ریاست فردِ واحد کی جاگیر بن جائے تو ہر طرف حوس، دولت اور انتقام کا راج!!!
جب اقتدار کی باگ ڈور ایسے حکمران کے ہاتھ میں آ جائے جو عدلیہ، محاصل کے نظام، ارب پتی طبقے اور انتخاب کے عمل کو اپنے ذاتی مفادات اور طاقت کا ذریعہ بنا لے، تو جمہوریت محض ایک کھلونابن کر رہ جاتی ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی خود غرض اور نفسیاتی طور پر غیر متوازن رہنما اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں پر قابض ہوتے ہیں، تو وہ نہ صرف ملک کے آئینی اداروں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے اور اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کی جیبیں بھرنے کے لیے ریاستی نظام کو ناکارہ بنانا ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ ایک بار جب یہ عمل شروع ہو جائے تو اس کا نقصان دہ اثر روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے اور آخر کار قومی ترقی کی جگہ صرف کھنڈرات باقی رہ جاتے ہیں۔
میساچوسیٹس کی ایک وفاقی عدالت نے حالیہ دنوں میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی اس کوشش کو روک دیا گیا جو ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے رائی دہی کے نظام پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نہ تو آئین اور نہ ہی قانون ساز اسمبلی ان کو ایسی کوئی تادیبی طاقت دیتی ہے۔ تاہم یہ محض ایک لمحاتی رکاوٹ ہے۔ اس طرح کی مذموم کوششیں آئندہ 2 سالوں کے بعد ہونیوالے صدر کے انتخاب میں مزید شدومد کے ساتھ دوبارہ سامنے آ سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں بحران کے شکار علاقوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مطلق العنان حکمران کس طرح ذاتی اغراض کے لیے پوری قوم کا سکھ چین چھین لیتے ہیں۔سال 1980 میں افریقہ کے ملک یوگنڈا کا دورہ کرنیوالے مبصرین نے وہاں کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے تھے۔ دارالحکومت کامپالا جو کبھی خوبصورت پہاڑیوں پر ایک دلکش شہر تھا، جنگ اور بدعنوانی کے باعث جلے ہوئے مکانات، ٹوٹے شیشوں اور بھوک سے نڈھال انسانی چہروں کی بستی بن چکا تھا۔ فوجی قبضے کے بعد شہر میں پینے کا صاف پانی دو سال تک میسر نہیں تھا اور گلیوں میں لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ایدی امین کی حکمرانی کا دور ختم ہونے کے دو سال بعد بھی ریاست بحال نہ ہو سکی۔ اس صورتحال سے سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ جب بدعنوان اور جنونی رہنما ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے نظام حکومت کو مفلوج کر دیتے ہیں۔جرم کی دنیا کو سمجھنے والے ماہرین اور تحقیقاتی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ بیشتر جرائم کے پیچھے تین بنیادی محرکات ہوتے ہیں: شہوت، دولت اور انتقام۔ اگر امریکی سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ کی 50 سالہ عوامی زندگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کی تمام تر سرگرمیاں انہی تین عوامل کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ عام مجرموں اور ایک مطلق العنان حکمران میں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ حکمران کے راستے میں قانون کی کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی، بلکہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد قانون خود ان کے ان گھٹیا اور بھیانک مقاصد کا محافظ بن جاتا ہے۔ اس سیاسی طرز عمل کو سیاسی سائنس کی زبان میں شخصیات پر مبنی جابرانہ نظام کہا جاتا ہے، جس میں تمام تر اختیارات، تعیناتیاں اور فیصلے صرف ایک فردِ واحد کی مٹھی میں بند ہو جاتے ہیں۔تحقیقاتی اداروں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کی تمام تر آمریتوں پر جامع ڈیٹا فراہم کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شخصی اقتدار کے مالک حکمران ہمیشہ اپنے ممالک کو پہلے سے زیادہ بدتر اور خستہ حال چھوڑ کر جاتے ہیں۔ وہ ریاست کے اجتماعی وسائل، عوام کا خزانہ اور قوم کے قدرتی اثاثوں کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے اہل خانہ اور وفادار ساتھیوں میں لوٹ کے مال کی طرح بانٹ دیتے ہیں۔ وزارت انصاف کو اپنے ذاتی انتقام کا آلہ کار بنانا، محاصل کے ادارے کو اپنے مالیاتی جرائم سے اندھا کرنا، اور قانونی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومتی املاک کو من مانی سے استعمال کرنا اسی ذہنیت کا عکاس ہے۔ جب ایک ملک ایک ہی شخص کی ذاتی جاگیر بن جاتا ہے، تو اس کی ذاتی خواہشات اور انتقام کی آگ پوری قوم کی حکمت عملی بن جاتی ہے۔
روس کے حکمران ولادیمیر پوتن نے بھی اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک میں جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ انہوں نے آزاد ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹا، مخالف تاجروں کو قید کر کے ان کے کاروبار اپنے من پسند افراد میں تقسیم کیے، اور سول سوسائٹی اور اختلاف رائے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے والے قوانین نافذ کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی طرح کا طریقہ کار اپناتے ہوئے امریکی محاصل، تحقیقاتی اداروں اور فوج کے شعبوں میں اپنے من پسند غیر تجربہ کار افراد کو تعینات کر کے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ عدلیہ اور وکلاء کے نظام کو اپنے ہدف پر حملے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی مالیاتی بدعنوانیوں اور جرائم کے خلاف قانونی فیصلوں کو تسلیم کرنے کے بجائے الٹا متاثرین کو تحقیقات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دولت کی ہوس کا عالم یہ ہے کہ نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے اثاثوں کو ضرب دی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف محاصل کے ادارے کے اہلکاروں کو برطرف کر کے امیر ترین ٹیکس چوروں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اب ریاستی مشینیں غریب اور کم آمدنی والے طبقے کا تو کڑا احتساب کرتی ہیں لیکن ارب پتی طبقے کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ صحافیوں، تحریری مبصرین اور آزاد ذرائع ابلاغ کے خلاف درجنوں کارروائیاں کی جا چکی ہیں، خبر رساں اداروں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تاریخ بتاتی ہے کہ جب استغاثہ پر قبضہ ہو جائے، محصلین کو مفلوج کر دیا جائے اور صحافیوں کو خاموش کر دیا جائے، تو جابرانہ اقتدار سے نجات کا واحد پرامن طریقہ کار شفاف اور آزادانہ انتخاب ہی باقی رہ جاتا ہے۔ اگر عوام نے اب بھی اپنے رائی دہی کے حق کا درست استعمال نہ کیا تو جمہوری نظام کی بقا ناممکن ہو جائے گی۔

















