ارجنٹینا کے دنیا بھر میں مقبول ہیرو چی گیوارا جیسے بولیویا میں وہاں کی پولیس نے گولی مار دی تھی جب وہ شدید دمے میں مبتلا وینٹیلیٹر(سانس لینے کا ذریعہ) تلاش کر رہا تھا۔ تب اس کی نظر پولیس والے پر پڑی جو بندوق تانے کھڑا تھا۔ اس وقت وہ صرف یہ ہی کہہ سکا ”مجھے معلوم ہے تم یہاں مجھے مارنے کے لئے کھڑے ہو۔ بندوق چلائو بزدل تم صرف ایک آدمی کو مار سکتے ہو” اور وہ کچھ لمحے بعد گولی کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگیا اس کے پیچھے امریکی سیاست تھی۔ اس سے پہلے چی گیوارا نے کہا تھا ان ب سے جو کرپٹ حکومت کے ساتھ مل کر امریکہ کے کہنے سے اُسے مارنا چاہتے تھے ”سب کو خوش رکھنا منافق بندوں کا کام ہوتا ہے۔ اصول اور ضمیر والے لوگوں سے اکثر دنیا ناراض رہتی ہے۔ دنیا سے اس کی مراد وہ لوگ تھے جو آج تھرڈ ورلڈ ملکوں میں اپنے بدکردار حکمرانوں کے حکم پر چل رہے ہیں اور پاکستان اس کی بہترین مثال ہے ایک بدنما مثال ہے۔
ملاحظ ہو کہ حکومت اور فوج مل کر ملک کے ہیرو عمران خان کو اڈیالہ جیل میں بند کر دیتی ہے بلا کسی جواز کے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے لیکن کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ عمران خان کو بھول جائینگے پاکستان میں یا بیرونی ممالک میں یہ ناممکن ہے اور ان لٹیرے سند یافتہ حکومت کے کارندوں اور جنرلز کی خوش فہمی کب تک رہے گی ہم سمجھتے ہیں زیادہ دیر نہیں کہ کرکٹ کے کپتانوں کے علاوہ خود نون لیگ کے لوگ اب کہہ رہے ہیں لیکن عاصم منیر کی آنکھوں پر پردے پڑے ہیں وہ دبیز کپڑا بڑا ہوا ہے جو امریکہ نے مہیا کیا ہے ایک تھرڈ کلاس ناکارہ جنرل سارے فیصلے کر رہا ہے حال ہی میں وہ فیلڈ مارشل بنا ہے اور بحریہ، قصائی اداروں کو بھی اپنے نیچے لے لیا ہے امریکہ کو یہ بات معلوم ہے جس طرح امریکہ نے پاکستان کو ایٹم بم بنانے میں مدد کی تھی باخاموشی اختیار کی تھی وہ عمران خان کے مسئلے پر بھی شطرمرغ کی طرح اپنا سرریت میں ڈالے عاصم منیر اور ایک بے ایمان کرپٹ حکومت کی تعریف میں لگا ہوا ہے لگتا ہے اس کے نزدیک لوٹ مار تباہی بربادی انسانی حقوق کی پائمالی سب جائز ہے وہ بھول گیا ہے اس کہاوت کو کہ جنگ اور محبت میں ہر کچھ جائز ہے لیکن سیاست میں نہیں اور نومبر کے مہینے میں اس سے پہلے کہ وہ امریکہ کو مزید نقصان پہنچائے اسکوIMPEACH کیا جائے گا۔
امریکہ کے شہری ہونے کی حیثیت سے جیسے اس ملک کے بنے تھا قانون سے رغبت ہے جو امریکن کی پہچان ہے۔ پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گیا ہے اور یہاں کے کئی ذمہ دار سیاستدان اور مشہور شخصیات صدر ٹرمپ کا روزانہTV پر آکر مذاق اڑا رہے ہیں۔ پہلے ہم عمران خان کے لئے ان کے صاحبزدگان اور دوسری شخصیات نے کہا ہے۔ امریکہ کے ایک مشہور صحافی ریاں گریملنگس کا بیان پڑھ لیں۔ دنیا میں چھوٹا سا پلاٹ ہے جسے پاکستان کہتے ہیں اس پاکستان میں ایک اڈیالہ جیل ہے جس میں دنیا کی آدھی طاقتور شخصیت عمران خان قید ہے کہ اگر خان جیل سے باہر آتا ہے۔ تو ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی مشہوری ختم ہوجائیگی ایشیا اور مغرب میں صرف عمران خان گونجتا ہے۔
اس سے بھی بڑا جواب یا بیانSKY NEWS کے مالک برائن ایل رابرٹس نے جب دیا جب حکومت ان پر زور ڈال رہی تھی کہ عمران خان سے متعلق ان کے صاحبزادوں کا انٹرویو نہ کیا جائے۔ اسکائی نیوز ایک اسپورٹ چینل ہے اور عمران خان کرکٹ کی وجہ سے مشہور ہے جواب یہ تھا حکومت کو ”ہم پاکستانیوں کی طرح بے غیرت قوم نہیں جو اپنے ہیروز کو چھوڑ کر ایک چوکیدار کے کہنے پر انٹرویو روک دیتے ہماری ترقی کا یہ ہی راز ہے کہ ہم چوکیدار کو چوکیدار اور ہیرو کو ہیرو سمجھتے ہیں۔
جاوید ہاشمی نون لیگ سے جڑے رہے ہیں لیکن ان کے ضمیر نے بھی ان کی زبان کھلوا دی۔ ”عمران خان پاکستانی قوم کا عشق بن چکا ہے اس وقت دنیا میں اس کے پائے کا گوئی لیڈر نہیں (اگر ہے تو بتائیں) خان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ ترستے ہیں۔ بھّٹو سے ہزار گنا مقبول ہے۔ اسٹیبلشمنٹ جتنا زور لگا لے الٹا بھی لٹک جائے۔PTI کو ختم نہیں کرسکتی ملک کے موجودہ حالات کے ذمہ دار جرنیل ہیں۔
عمران خان کے دونوں بیٹوں سلمان اور قاسم نے کہا ہے الجزیرہ کے انٹرویو میں وہ پہلے سے کہیں زیادہ پریشان ہیں اپنے73 سالہ والد کے لئے یہ سننے کے بعد کہ ”وہ شدید اضطراب میں مبتلا ہیں” انسانیت کہاں ہے؟”
جاوید میاں نے روتے ہوئے عمران خان کے لئے کہا جو میڈیا پر وائرل ہوگیا ” جو کچھ بھی عمران کے ساتھ ہو رہا ہے وہ قطعی غلط ہے میں بے خوف ہوئے بغیر کہونگا ”یہ غلط ہے وہ اس کا حقدار نہیں وہ قومی ہیرو ہے ان سے پہلے پیٹ کیومن کے ساتھ22 کپتانوں نے بھی عمران کے حق میں انکی صحت سے متعقل بیان دیئے تھے۔ کیا عاصم منیر کو معلوم ہے؟!!۔
٭٭٭٭٭٭














