ناکام سسٹم !!!

0
7
شبیر گُل

ایک گلیشئر کی ٹوٹنے سے منٹوں اور سیکنڈز ہزاروں انسان موت کی وادیوں میں پہنچ گئے۔ چند سال پہلے یہی منظرپاکستان کے شمالی علاقہ جات میں دیکھ چکے ہیں۔ جو انتہائی خوفناک تھے۔ مگر ہم نے ان سے نہ عبرت پکڑی اور نا ہی خوف خدا آیا۔ وہی ظلم، وہی لوٹ مار اور بے انصافی۔ نہ ہم بدلے نہ ہمارے اعمال۔ ہمارا کردار بھی وہی ہے۔ ہم سمجھ بیٹھے ہیں۔ کہ یہ دنیا اور مال و متاع ہی سب کچھ ہے۔ نہ آخرت کی جوابدہی کا احساس اور نہ انسانیت۔ جھوٹ، اور ناانصافی ہمارا طرہ امتیاز ہے۔ جتنا بڑا جھوٹا اتنا ہی بڑا عہدہ۔ جتنا بڑا کرپٹ اتنی ہی زیادہ طاقت۔ مگر ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ اصل طاقت اللہ رب العزت کے پاس ہے۔ ہم روز آخرت کو بھول چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے نیپال اور چائنہ کی چند دل دہلا دینے والے واقعات رونماہوئے۔ نہ آسمان پر بادل، نہ بارش کی وارننگ نہ کوئی زلزلہ۔ آنا فانا قیامت کا منظر۔ کئی ہزار انسان پانی میں بہہ گئے۔ ایک سو فٹ بلند پانی کا ریلا سب کچھ بہا کرلے گیا۔تباہی کے مناظر ہر طرف۔ اچانک پانی کے ریلے نے کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ چند سال قبل پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں زلزلہ سے تباہی کے مناظر سامنے آگئے۔ جس سے کئی لاکھ افراد متاثرہوئے۔ ہم بیحثیت قوم مردہ قوم ہیں۔ جنہیں ملکی سلامتی، نظریاتی تشخص، مہنگائی، بیروزگاری سے کوئی غرض نہیں۔ تیل کی قیمتوں ،ظلم و جبر سے کوئی غرض نہیں۔ہر کوئی اپنے حال میں مست مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ کہیں ہاسپیٹل میں چالیس بچے جھلس کر مررہے ہیں۔ کہیں بھوک سے تنگ لوگ بچے بیچ رہے ہیں اور کہیں بھوک سے تنگ ماں بچوں سمیت نہر میں کود رہی ہے۔ حکمران ڈھٹائی اور بے شرمی سے پروٹوکول میں مست ہیں۔ جنہیں ٹوائلٹ سے لیکر گندے نالوں پر بھی تصویریں آویزاں کرنے کی بھوک ہے۔ اور ہم بے بسی کی تصویر بنے ظلم برداشت کررہے ہیں۔ روزانہ بڑھتی قیمتیں اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے ہماری لتر پریڈہورہی ہے۔ ہم بے حسی اور بے بسی میں مزید لتروں کیلئے اپنے آپ کو پیش کئے جارہے ہیں۔ نہ حکمرانوں کے سر پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہماری رگ غیرت پھڑکتی ہے۔ اگر حکمران بے شرم ، ڈھیٹ ہیں تو بفضل تعالی ہم بھی ان سے کم نہیں۔ جو ظلم تو سہتا ہے۔ آہ بھی نہیں بھرتا۔ ملک پر مسلط ان فرعونوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ وہ جو لوگ ان جانوروں سے بدتر ہیں۔ بے حس اشرافیہ ،بے حس قوم۔ ایک طرف درجنوں بچوں کی شہادت۔ دوسری طرف الیٹ کلب کی ڈانس پارٹی۔ لاہور جم خانہ کلب میں رقص وسرور۔ بڑے بڑے بزنس مین۔ بڑے بڑے ریٹارڈ آفیسرز۔ ریٹارڈ بیوروکریٹس۔ پمز ہاسپیٹل کے درد ناک ، اور اذیت ناک واقعہ پر اور غم زدہ ماحول میں رقص و سرور اور داد عیش دیتے ہے۔ ملک پر باضمیر اور بے حیائی کا راج ہے۔ سسٹم فیل۔ نظام گل سڑ چکا۔ ہر ادارے اور ہر محکمہ میں بدمعاشیہ راج۔ پمز ہاسپیٹل کے سانخہ پر کے سوال پر بے لگام اور بدمعاش وزیر صحت کی ایک شہری سے بدتمیزی۔ فرعونوں کی حکومت میں نہ کوئی سوال کرسکتا ہے اور نہ کوئی پوچھ سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کو ہمیشہ سے جرنیلوں کی آشیرواد باد رہی ہے۔ ملک کی سلامتی کو خطرات جرنیلوں سے ہیں۔ کشمیراور بلوچستان میں حقوق کی آواز کو لاٹھی اور گولی سے دبایا جارہا ہے۔ جرنیلوں کی مداخلت جب بھی بڑھتی ہے ملک کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ کبھی ملک دولخت ہونے کی شکل میں اور کبھی سیاچین کھونے کی شکل میں۔ کبھی ایم کیوایم کی دہشتگردوں کی شکل میں اسٹیبلشمنٹ کے کتے ملک نوچ رہے ہیں۔ یہ لوگ عوام سے ہر روز جھوٹ بولتے ہیں۔ کیا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر سبز باغ دکھانا اور زمینی حقائق کا گلا گھونٹنا ہی اب اس صوبے کا مقدر بن چکا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکمران عوام کے بنیادی مسائل سے منہ موڑتے ہیں، زوال کا سفر وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ پنجاب کے موجودہ حالات کسی المیے سے کم نہیں ہیں۔ اعداد و شمار اور زمینی حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ترقی کے بلند و بانگ دعوے محض سراب ثابت ہو رہے ہیں۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کس طرح اس خطے کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ پنجاب کے سلگتے ہوئے مسائل کا ایک جائزہ: صوبے بھر میں غربت کی شرح میں اکتالیس فیصد تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ تعلیم جیسے بنیادی شعبے کا کل حشر یہ ہے کہ گیارہ ہزار اسکول فروخت یا بند کیے جا رہے ہیں، اور ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ کسانوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی زراعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے، جہاں بنجر زمین اور اجڑے کھیت حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کے بنیادی حقوق اور بچوں کے مستقبل کا سودا یوں ہی کیا جاتا رہے گا؟ حکمرانوں کی پالیسیوں نے عام آدمی کو مہنگائی، جہالت اور بے بسی کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خاموشی کی چادر اتار پھینکی جائے اور ان حالات پر کڑا محاسبہ کیا جائے۔ آپ کے نزدیک اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا موجودہ حکمران اس تباہی کا جواب دینے کی سکت رکھتے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ باکس میں ضرور کریں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سچائی سب تک پہنچ سکے۔
پاکستانی جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ملک ہی مسلم دنیا کا بڑا اور طاقتور ملک ہے۔ نیوکلیر پاور اور جدید میزائیل ٹیکناکوجی سے لیس ہے۔ جس پر کرپٹ اشرافیہ کرپٹ جرنیلوں اور بددیانت حکمرانوں کا قبضہ ہے۔ بزنس اور معاشی طور پر کمزور ملک ہے ڈیموکریسی میں انتہائی نچلی سطح پر ہے انصاف میں اپنا ایک سو چالیسواں نمبر ہے۔ ماضی کی اور موجودہ حکمران مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن انکے کام مذہب مخالف اور غیروں کی چاپلوسی میں ہوتے ہیں۔
قارئین ! آئیے مالک و خالق سے دعا کریں کہ اللہ بارک پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ اسے ملک دشمنوں، لٹیروں اور کرپٹ اشرافیہ سے نجات فرمائے۔ اسے نقصان پہنچانے والوں کو نشان عبرت بنائے۔ جنہوں نے اسے معاشی ، اخلاقی اور نظریاتی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہیں مکافات عمل کا نشانہ بنائے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here