ڈالر اورتیل کا 50 سالہ گٹھ جوڑ ختم

0
16

نیویارک (پاکستان نیوز) جون 1974 میں قائم ہونیوالے امریکی اور سعودی اقتصادی تعلقات کے پچاس سال مکمل ہونے پر معاشی دنیا میں ایک زبردست تحرک اور مباحثہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور سعودی شاہی خاندان کے اہم رہنما شہزادہ فہد بن عبدالعزیز کے بنیادی تعاملات سے شروع ہونیوالے اس دور کو عالمی مالیاتی تاریخ میں پٹرولیم اور امریکی کرنسی کے اتحاد کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ پچاس سال قبل طے پانے والا پٹرولیم کا یہ سمجھوتہ جون 2024 میں اپنی تمام تر قانونی یا غیر رسمی مدت پوری کر کے ختم ہو گیا ہے اور سعودی عرب نے اس میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں، معاشی ماہرین اور صحافتی حلقوں میں ایک تجسس اور تجزیاتی لہر پیدا کر دی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس تاریخی مرحلے کے بعد امریکی کرنسی کی دنیا بھر میں بلا شرکت غیرے بالادستی کے دن اب گنے جا چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب معاشی تحریروں کے مستند تجزئیہ نگار اور تحقیقاتی اداروں کے ماہرین اس خبر کو حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر تاریخی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پچاس سال قبل جون 1974 میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک دوطرفہ معاشی تعاون کا مشترکہ کمیشن قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی سامان کی فراہمی کے بدلے سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کو یقینی بنانا اور خلیجی ریاست کو حاصل ہونے والے زائد سرمائے کو امریکی سرکاری مالیاتی تمسکات یعنی حکومتی بانڈز میں واپس لانا تھا۔ بعد کے سالوں میں تنظیم برائے برآمد کنندگان پٹرولیم ممالک یعنی اوپیک کے دیگر رکن ممالک نے بھی اسی طرز عمل کو اپنایا جس سے عالمی سطح پر تیل خریدنے والی تمام ریاستوں کے لیے امریکی کرنسی کا ذخیرہ رکھنا ایک ناگزیر ضرورت بن گیا۔ اس نظام نے نہ صرف امریکی مرکزی بینک کے لیے کاغذی سرمائے کی فراہمی کو آسان بنایا بلکہ امریکی حکومت کو اپنی دفاعی اور معاشی ترجیحات کے لیے مسلسل قرض حاصل کرنے کی صلاحیت بھی عطا کی۔ تاہم، معاشی تاریخ دان ڈیوڈ وائٹ اور متعدد امریکی تحقیقاتی محققین نے اپنی تحریروں اور تحقیقاتی مقالوں میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ 1974 میں کوئی ایسا طے شدہ تحریری قانونی معاہدہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا جس میں باقاعدہ طور پر پچاس سال کی میعاد لکھی گئی ہو یا جس کی تجدید کا قانونی بندوبست کیا گیا ہو۔ اس کے باوجود موجودہ معاشی منظرنامے کو محض ایک افواہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حالیہ برسوں میں عالمی سیاسی اور معاشی محور واضح طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہ ریاض اور سعودی حکومت کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاملات نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ سعودی عرب اب اپنے معاشی و سیاسی مفادات کو محض ایک مغربی طاقت سے منسلک رکھنے کی پالیسی ترک کر چکا ہے۔ چین، جو کہ سعودی خام تیل کا سب سے بڑا خریداری ملک بن چکا ہے، اپنی قومی کرنسی میں پٹرولیم کی خریداریاں بڑھانے کے لیے مستقل پرعزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بریکس بلاک میں سعودی عرب کی شمولیت اور کثیر الجہتی مرکزی بنک ڈیجیٹل کرنسی منصوبوں میں خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تجارت میں ایک ہی کرنسی کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ گرچہ معاشی معاہدے کے ختم ہونے کی خبر قانونی طور پر من گھڑت ہے لیکن اس کے پس پردہ موجود معاشی تبدیلیاں بالکل حقیقی ہیں۔ امریکی انتظامیہ اور صدر ٹرمپ کی پالیسی ساز ٹیم کے لیے یہ صورتحال انتہائی حساس نوعیت کی حامل ہے۔ واشنگٹن میں موجود معاشی مفکرین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر دنیا کی بڑی توانائی برآمد کرنے والی ریاستیں اپنی فروخت کے لیے متبادل ذرائع یا دیگر قومی کرنسیوں کا استعمال بڑھا دیتی ہیں تو اس سے امریکی حکومت کی سستے نرخوں پر قرض حاصل کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکہ میں افراط زر کی شرح، بڑھتی ہوئی سود کی شرحیں اور ہاؤسنگ مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اگر عالمی بینکوں نے امریکی تمسکات کی خریداری کم کر دی تو امریکی معیشت کو شدید اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سفارت کار سعودی عرب کے ساتھ ایک نیا اور جامد سلامتی کا معاہدہ طے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تا کہ دفاعی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے عوض ریاض کو واشنگٹن کے مالیاتی دائرہ کار سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔ نتیجہ کے طور پر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عالمی معاشی معرکے میں کسی ایک یکطرفہ سمجھوتے کا خاموشی سے خاتمہ نہیں ہوا بلکہ یہ ایک جاری تدریجی تبدیلی کا حصہ ہے۔ پچاس سال قبل شروع ہونے والا تعامل اب ایک نئے اور کثیر القطبی دور میں داخل ہو چکا ہے۔ دنیا بھر کے معاشی تجزئیہ نگار اور پالیسی ساز اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ امریکی کرنسی کی تسلط پسندانہ حیثیت راتوں رات ختم نہیں ہوگی، لیکن سعودی عرب کی طرف سے اپنے تجارتی راستوں کو وسعت دینے کے اقدامات اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ اکیسویں صدی کا عالمی نظام کسی ایک طاقت کی مرضی کا پابند نہیں رہے گا۔ آنے والے برسوں میں دنیا بھر کی منڈیاں، بین الاقوامی بینک اور حکومتیں اس نئی معاشی حقیقت کے مطابق اپنی حکمت عملی تشکیل دینے پر مجبور ہوں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here