واشنگٹن (پاکستان نیوز)سینیٹ کی باضابطہ نگرانی کی سماعت اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کے میدان میں تبدیل ہو گئی جب ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے سینیٹر کوری بوکر کا مائیک بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ ڈرامائی صورتحال سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے اجلاس کے دوران پیش آئی جہاں ڈیمو کریٹک سینیٹر کوری بوکر نے ڈائریکٹر پر صحافیوں کو ہراساں کرنے اور سرکاری وسائل بالخصوص 60 ملین ڈالر مالیت کے جیٹ طیارے کے ذاتی مقاصد کے لیے بے جا استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے۔ کوری بوکر نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈائریکٹر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی کارکردگی ادارے کے لیے باعثِ ندامت ہے۔ اس دوران جب چئیرمین چَک گریپلی نے سینیٹر کے مقررہ وقت کے اختتام پر باقاعدہ ہتھوڑا بجا کر روکنے کی کوشش کی تو ایوان میں تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی۔ سینیٹر بوکر نے الزام لگایا کہ اپوزیشن ارکان کی آواز کو زبردستی دبایا جا رہا ہے جبکہ حکمراں جماعت کے رہنماؤں کو اضافی وقت دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایف بی آئی ڈائریکٹر کش پٹیل نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ صحافیوں کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف حساس معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سربراہی میں سنگین جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئی ہیں اور نیو جرسی میں پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاریوں میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لفظی جنگ کے عروج پر جب سینیٹر بوکر نے احتجاج جاری رکھا تو کش پٹیل نے ان کا مائیک منقطع کرنے کا مطالبہ کر دیا جس پر ایوان میں ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔












