نیویارک (پاکستان نیوز)مصنوعی ذہانت کی غیر متوقع اور تیز رفتار پیش رفت کے درمیان ایک ستائیس سالہ اے آئی محقق کے سنسنی خیز انکشافات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جس میں تکنیکی اداروں کی غیر ذمہ دارانہ دوڑ کو انسانی بقا کے لیے ایک سنگین اور بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے معروف اداروں میں تین سال تک ماڈلز کو تربیت دینے والے اس ماہر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہ کمپنیاں انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر خودکار اور متحرک سپر انٹیلی جنس بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام جلد ہی تمام اہم شعبوں میں دخل اندازی، سیکیورٹی ہیکنگ اور دنیا کے تمام بنیادی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے گا۔ نج کاری پر مبنی یہ مقابلہ اب ایک خطرناک جوئے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس پر فوری طور پر عارضی پابندی عائد کرنا بے حد ضروری ہے۔ تاریخی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو محض چار سال کے قلیل عرصے میں ان کمپنیوں نے جو تیزی دکھائی ہے وہ انتہائی حیران کن ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس کی رفتار پر قابو نہ پایا گیا تو رواں دہائی کے اختتام تک یہ صورتحال انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ سنہ دو ہزار اٹھارہ میں بھی ایلون مسک نے متنبہ کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سنہ دو ہزار چھبیس کے اختتام تک یہ ٹیکنالوجی کسی بھی انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی اور سنہ دو ہزار تیس تک اس کی مجموعی ذہانت پوری انسانیت کی مجموعی عقل سے بھی تجاوز کر جائے گی۔










