ڈاک ووٹنگ قواعد میں تبدیلی کیخلاف فیصلہ؛ عدلیہ پر شدید تنقید

0
8

واشنگٹن (پاکستان نیوز)ڈاک ووٹنگ کے قواعد میں تبدیلی کی تجویز کو سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پوسٹ کیے گئے ایک طویل بیان میں انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ججوں کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے ڈیموکریٹس کے خوف میں مبتلا ہو کر ملک کو سخت مایوس کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے محکمہ ڈاک کے اس نئے ضابطے پر نچلی عدالت کی پابندی کو برقرار رکھا جس کے تحت ووٹنگ کے عمل سے چند ہفتے قبل ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور لفافوں کے نئے ڈیزائن کی سخت شرائط عائد کی جا رہی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جسٹس ساموئل الیٹو اور جسٹس کلیرنس تھامس کی حمایت پر ان کی تعریف کی مگر اپنے ہی دورِ حکومت میں مقرر کردہ تینوں ججوں کے رویے پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی عدالتی نظام ڈاک کے ذریعے جاری بدعنوانی کو روکنے کے لیے بروقت فیصلے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ صدر نے ٹیرف پالیسی اور پیدائشی شہریت کے قوانین پر بھی عدالت کے سابقہ فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ ان فیصلوں سے ملک صدیوں پیچھے چلا گیا ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اعلیٰ ترین عدالت پر اس قسم کی کھلی تنقید کے نتائج ان کے لیے مستقبل میں سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اس اقدام کو ملک کی خاطر اپنی آئینی ذمہ داری قرار دیا۔ فیصلے کے بعد مڈ ٹرم انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹنگ کا طریقہ کار سابقہ قوانین کے مطابق ہی جاری رہے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here