اللہ رب العزت نے قلم کی قسم کھائی ہے۔ قلم کی حرمت معاشرے میں اخلاقی قدریں پیدا کرتی ہے۔ قلم ہر معاشرے کی اخلاقی رواداری کا عکاس ہوا کرتا ہے۔ قلم سے مراد تعلیم ہے، جس کے ذریعے انسان جہالت کے اندھیروں سے نکل کر عقل و شعور حاصل کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین ہی جانا پڑے۔ زمانہ جاہلیت میں چین ایک دور دراز علاقہ سمجھا جاتا تھا، مگر جیسے جیسے انسان نے علم حاصل کیا، اس نے ترقی کی منازل طے کیں۔ فاصلے سمٹ گئے اور منزلیں آسان ہوتی چلی گئیں۔ انسان نے محض سواری سے سفر شروع کر کے بلٹ ٹرین اور ہوائی جہاز تک ترقی کا سفر طے کیا اور چاند پر جا پہنچا۔
دوسری جانب سیاسی اشرافیہ کی صورتحال یہ ہے کہ وہ روزانہ ابلاغی ذرائع پر سچائی کے برعکس دعوے کرتی نظر آتی ہے۔ معاشی ابتری کا شکار طبقہ قوم پر مسلط ہے جنہیں تعلیم، صحت اور انصاف سے کوئی غرض نہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام جہالت کی عمیق گہرائیوں میں دھنستے چلے جا رہے ہیں اور ذہنوں کو قفل لگ چکے ہیں۔ قوموں کی ترقی کا راز صرف اور صرف تعلیم اور انصاف کی فراہمی میں پنہاں ہوتا ہے، جبکہ وہ معاشرے تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں تعلیم کی جگہ جہالت اور انصاف کی جگہ ظلم پروان چڑھتا ہے۔ حکمران طبقے نے عام اور غریب آدمی کے لیے تعلیم کا حصول دشوار بنا دیا ہے۔ سیاسی اشرافیہ، اعلیٰ افسران اور بااثر شخصیات کے بچے بیرون ملک گرامی قدر تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر تعلیم کو نجی اداروں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اسی عدم توجہی کا نتیجہ ہے کہ نویں اور دسویں جماعت کے نتائج انتہائی تشویش ناک سامنے آئے۔ پنجاب میں پچاس فیصد بچے ناکام ہوئے، مگر کسی ذمہ دار یا سیاسی جماعت نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا کہ تعلیم کا معیار اس حد تک گر چکا ہے۔ یہ صورتحال بحیثیت قوم ایک لمحہ فکریہ ہے۔
ملک کا پڑھا لکھا اور باصلاحیت طبقہ روزگار کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے، جس کی حکمرانوں کو کوئی فکر ہے نہ پریشانی۔ سیاسی اشرافیہ کا زیادہ تر وقت بیرون ملک گزرتا ہے اور ان کے مفادات بھی ملک سے باہر وابستہ ہیں۔ ایک طرف کروڑوں اور اربوں روپے کے اخراجات سے آسائشیں خریدی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف معاشرہ عدم مساوات اور ظلم کی تصویر بنتا جا رہا ہے۔ یہاں عام عوام کے لیے نہ تو تربیت کے مناسب مواقع موجود ہیں اور نہ ہی ہنر مند افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ نااہل اور غیر تربیت یافتہ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں، جن کی کارکردگی اور ترقی صرف تحریری دعوؤں اور تصویری نمائش تک محدود ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم باہر سے منگوانی پڑتی ہے اور زراعت جیسے اہم شعبے کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جب باگ ڈور نااہل، ضدی اور ظالم عناصر کے ہاتھ میں ہو تو معاشرے کا امن و سکون درہم برہم ہو جاتا ہے اور برکت و رحمت اٹھ جاتی ہے۔ ترقی صرف وہی معاشرے کرتے ہیں جن میں دور جدید کے تقاضوں کے ساتھ چلنے کی صلاحیت ہو۔
اللہ رب العزت نے سورة العصر میں زمانے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ انسان یقیناً خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیکی کی تلقین کی، سچائی کی تعلیم دی اور صبر اختیار کیا۔ اس مختصر سی سورة میں خالق کائنات نے حکمت و دانائی کا بحرِ بے کنار سمو دیا ہے۔ یہ رب ذوالجلال والاکرام کا فضل و کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں سے محبت فرماتا ہے۔ مالکانہ تصرف رکھنے والے رب نے اس مملکت خداداد کو بیش بہا نعمتوں سے نواز رکھا ہے، مگر اقتدار ایسے عناصر کے ہاتھ میں ہے جنہیں صرف اپنے ذاتی مفادات اور تجوریاں بھرنے کی فکر رہتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکمران طبقہ عام مخلوق سے الگ تھلگ ہے اور ان کے اندر انسانیت و اخلاقیات کی شدید کمی ہے۔ وہ کسی بھی عوامی سوال پر اس طرح برہم ہو جاتے ہیں جیسے ملک ان کی ذاتی جاگیر ہو۔
کچھ لوگوں کے نزدیک سندھ کی دھرتی ماں کا درجہ رکھتی ہے، مگر اسی دھرتی کے وسائلو رقم کو نوچ کر بیرون ملک بینکوں کے کھاتے بھرے جا رہے ہیں۔ یہی حال پنجاب کے حکمرانوں کا ہے جن کی تمام تر جائدادیں اور مفادات لندن میں ہیں اور وہ صرف حکمرانی کی غرض سے یہاں آتے ہیں۔ نمائشی اداکار اور تحریری شعبے کے لوگ ٹی وی سکرینوں پر عدم صداقت پر مبنی بیانیے فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بیشتر قلم کار اور صحافی اپنے ضمیر اور قلم کی حرمت کا سودا کر چکے ہیں۔ اکثر صحافت بازاری اور کاروباری شکل اختیار کر چکی ہے، جبکہ محض چند فیصد ہی ایسے صحافی باقی بچے ہیں جنہیں خالق کا خوف، قلم کی حرمت کا پاس اور قوم کی حقیقی ہمدردی عزیز ہے۔
سیاسی جماعتوں کی قیادت کی زبان میں تکبر، طنز اور ناشائستگی ان کی سیاسی تربیت اور اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چاہے پاکستان تحریک انصاف ہو یا مسلم لیگ، پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم، جمیعت علمائے اسلام ہو یا دیگر مقتدر حلقے، ان کے بیانات اور گفتگو سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اقتدار نااہل ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں نے اپس میں شدید سیاسی دشمنیاں پال رکھی ہیں۔ تحریک انصاف کی سیاست نے عدم برادشت کے کلچر کو فروغ دیا، جبکہ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی ماضی میں اسی طرح کے رویوں کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ نواز شریف، مریم نواز اور عمران خان ایک ہی جیسی سوچ کے عکاس معلوم ہوتے ہیں، جہاں ایک دوسرے کی تضحیک، کردار کشی اور اخلاق سے گری ہوئی حرکات ان کے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکی ہیں۔
غفلت اور کاہلی کی وجہ سے ایسے عناصر قوم پر مسلط ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال سے نجات حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، ورنہ یہ حالات عوام کی رمق بھی نچوڑ لیں گے۔ ان لوگوں نے کرپشن کے ساتھ ساتھ بانیِ پاکستان قائد اعظم کے پاکستان سے رواداری اور اخلاقی اقدار کا خاتمہ کر دیا ہے۔ پاکستان سے ہر سال اربوں ڈالر کا سونا اور تانبا نکلتا ہے، مگر ملک پھر بھی مقروض ہے۔ دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں شمار ہونے کے باوجود عوام کو ایشیا کی مہنگی ترین گندم خریدنی پڑ رہی ہے۔ کھیل، جراحی کے سامان اور چمڑے کی صنعت میں ممتاز مقام رکھنے کے باوجود ملک عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے۔
عوام کو اپنے حقوق کی بحالی، ذہنی غلامی سے آزادی اور کرپٹ عناصر سے چھٹکارے کے لیے بیدار ہونا پڑے گا۔ اس وقت ملک کو ایک ایسی مخلص اور باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کی مشکلات کا خاتمہ کر سکے اور ملک کو عالمی اداروں کی غلامی سے نجات دلا سکے۔ قوم کو طے کرنا ہوگا کہ ان قومی مجرموں سے جان چھڑانی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مالِکِ ارض و سماں اس ملک کو مفاد پرست سیاست دانوں کے شر سے محفوظ رکھے اور وطنِ عزیز کی سلامتی فرمائے، آمین۔













