آج ہم نے سوچا سیاست میں چاہے وہ یہاں کی ہو یا پاکستان کی کوئی ایسی بات نہیں کہ ذکر کیا جائے بارہا سوچا ترک کردیں لکھنا جب تک حالات درست نہیں ہوتے جس کے امکانات کم ہیں۔ مذہب پر لکھنے کیلئے ناراضگی مول لینا پڑے گی کہ اب یہ کافی لوگوں کیلئے کاروبار بن چکا ہے۔ مساجد بنانا اور بنوانا ضروری ہیں لیکن اس حد تک کہ عبادت کی جائے۔ ایک دو کو چھوڑ کر ذکر ہوسکتا ہے پھر ہم نے سوچا کیوں نہ ان لوگوں کا ذکر کیا جائے جو اب ہم میں نہیں اور شمع جلا کر چلے گئے یا پھر ہیں مگر نہیں ہیں اور جو ہیں وہ خاموش ہیں۔ پہلے نام لکھتے چلیں۔ یونس شرر اور قمر عباسی یا قمر امرہوی جنہوں نے ادب اور شاعری میں تلاطم برپا کیا لیکن ان کے علاوہ مشہور ناظم طاہر خان کا نام لینا ضروری ہے جو عرصے تک ارباب ذوق کو چلاتے رہے بلکہ دوڑاتے رہے اور بہت سے لوگوں کو متعارف کرایا۔ وہ ایک بہت ہی سلجھے ہوئے ناظم رہے ہیں اور ہیں۔ کسی بھی پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے ان کی نظامت اس بات کی ضمانت ہے کہ پروگرام کامیاب ہے۔ انہوں نے کئی اور پروگرام بھی متعارف کرائے۔ ان کے ساتھ تھے ڈاکٹر شفیق صوفی مشتاق اور عتیق صدیقی صاحب۔ ڈاکٹر شفیق اپنی ذاتی مجبوری کے تحت روپوش ہیں جبکہ طاہر خان عتیق صدیقی صاحب کے ساتھ مل کر ٹی وی پر سیاست اور حالات حاضرہ پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔
اب ہم سید فضل الحق سید کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو مذہبی سیاسی اور ادبی پروگراموں کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ گو کہ وہ خاموش ہیں لیکن ان کی موجودگی اہم ہے۔ عتیق صدیقی بلاشبہ ایک دانشور ہیں اور ان کے علاوہ دوسرے دانشور واصف حسین واصف ہیں جو کم ہی نظر آتے ہیں۔ وکیل انصاری کا ذکر تنظیم فکر و فن کے لئے کرنا ضروری ہے اور اعجاز بھٹی ان سے جڑے ہوئے ہیں اور ادب و شاعری کی محفلیں سجا رہے ہیں۔ ہم کالم نویس کیسے بنے اس کے لئے عارف افضال عثمانی کا نام لینا ضروری ہے کیونکہ ان کے اخبار ایشیا ٹریبیون سے ہم نے لکھنا شروع کیا تھا اور اب پاکستان نیوز میں لکھتے ہیں جو ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ مامون ایمن کا نام بھی ضروری ہے جو کئی صدیوں سے اپنا نام بنائے ہوئے ہیں۔
نئے لکھاریوں اور دوستوں میں ہم فخر سے ڈاکٹر عامر بیگ کا نام لیں گے جو شاعر اور افسانہ نگار کے ساتھ کالم نویس بھی ہیں اور ان کی کتاب آنکھوں دیکھا آنے والی ہے۔ افسانے کے میدان میں جمیل عثمان کا نام نہ لینا ناانصافی ہوگی۔ یہ کہتے چلیں کہ ڈاکٹر عامر بیگ نے ہمارے بکھرے ہوئے افسانوں کو سمیٹ کر جیون کی تلاش کو کتابی شکل دے ڈالی۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے اور ان کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے مثال ایسی ہی ہے کہ دوستی ادب اور خلوص کے کنوئیں میں بالٹی ڈالو اور بھر بھر کر اچھی باتیں نکالو تاکہ دوسرے بھی چاہیں تو اپنے علاوہ اوروں کو ملا کر آگے بڑھیں۔ یہ خود افسانہ نہیں بلکہ ناول ہیں اگر زندگی رہی تو لکھیں گے۔ وکیل انصاری کافی عرصے سے شاعری اور شعرا کی محفلیں فکر و فن کے زیر اہتمام سجا رہے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ ان کی بڑی بات یہ ہے کہ فکر و فن کی ذمہ داری انہوں نے نوجوانوں کے شانوں پر ڈال دی ہے۔ ایک اور جوان افسانہ نگار ہیں جو ہالی ووڈ کے لئے ایک فلم بھی بنا چکے ہیں۔ لوو ٢ آرٹ بہت خوبصورت فلم تھی اور ڈائریکشن جو سب سے مشکل کام ہے ممتاز حسین ہی کی تھی۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کے افسانہ نگار ہیں اور ہم ان سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے دوست جمیل عثمان کا نام نہ لینا افسانہ نگاری میں امانت میں خیانت ہوگی جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور نئے نئے راستے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ وہ خوبصورت افسانے لکھتے ہیں اور فکر و فن سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایک اور خوبصورت انسان کا ذکر ضروری ہے جو اے آر وائی ٹی وی کے محسن جمال ہیں اور ایک پیاری شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ تو تھیں ان کی باتیں جو ہم سے جڑے ہیں۔ سیاست کے میدان میں راجہ رزاق جب بھی ملتے ہیں ان کا خوش آمدیدی رویہ ہوتا ہے۔ ہر چند کہ ہم عمران خان سے جڑے ان 25 کروڑ لوگوں میں سے ایک ہیں مگر ہم انہیں دوست کہیں گے۔ احتشام رضا کاظمی اچھے شاعر اور لکھاری ہیں اور خوبصورت بات کرتے ہیں جب بھی تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ اسی طرح حماد خان جن کی تازہ کتاب سرائیکی شاعری پر ہے انہیں بھی ہم نہیں بھول پاتے۔
اب آئیے دو خواتین شخصیات کی طرف۔ فرح کامران جو مشاعرہ اور نظامت کے علاوہ اچھی منتظم بھی ہیں اور یہ کام آسان نہیں۔ اسی طرح خالدہ ظہور فن شناس شخصیت ہیں اور ادب و شاعری کے میدان میں ان کے لئے بھی لکھنے کو بہت کچھ ہے۔ اب ہم ان دوستوں کا ذکر کرتے چلیں جن سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں جن میں اسلم پرویز اقبال کھوکھر بشیر قمر اور ملک اللہ بخش شامل ہیں۔ ملک صاحب ہمارے سفر کیوبا کے ساتھی ہیں جو ہمیں کیوبا لے کر گئے تھے اور وہاں سے بہت کچھ لے کر آئے تاکہ امریکہ والوں کو بتا سکیں کہ سوشلزم اور کمیونزم کس بلا کا نام ہے۔ اقبال کھوکھر جانے پہچانے نیویارک میں ہمارے پڑوسی ہیں اور ایک کتاب امریکہ میرے آگے کے مصنف ہیں۔ قمر بشیر ہمارے محترم دوست ہیں کہ جب بھی ملتے ہیں پیار سے بات کرتے ہیں اور دوستوں کے دوست رہے ہیں۔ قمر امرہوی کو انہوں نے ہی امریکہ میں مقبولیت دلوائی تھی۔ قمر بشیر خود بھی مشہور تو تھے ہی اور عرصے سے ناسا میں آئزن ہاور پارک میں یوم آزادی پر بڑے گھمسان کے میلے کراتے رہے ہیں اور اب اسی سال سے انہوں نے سفوک کاؤنٹی میں ایسے ہی میلے کا آغاز کیا ہے۔ وہ کئی سفری کتابیں لکھ چکے ہیں اور ہم ان کی ہمت کی داد دیں گے کیونکہ سفر اس ارادے سے کرنا کہ سفر نامہ لکھنا ہے کوئی آسان کام نہیں اور اب ان کی بیگم بھی اس کام میں ان کا ساتھ دیتی ہیں۔
سید فضل الحق ہمارے 53 سالہ پرانے دوست ہیں جو پہلے کی طرح آج بھی اسی خلوص سے ملتے رہتے ہیں۔ کہیں جانا ہو تو پوچھتے ہیں کہ تم جا رہے ہو اور ہمارا جواب ہوتا ہے کہ وہاں اگر تم جا رہے ہو۔
اب ذرا ذکر ہو جائے ایک اور محترم دانشمند دوست واصف حسین واصف صاحب کا۔ بلاشبہ ہم نے اور کئی دوستوں نے انہیں دانشمند کا لقب دیا ہے۔ آپ ان کی کتاب اقرا پڑھ کر دیکھ لیں جس کے بارے میں شاید 20 سال بعد لوگ کہیں گے کہ بہت درست باتیں لکھی ہیں۔ یہ کتاب ہرگز ان کے لئے نہیں جو بار بار عمرہ اور حج کرتے ہیں جو پڑھنے سے دور بھاگتے ہیں اور جن کی سوچ انڈے میں سفیدی اور زردی کی مانند محدود ہے۔ جن سے پوچھا جائے کہ کیا شغل ہے تو جواب ہوگا کہ کیا لکھیں آپ خود ہی دے دیجئے۔ اس کتاب کی رونمائی ہونا تھی لیکن واصف صاحب نے مناسب نہ سمجھا اور ہمارے لئے لینے کے دینے پڑ گئے کیونکہ حلقہ ارباب ذوق نے ان کی عدم موجودگی میں ہی تقریب کا انعقاد کر دیا۔ صوفی مشتاق کے لئے اتنا کہوں گا کہ وہ بولیں اور محترم عتیق صدیقی کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ وہ ایک عمدہ شخصیت دانشمند کالم نگار اور بہترین نقاد ہیں کہ انہیں کتاب دی جائے تو اجرا کے دن وہ کتاب کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور کتاب کے مصنف کو سوچنا پڑتا ہے کہ کیا یہ میں ہوں۔ بلاشبہ ہیرے کو جوہری ہی پہچان سکتا ہے اور ان کی باتیں دل موہ لینے والی ہیں۔











