قرآنِ مجید کی پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ اِقرا ء ربی یعنی پڑھو سے ہوا۔ یہ محض ایک حکم نہیں، بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی بیداری کا اعلان ہے۔ اسلام نے علم کو روشنی، شعور اور انسان کی سربلندی کا راستہ قرار دیا ہے۔ قرآن پوچھتا ہے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ الزمر: 9۔ یہی سوال آج بھی ہمارے معاشرے کے سامنے پوری شدت سے موجود ہے۔ خواندگی صرف حروف پہچاننے، اپنا نام لکھنے یا امتحان پاس کرنے کا نام نہیں۔ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، حق اور باطل میں فرق کرنے اور اپنے حقوق و فرائض کو جاننے کی صلاحیت دیتی ہے۔ ایک پڑھا لکھا فرد اپنے گھر کے بہتر فیصلے کر سکتا ہے، صحت، روزگار، قانون اور نئی دنیا کے تقاضوں کو سمجھ سکتا ہے، جبکہ ایک تعلیم یافتہ قوم فکری غلامی اور معاشی محتاجی کے اندھیروں سے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔اسلامی تعلیمات میں علم کی اہمیت محض مذہبی علم تک محدود نہیں، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علم کے حصول کو ہر مسلمان کے لیے لازمی قرار دیا، اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں تعلیم کو معاشرتی اصلاح اور انسانی وقار کی بنیاد بنایا گیا۔ غزو? بدر کے بعد بعض قیدیوں کے لیے آزادی کا راستہ یہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی معاشرے میں علم کو جنگی فتح سے بھی بڑھ کر انسانی تعمیر کا ذریعہ سمجھا گیا۔
8 September کا عالمی یومِ خواندگی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کتاب اور قلم صرف تعلیمی اشیاء نہیں، بلکہ انسان کی آزادی، خودداری اور ترقی کے وسائل ہیں۔ مگر پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے، 5 سے 16 برس کی عمر کے درمیان، اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک سنگین قومی المیہ ہے، کیونکہ ان بچوں کا اسکول سے باہر رہنا دراصل پاکستان کے مستقبل کا امکانات سے محروم رہنا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25ـA ریاست کو پابند بناتا ہے کہ 5 سے 16 سال کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائے، مگر عملی صورتِ حال اس آئینی وعدے سے بہت مختلف ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024ـ25 کے مطابق تعلیم پر وفاق اور صوبوں کا مجموعی خرچ مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.8 فیصد رہا۔
جب تعلیم کو قومی بجٹ میں اتنا محدود حصہ دیا جائے تو اسکولوں کی خستہ عمارتیں، اساتذہ کی کمی، ناقص تدریس اور اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی تعداد محض اتفاق نہیں بلکہ حکومتی بے حسی اور غلط ترجیحات کا نتیجہ نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کہیں اسکول دور ہیں، کہیں بنیادی سہولتیں موجود نہیں، کہیں اساتذہ کی قلت ہے، اور کہیں بچیوں کے لیے محفوظ ماحول اور مناسب واش روم تک دستیاب نہیں۔ حکومتی ادارے اعلانات، منصوبوں اور رپورٹوں سے تو اپنی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر بچے کو واقعی اس کا آئینی اور انسانی حق مل رہا ہے؟
عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ تعلیم کو محض فلاحی منصوبہ نہیں بلکہ دینی، آئینی اور قومی ذمہ داری سمجھا جائے۔ مستقبل کے معماروں کو وعدے نہیں، کتاب و قلم، محفوظ اسکول، قابل استاد اور سیکھنے کا باوقار موقع چاہیے کیونکہ جس قوم نے اپنے بچوں کو علم دیا، اس نے اپنے مستقبل کو روشنی دی۔
کتابِ دل کو جو پڑھ لے، وہ باخبر ٹھہرے
یہ علمِ حرف نہیں، علمِ زندگی بھی ہے















