احساس!!!

0
6

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ قیمتی شخص کون ہے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں جتنا زیادہ احساس ہوگا اتنا ہی وہ قیمتی ہوگا۔ اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہیرے جواہرات اور دولت سے قیمتی نہیں بنتا بلکہ انسان احساس سے قیمتی ہوتا ہے، لیکن آج کے دور میں یہ قیمتی دولت نایاب ہو چکی ہے۔ بقول احمد فراز!
محبت ان دنوں کی بات ہے فراز
جب مکان کچے اور لوگ سچے تھے
یہ اس زمانے کی ایک یاد ہے جب محبت ہوا کی طرح ہر سو چلتی اور جسم و جاں کو راحت پہنچاتی تھی۔ اس دور میں اپنوں کے علاوہ بیگانوں سے بھی مہر، محبت اور اپنائیت ہوا کرتی تھی اور لالچ کی وباء نہیں پھیلی تھی۔ تب گوشت، پکوان، فاسٹ فوڈ اور پیزا جیسی بیماریاں میلوں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔
گاؤں دیہات میں چھوٹے بڑے تمام گھروں میں مٹی کا چولہا کھانا پکانے کے لیے استعمال میں آتا تھا، جس میں ایندھن کے طور پر گائے اور بھینس کے گوبر سے تیار کردہ تھیپڑیاں، کپاس کے پودوں کی لکڑی اور سوکھی لکڑی استعمال کی جاتی تھی۔ بارش کے موسم میں شدید محنت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ ایندھن کا تمام تر سامان گیلا ہو جاتا اور آگ جلانے میں دشواری ہوتی تھی۔ چولہے کی کمرا نما جگہ کو رسو کا نام دیا جاتا تھا، جو مٹی سے تیار کیا جاتا تھا اور عید یا دیگر تہواروں کے موقع پر اس کی لیپا پوتی کی جاتی تھی۔ دیواریں کچی تھیں لیکن رشتے پکے تھے۔ اس چولہے کا سالن، روٹی، چائے اور شکرگندی بہت ذائقہ دار ہوتی تھی اور دیر تک گرم رہتی تھی۔
روٹی پکانے کے لیے توے کا استعمال کیا جاتا تھا جس پر بڑے سائز کی روٹی تیار ہوتی تھی۔ اس کی تیاری میں چار خواتین ایک ساتھ کام کرتی تھیں؛ ایک پیڑے بناتی، دوسری پیڑے کو بیلتی، تیسری توے پر ڈالتی اور چوتھی روٹیاں سیکتی تھی۔ بڑے گھرانوں یا زیادہ افراد پر مشتمل گھروں میں یہ چولہا لازمی پایا جاتا تھا۔ آگ جلانے کے لیے اکثر وبیشتر محلے کے کسی دوسرے گھر کے چولہے سے آگ لینے جایا جاتا تھا۔ لڑکیاں چمٹے میں دو ایک ادھ جلی ہوئی تھیپڑی یا گوسا لا کر چولہے میں رکھتی تھیں، پھر پاس تھیپڑیاں رکھ کر درمیان میں کاغذ یا تھیلی وغیرہ کے ذریعے آگ سلگائی جاتی تھی اور ہوا دینے کے لیے لوہے کا تقریباً ڈیڑھ فٹ کا پائپ یعنی پھونکنی استعمال کی جاتی تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب لوگوں میں باہمی بھائی چارہ بہت زیادہ تھا، پورا محلہ ایک گھر کی طرح اور محلے دار ایک قبیلے کی طرح ہوتے تھے۔ محلے کے غم اپنے اور خوشیاں سانجھی ہوتی تھیں۔ جب محلے میں کسی کا انتقال ہو جاتا تو تمام دکانیں اور کاروبار بند کر دیے جاتے اور محلے دار مل کر تمام کام کاج اور پریشانیوں کو نمٹاتے تھے۔ اسی طرح محلے کی شادی کو اپنی شادی سمجھا جاتا تھا اور کھانے پکانے سے لے کر تقسیم کرنے تک کے تمام کام محلے اور پڑوس کے افراد خود کرتے تھے۔ تب اپنے اور پرائے کی اصطلاح ایجاد نہیں ہوئی تھی اور سب کو اپنا ہی سمجھا جاتا تھا۔ یہ ماضی کی نہایت دلکش اور سکون آور یادیں ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here