مقصود جعفری کی تازہ غزل اپنے اندر اپنے عہد کی فکری اور تہذیبی صورت گری کرتی ہے جس میں انسانی اقدار کی شکست، اقدار کی مرکزیت، مذہبی ریاکاری، فکری بے حسی اور حقیقی اصالت کے زوال نے اجتماعی زندگی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری نے غزل کے کلاسیکی پیکر اور علامتی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری تجربے کے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے اور یہی امتزاج اس غزل کو محض اجتماعی شاعری سے بلند کر کے ایک بامعنی فکری تجربے میں تبدیل کرتا ہے۔ غزل کا مطلع ہی اس کے بنیادی فکری تناظر کا تعین کر دیتا ہے بجانے جب سے شہر میں ویران ہو گیا انسان / کے خون کے پیاسے پیاسان ہو گئے، جہاں پیمانہ صرف ایک روایتی غزل کا استعارہ نہیں رہتا بلکہ انسانی ربط، سرمستی، رواداری اور اجتماعی زندگی کی علامت بن جاتا ہے۔ اس کے مقابل انسان کے خون کا پیاسا انسان ایک ایسی تہذیبی صورت حال کی نشان دہی کرتا ہے جہاں انسانیت اپنی معنوی بنیادیں کھو چکی ہے۔ لفظ انسان اور انسان کی تکرار بھی شعر کے معنوی تضاد کو نمایاں کرتی ہے کہ انسان جسمانی طور پر باقی ہے مگر انسانیت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔
دوسرے شعر دربانِ شہرِ یاروں کی مسند پہ بیٹھ گئے ہیں جتنے تھے شہرِ یار، وہ دربان ہو گئے میں انہوں نے سیاسی اور معاشی اقتدار کی ساخت کو نہایت مؤثر طریقے سے پیش کیا ہے، جہاں شہر یار اور دربان کا تبادل اس شعر کا بنیادی فنی وسیلہ ہے۔ منصب اور کردار کی یہ الٹ پھیر دراصل پورے معاشرتی نظام کی علامتی تصویر ہے کیونکہ اقتدار کے اصل اہل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں اور دربان مسند نشین ہو گئے ہیں، یعنی شعر میں طنز محض سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے، کیونکہ جب منصب اور اہلیت کا رشتہ منقطع ہو جائے تو پورا نظام اپنی معنوی حیثیت کھو دیتا ہے۔
تیسرے شعر میں اجتماعی بحران سے فرد کے باطن کی طرف مراجعت ہوتی ہے جہاں شاعر کہتا ہے بیتھے ہیں گھٹ کے مرنے، اب آرزوئے زیست / پر جفا ئے زیست سب ارمان ہو گئے، جس میں آرزوئے زیست اور ارمان کے پیکر ایک داخلی شکست کا احساس پیدا کرتے ہیں اور زندگی سے وابستہ خواہشات کا جفائے زیست کی نذر ہو جانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خارجی حالات نے انسان کے باطن کو بھی مفلوج کر دیا ہے، یوں غزل کا سماجی احتجاج ایک شخصی کرب میں ڈھل جاتا ہے۔
مذہبی ریاکاری پر طنز کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے دامنِ کشاں ہوں اس لیے ہفتہ بار سے / یتیمِ شہرِ غارتِ ایمان ہو گئے، جو ان کے فکری مزاج کی ایک اہم جہت کو سامنے لاتا ہے جس کا تعلق متبرک و مقدس نام کے نام پر پیدا ہونے والی مذہبی انگیزیاں اور فرمائشی تقدس سے ہے۔ یتیمِ شہر کا غارتِ ایمان ہو جانا ایک شدید معنوی تضاد پیدا کرتا ہے اور شعر کی تاثراتی اٹھان یہ ہے کہ جس سے ایمان کی حفاظت کی توقع تھی وہی اس کی تخریب کا سبب بن گئے۔
