدری مرحوم کے صاحب زادے ڈاکٹر عبید کی موجودگی نے نوجوان نسل میں خاصا جوش و خروش پیدا کیا۔ اس کے علاوہ مولانا کے قائم کردہ ادارے وائی اسلام کے سربراہ امام جواد احمد نے بھی تقریب کو رونق بخشی۔ خان بابا ریسٹورنٹ کے مالک جواد یونس نے حاضرین کے لیے باربی کیو پر مشتمل طعام کا اہتمام کیا، جبکہ خواتین نے بھی فرزانہ فرخ کی قیادت میں فعال میزبانی کی۔ بچوں کے لیے مختلف جھولوں اور تفریحی سرگرمیوں کے انتظام سے والدین بے فکر نظر ائے۔
تقریب میں مولانا کے قدیم عقیدت مندوں راجہ سعید، اقبال صبوحی، جلیل اختر، حسن رضوی، پرویز خان، ارشد ممتاز، توحید صدیقی، قدیر، جیلانی، ڈاکٹر جرال، الیاس پراچہ اور عبدالستار میمن کی شرکت نے ماضی کی یادوں کو تازہ کر دیا۔ سنٹر کی سربراہ حسنہ اور ان کی ٹیم، بشمول اذان خان، ابراہیم سید، دانیال، مجاہد، عبداللہ، حسن، بلال، عریبہ اور دیگر رضاکاروں نے تمام تر انتظامات کو خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔
مولانا محترم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی سمیرہ اپنے شوہر ڈاکٹر ثمین اور بچوں کے ساتھ نیو یارک کے لانگ آئی لینڈ سے تین گھنٹے کا مسافت طے کر کے تشریف لائیں۔ اس ملاقات نے مولانا سے وابستہ یادوں کو مزید روشن کر دیا۔ ان کی شفقت سے محروم ہونا ایک عظیم خلا ہے اور پانچ سال گزرنے کے بعد بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ قریبی ماحول میں موجود ہیں اور جلد ملاقات ہوگی۔ مولانا حالی کا یہ شعر اس کیفیت پر پورا اترتا ہے
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں












