قومی سلامتی کے عسکری تصورات، معاشی بدحالی اور ناقص حکمت عملی

0
10

قومی سلامتی کسی بھی ریاست کے لیے محض سرحدی حدود کے تحفظ یا ہتھیاروں کے انبار لگانے کا نام نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اور جامع کیفیت ہے جس میں معاشی استحکام، سیاسی پختگی، سماجی ہم آہنگی اور سفارتی مہارت کا توازن برقرار رکھنا بنیادی ضرورت شمار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی عشروں سے ہمارے ہاں اس تصور کو نہ صرف محدود کر دیا گیا ہے بلکہ اس کو صرف عسکری نقطہ نظر اور فوجی صلاحیت کے زاویے سے دیکھنے کی روایت پختہ ہو چکی ہے۔ اس یک طرفہ حکمت عملی کی بدولت ریاست مسلسل معاشی ناہمواری اور فکری بحران کا شکار رہی ہے۔ جب کسی بھی مملکت کا دفاعی تخمینہ اور اخراجات ملکی مالی وسائل کی پہنچ سے باہر ہو جائیں اور عوام کا روزگار اور نان و نفقہ عالمی مالیاتی اداروں کی مرہونِ منت ہو جائے تو وہاں فوجی برتری کے دعوے اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ محض دفاعی ساز و سامان پر بے تحاشا توجہ اور وسائل کا ضیاع مملکت کے دیگر اہم ستونوں جیسے تعلیم، صحت اور معاشیات کو بالکل کھوکھلا کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کا تعلیمی معیار، پیداوری صلاحیت اور رفاہی کام شدید زوال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔یہ محض اتفاق نہیں کہ دہائیوں قبل اٹھائے گئے فکری و تنقیدی سوالات اور انتباہات 2026 میں بھی اسی طرح سچ ثابت ہو رہے ہیں اور کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی رخ دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ ڈھائی عشروں پر نظر دوڑائی جائے تو دفاعی ضروریات کو اولین ترجیح دینے کے باوجود ملکی معیشت تنزلی کا شکار رہی اور اندرونی وبیرونی چیلنجز میں گراں قدر اضافہ ہوا۔ ہم نے خطے کے دیگر ممالک سے کوئی سبق نہیں سیکھا جہاں سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لائی گئیں اور فوج کے کردار کو ایک محدود حد تک رکھ کر باقی صلاحیتوں کو برآمدات، صنعت اور انسانی ترقی پر مبذول کیا گیا۔ پاکستان نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی اور معرکہ آرائی کی پالیسی پر تکیہ رکھا اور سفارتی ذرائع کو پسِ پشت ڈال کر عسکری قوت کو پہلا حل تصوّر کیا۔ اگر تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اکثر بحرانوں اور تصادم کے مواقع ہماری اپنی کم فہمی، بے جا مہم جوئی اور دور اندیشی کے فقدان کی وجہ سے پیدا ہوئے۔خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش نے اپنی تمام تر توجہ معاشی استحکام، صنعتی پیداوار اور کپڑے کی برآمدات پر مرکوز کی، جس سے ان کی معیشت مستحکم ہوئی اور وہاں عسکری مداخلت کا دور ختم ہو گیا۔ اس کے برعکس ہم آج بھی ماضی کی لکیر پیٹ رہے ہیں اور اقتصادی طاقت بننے کے بجائے صرف ایک عسکری طاقت کے خول میں محصور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی اور سلامتی کی روایات اتنی جمود کا شکار ہیں کہ ہمارے اہم اور قریبی دوست بھی ہمارے سرحدی اور جغرافیائی تنازعات کے دوران ہمارا ساتھ دینے سے کتراتے ہیں اور غیر جانبدار رہنے میں ہی بہتری سمجھتے ہیں۔ امریکی مدد یا چین کی پائیدار حماقتوں پر انحصار کرنے کے باوجود ہمیشہ یہ بات واضح رہی کہ جنگ اور تصادم کے مواقع پر ہمیں اندرونی اقتصادی طاقت کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو کہ عدم توجہی کی وجہ سے موجود ہی نہیں۔ایٹمی صلاحیت کے حامل ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ریاست بیرونی حملے کے خوف سے آزاد ہو کر اپنی بنیادی ترجیحات کو معاشی اور معاشرتی ترقی کی طرف موڑ دیتی۔ ایٹمی توازن نے واقعی ایک بڑی جنگ کے امکانات کو ختم تو کر دیا، لیکن ہمارے پالیسی سازوں نے اس تحفے کا فائدہ اٹھانے کے بجائے درمیانے اور چھوٹے درجے کے تنازعات اور محاذ آرائی کو برقرار رکھا۔ سرحدوں پر تناؤ برقرار رکھنے اور کشیدگی کی پالیسی کو تقویت دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت، سفر اور ثقافتی تعلقات مکمل طور پر منقطع ہو گئے۔ افغانستان جیسے قریبی مذہبی اور ثقافتی ہمسائے کے ساتھ سرحدوں کی بندی اور تجارتی راہداریوں کا تعطل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہماری سفارت کاری میں لچک اور حکمت نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی۔ریاست کے اندرونی حالات بھی بیرونی سرحدوں سے کچھ مختلف نہیں۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل اور معدنیات کو برآمد کر کے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے مواقع موجود تھے، لیکن وہاں کے شہریوں کے بنیادی انسانی، سیاسی اور معاشی حقوق کو پامال کیا گیا۔ اندرونی بے آرامی، شورش اور علیحدگی پسندی کے رجحانات کو ہمیشہ غیر ملکی سازش اور بیرونِ ملک مداخلت کا نام دے کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب کسی مسئلے کو اندرونی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے صرف بیرونی فیکٹرز پر ڈال دیا جائے تو پھر اصلاح کا ہر راستہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔ طاقت کے بے جا استعمال نے صوبائی محرومیوں کو بڑھایا اور یوں ایک گہرا خلیج پیدا ہوا جس کا فائدہ دشمن عناصر اٹھاتے ہیں۔سیاسی اور آئینی نظام کی بات کی جائے تو جمہوریت کا سوانگ رچا کر تمام تر اختیارات کا محور عسکری طاقت کو بنا دیا گیا ہے۔ آئین اور قانون میں ایسی ترامیم کی جاتی ہیں جن سے منتخب نمائندوں کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ جاتی ہے اور نا وہ اپنے فیصلوں میں آزاد رہتے ہیں نہ ہی ان کا احتساب ممکن ہوتا ہے۔ آئینی جمہوری عمل کو محدود کرنے اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کی روایت نے ملک کے اندر سیاسی استحکام اور عدم تحفظ کی ایسی کیفیت پیدا کی ہے جو کسی بھی سوسائٹی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب اقتدار کی ڈوریاں پسِ پردہ ہاتھوں میں ہوں اور جمہوری عمل کو ایک دکھاوے کے طور پر استعمال کیا جائے تو عوام کا ریاست اور اس کے اداروں پر سے اعتماد بالکل اٹھ جاتا ہے۔معاشی محاذ پر صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ توانائی کا شعبہ، نجی بجلی گھروں کا معادہ اور قرضوں کا گھمبیر چکر ملک کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل چکا ہے جہاں سے نکلنا محال دکھائی دیتا ہے۔ فاسد معاہدوں اور بدعنوانی کی وجہ سے عام شہری بجلی اور ایندھن کی شدید ترین قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اس لوٹ مار سے مسلسل مستفید ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر عوام شمسی توانائی جیسے متبادل راستے خود اختیار کر رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی ہمت ہے، نہ کہ حکومت کی کسی کارآمد پالیسی کا نتیجہ۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اپنی قومی سلامتی کو عسکری محدودیت کے خول سے نکال کر معیشت، انسانی فلاح، قانون کی حکمرانی اور پائیدار سفارت کاری سے نہیں جوڑتے، تب تک تباہی کے اس چکر سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنا ہوگا، تمام ہمسایوں اور اندرونی طبقات کے ساتھ مفاہمت اور گفتگو کا آغاز کرنا ہوگا، اور اپنے وسائل کا بڑا حصہ ہتھیاروں کے بجائے انسانی صلاحیتوں کو نکھارنے پر لگانا ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دور اندیشی کا مظاہرہ کریں اور اس بیانیے کو تبدیل کریں جو ملک کو پچھلے کئی عشروں سے ایک ہی جگہ پر جامد کیے ہوئے ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here