غزل کا سب سے ڈرامائی اور معنوی اعتبار سے گہرا شعر عقل سے متعلق ہے عقل میں ایک شخص نے کچھ ایسے جان دی / تل چھٹ کی موت پر حیران ہو گئے، جہاں اس موت کے بعد کے آخری اشعار دلیل بن جاتے ہیں اور منظوم کی موت کا اندازِ حسرت کے لیے حیرت کا باعث بنتا ہے۔ شعر میں کسی واقعے کی صراحت نہیں لیکن یہی عدمِ صراحت اس کے معنوی وسعت کو دوچند کرتی ہے کیونکہ یہ ایک فرد کی موت بھی ہو سکتی ہے اور کسی اصول، نظریے یا حق کی خاطر دی جانے والی قربانی بھی، جس سے یہ شعری صلاحیت واقعیت سے آگے بڑھ کر علامتی سطح اختیار کر لیتی ہے۔
غزل میں ذاتی تجربے اور ادبی معاشرت کے حوالے سے بھی ایک اہم طنزیہ زاویہ موجود ہے جو لوگ میری بزم میں بیٹھے تھے چار سو / خوش فہم میں بھی صاحبِ دیوان ہو گئے، جس میں علمی اخذ، اثر پذیری اور حقیقی اصالت کے مسئلے کو طنزیہ پیرا? میں سامنے لایا گیا ہے۔ خوش فہم میں صاحبِ دیوان تک کا سفر محض تحقیر نہیں بلکہ اس ادبی رویے پر سوال ہے جہاں اصل تخلیقی سرمائے سے استفادہ کرنے والے بنفسِ نفیس اس سرمائے کی نسبت سے اپنی شناخت قائم کرتے ہیں، اور یوں یہ شعر ذاتی تجربے سے بڑھ کر ایک عمومی ادبی رویے کی صورت اختیار کرتا ہے۔
مقطع میں ڈاکٹر مقصود جعفری نے پوری غزل کے فکری تناظر کو ایک جامع اور بامعنی نتیجہ خیز نقطے پر پہنچایا ہے یہ ساتھ بھی دیکھا ہے زیست میں دیکھا ہے / جعفری ہو کے جان دار لوگ تھے، بے جان ہو گئے، جہاں جان دار اور بے جان کا تضاد محض زندگی اور موت کا تضاد نہیں بلکہ زندہ ضمیر اور مردہ احساس کا استعارہ ہے۔ شاعر کے نزدیک سب سے بڑا المیہ جسمانی موت نہیں بلکہ انسان کا احساسِ احتجاج اور اخلاقی قوت کھو دینا ہے، اور یہی نکتہ پوری غزل کے معنوی مرکز کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔
کلی اعتبار سے غزل کی نمایاں خصوصیت اس کی سہلِ ممتنع سے قریب زبان، علامتی تناسبات، تضاد، تکرار اور طنزیہ انداز ہے جہاں پیمانہ، شہر یار، دربان، شمع، عقل، قتل، بزم، اور صاحبِ دیوان جیسے الفاظ غزل کی فکر و تحریر کو وسعت بخشتے ہیں اور ماضی کے معنوی سرمائے اور عصرِ حاضر کی بصیرت کے درمیان ایک باہم رشتہ قائم کرتے ہیں۔ غزل کا لہجہ احتجاجی، کبھی طنزیہ اور کبھی نوحہ گر ہے، تاہم ان تمام کیفیات کے پس منظر میں انسانی وقار کی بازیافت کا بنیادی جذبہ کارفرما ہے جو مجموعی طور پر ڈاکٹر مقصود جعفری کی غزل کو عہدِ حاضر کے اخلاقی اور تہذیبی بحران کا شعری بیانیہ بناتا ہے۔ اس میں شاعر نے خارجی اور داخلی تجربات کو یکجا کر کے اسے ایک نئی نوعیت عطا کی ہے جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ صاحبِ دیوان کا شعری اسلوب روایتی قالب سے آگے بڑھ کر واضح اجتماعی معنی اختیار کرتا ہے۔ غزل کا اصل مقصد اس کے احتجاج میں نہیں بلکہ اس احتجاج کے پسِ پشت موجود انسانی شعور میں ہے، اور یہی شعور مقصود جعفری کی شاعری کو محض عصری ردِ عمل نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اپنے عہد کے اجتماعی ضمیر کی آواز بنا دیتا ہے۔













