ریاست اور حکومت !!!

0
8
رمضان رانا
رمضان رانا

جب کوئی شہری اپنی ریاست کا حلف اٹھاتا ہے کہ ریاست کا وفادار رہے گا ریاست کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا اسی لئے دنیا بھر میں ریاست مخالف مقدمات میں مجرموں کی سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔ جو دوسرے جرائم سے بہت مختلف ہوتی ہیں چونکہ ریاست ایک گھراور ماں کا درجہ رکھتی ہے جو اپنے شہریوں کو بلاتفریق پالیسی اور دیکھ بھال کرتی ہے۔ صحت تعلیم اور دوسری سہولتیں فراہم رکتی ہے جس کا اپنا ایک نقشہ جغرافیائی حدود ہوتی ہیں۔ جس کے اندر مختلف اقوام برادریاں، قبائل بسے ہوتے ہیں جنہوں نے کسی معاہدہ عمرانی کے تحت آپس میں ریاست کے اندر رہنے کا وعدہ کیا ہوتا ہے۔ جس پر ہر حکومت عملدرآمد کرتی ہے بشرطیکہ حکومت غیر جانبدار، انسان دوست اور ریاست پرست ہو مزید برآں آج کے دور جدید میں ریاست اقوام متحدہ کی رکن کہلاتی ہے جس کی تعداد آج دو سو سے زیادہ ہوچکی ہے۔ جن پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قوانین اور ضابطوں کے مطابق اپنے شہریوں اور دوسری ریاستوں کا خیال رکھیں جس کی بدقسمتی سے خلاف ورزیاں جاری و ساری ہیں کہ بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کو ایک ناکارہ ادارہ سمجھ بیٹھی ہیں جو آئے دن اپنی جنگ وجدل سے اپنے مخالف ریاستوں کے چڑھ دوڑتی ہیں جس میں آج کے دور میں امریکہ اور اسرائیل سرفہرست ہیں تاہم ریاست کا وجود کب اور کیوں لایا گیا جس کا سلسلہ ماضی قدیم سے ملتا جلتا ہے کہ جب انسان اپنے چھوٹے چھوٹے خاندانوں میں رہتا تھا جو ایک دوسرے سے غیر محفوظ رہتا تھا جن کو دوسرے خاندانوں جانوروں، پرندوں اور آفتوں سے خوف رہتا تھا۔ جو آہستہ آہستہ قبیلوں کی شکل اختیار کر گئے جب قبائل نے کسی متحدہ سماج اختیار کیا تو وہ ریاست کی شکل اختیار کر گیا جس کے اندر طے پایا کہ اب ہماری ایک مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ حکومت یا بادشاہت عدلیہ فوج پولیس اور دوسرے ادارے ہونگے جو عوام کی حفاظت اور خدمت کریں گے وغیرہ وغیرہ چونکہ حکومت عوام کی مرضی سے تشکیل پاتی ہے جو چند گھنٹے چند دن چند ہفتے چند مہینے یا چند سال تک قائم رہ سکتے ہیں۔ جس کی جب عوام چاہیں ہٹا سکتے ہیں جسکو آج کے دور جدید میں عدم اعتماد اور مواخذہ کہا جاتا ہے جو کسی بھی حکمران، پارلیمنٹرین، جج اور جنرل کا ہوسکتا ہے جس کو دور جدید میں جمہوریت کا نام دیاگیا ہے جس حکومت بقول ابراہام لنکن بائی دی پیپلز آف دی پیپلز اور فاردی پیپلز کہلاتی ہے۔ جس کا مقصد اور مطلب حکومت کسی بھی وقت عوام ہٹا سکتے ہیں بشرطیکہ عوام میں شعور پایا جاتا ہے کہ جو زیادہ تر اپنے حقوق سے ناواقف ہوتے ہیںجن کو سازشی ٹولہ، ریاست مخالف عناصر حکومت کی بجائے ریاست کی توڑ پھوڑ میں لگ جاتے ہیں جس سے عوام آپس میں الجھ جاتے ہیں جو حکمرانوں کو کمزوریاں طاقتور بھی بنا سکتے ہیں بہرحال ریاست اور حکومت میں فرق بتانے کا مطلب اور مقصد صرف یہ ہے کہ ریاست پاکستان میں مختلف اقوام بسی ہوئی ہیں جن کے عوام کو حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کی بجائے ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اُکسایا جاتا ہے جو دہشت گردی اور خودکشی میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے ریاست کمزور ہو جاتی ہے جو پھر کبھی عرب ریاستوں کی شکل اختیار کر جاتی ہے جو کبھی مختلف خلافتوں کے صوبے تھے جو آج ملک بن کر کمزور ہو چکے ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here