مکہ معاہدہ!!!

0
7
ماجد جرال
ماجد جرال

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے حالات نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ مسلم دنیا اپنی سلامتی کے لیے کب تک بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتی رہے گی۔ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی سوال کا ایک اہم جواب دکھائی دیتا ہے۔ معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ لیکن کیا صرف ایک معاہدہ خطے کی دفاعی ضرورت پوری کر سکتا ہے؟ اس کا جواب بظاہر نفی میں ہے، مگر یہ معاہدہ اس سمت میں ایک غیر معمولی قدم ضرور ہے۔
اس اتحاد کی سب سے بڑی طاقت تینوں ممالک کی مختلف نوعیت کی صلاحیتوں کا امتزاج ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی مسلح افواج کو کئی دہائیوں کا جنگی تجربہ حاصل ہے۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ڈرونز، میزائل، بحریہ، فضائی دفاع اور دفاعی صنعت میں تیزی سے خود کفیل ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے پاس دنیا کی بڑی معاشی طاقت، وسیع مالی وسائل اور خطے میں ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے۔ اس لیے اگر پاکستان دفاعی قوت، ترکیہ ٹیکنالوجی اور سعودی عرب معاشی طاقت فراہم کرے تو یہ شراکت داری ایک معمولی اتحاد نہیں رہتی۔
تاہم اصل امتحان کاغذ پر نہیں بلکہ میدانِ عمل میں ہوگا۔ معاہدے میں اجتماعی دفاع کا اصول تو واضح ہے، مگر یہ سوال ابھی اہم ہے کہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں کون سا ملک کتنی فوج بھیجے گا، فضائی دفاع کس طرح مربوط ہوگا، کمانڈ کا نظام کیا ہوگا، انٹیلی جنس کیسے شیئر کی جائے گی اور فوری ردعمل کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ آج کے دور میں جنگ صرف ٹینکوں اور فوجیوں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ ڈرونز، سائبر حملے، میزائل، مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات اور الیکٹرانک وارفیئر بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی لیے اب تک ہونے والی پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ 31 اگست 2026 کو تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو سعودی عرب میں ہوگا، جبکہ ابتدائی تین سال کے لیے اس کی سربراہی پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے۔ یہ قدم معاہدے کو محض سیاسی اعلان کے بجائے ایک ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش ہے۔
مگر ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، پاکستان کے امریکا اور چین دونوں کے ساتھ اہم تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب بھی عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے مکہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک اپنے نئے دفاعی تعاون کو موجودہ عالمی اتحادوں کے ساتھ کس حد تک متوازن رکھتے ہیں۔ خود پاکستانی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
اس معاہدے کو اسلامی نیٹو کہنا سیاسی طور پر پرکشش ضرور ہے، لیکن حقیقت پسندانہ تجزیے میں ابھی اسے نیٹو کے برابر رکھنا قبل از وقت ہوگا۔ نیٹو کے پیچھے کئی دہائیوں کا مشترکہ کمانڈ سسٹم، انٹیلی جنس نیٹ ورک، مشترکہ مشقیں، دفاعی منصوبہ بندی اور وسیع ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ مکہ معاہدے کو وہاں تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا۔اس کے باوجود اس معاہدے کی سب سے بڑی اہمیت تینوں ممالک کا یکجا ہونا ہے۔ اگر کسی ممکنہ دشمن کو یقین ہو کہ ایک ملک پر حملہ تین ممالک کو میدان میں لے آئے گا تو حملے کا فیصلہ آسان نہیں رہے گا، اور یہی اجتماعی دفاع کا بنیادی مقصد ہے۔
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مکہ کا معاہدہ صرف ایک تاریخی دستاویز نہ رہے بلکہ مشترکہ فوجی مشقوں، مربوط فضائی دفاع، جدید دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون، سائبر سیکیورٹی اور فوری ردعمل کے مضبوط نظام میں تبدیل ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات کا بڑا حصہ خود پورا کر سکتے ہیں بلکہ مسلم دنیا کے لیے ایک نئے علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ ابھی منزل نہیں، بلکہ ایک نئے دفاعی سفر کا آغاز ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here