
واشنگٹن(پاکستان نیوز)ایوان نمائندگان میں نہایت اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی جب 18 ڈیموکریٹ ارکان نے ریپبلکن پارٹی کے ساتھ مل کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ایوان میں باقاعدہ بحث کے لیے پیش ہونے سے روک دیا۔ اس دو طرفہ ووٹنگ کے دوران مواخذے کی قرارداد کو 147 کے مقابلے میں 232 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا گیا۔ یہ قرارداد ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ال گرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی جنہیں رواں سال اپنے پرائمری انتخاب میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس قرارداد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے محکموں کے معاملات سنبھالنے میں اپنے صدارتی اختیارات کا مبینہ طور پر ناجائز استعمال کیا ہے۔ اس ووٹنگ کی خاص بات یہ تھی کہ صدر کے خلاف کارروائی کو روکنے کے لیے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ ایوان میں موجود تقریباً تمام ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کی شدید مخالفت کی اور انہیں 18 ڈیموکریٹس کی بھی مکمل حمایت حاصل رہی جس کے باعث مواخذے کی یہ کوشش اپنے ابتدائی مراحل میں ہی ناکام ہو گئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹ ارکان کا اپنی ہی پارٹی کے ایک سینیئر رکن کی قرارداد کے خلاف ووٹ دینا اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ امیگریشن اور سرحدی تحفظ جیسے حساس معاملات پر پارٹی کے اندر گہرے اختلافات موجود ہیں۔ اس کارروائی کے مسترد ہونے سے صدر کے خلاف مواخذے کے امکانات فی الحال ختم ہو گئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اب ایوان کی توجہ دیگر اہم قانونی اور ملکی امور کی انجام دہی پر مرکوز رہے گی۔











