معاشی مشکلات اور قرضوں سے نیویارک ٹیکسی ڈرائیورز کی ہلاکتوں میں اضافہ !!!

0
6

معاشی مشکلات اور قرضوں سے نیویارک ٹیکسی ڈرائیورز
کی ہلاکتوں میں اضافہ !!!

نیویارک کی شاہراہوں پر دوڑتی ہوئی پیلی ٹیکسیاں دہائیوں سے اس شہر کی منفرد شناخت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں لیکن انہی گاڑیوں کے پیچھے چھپی داستان اب محض سفر کی کہانی نہیں بلکہ بقا ئکی ایک ہولناک جنگ بن چکی ہے۔ حال ہی میں ٹیکسی کے اندر کام کے اوقات کے دوران چار ٹیکسی ڈرائیوروں کی اچانک اموات نے اس تجارتی شعبے کے تاریک رخ کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ محض اتفاقی حادثات یا جسمانی بیماریاں نہیں ہیں بلکہ یہ اس معاشی استحصال کا نتیجہ ہیں جو خاموشی سے محنت کشوں کو نگل رہا ہے۔ مرنے والے تمام افراد تارکینِ وطن تھے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت اور بہتر مستقبل کی تلاش میں اس شہر میں آئے تھے لیکن وہ قرض کے ایک ایسے جال میں پھنس گئے جس سے نکلنے کا واحد راستہ ان کے لیے موت ہی بن کر سامنے آیا۔
اس سانحے کی بنیادی وجہ وہ مالی بوجھ ہے جو ڈرائیوروں کو گاڑی چلانے کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے اٹھانا پڑتا ہے۔ اس پروانے کے حصول کے لیے لیا جانے والا قرض ایک ایسی زنجیر بن چکا ہے جو ڈرائیور کو ہر لمحہ جکڑے رکھتی ہے۔ نیویارک جیسے گرانی کے مارے ہوئے شہر میں روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے کرنا ہی ایک دشوار ترین مرحلہ ہوتا ہے اور اس پر ہر ماہ کی بھاری قسطیں ادا کرنے کا دباؤ محنت کشوں کو ناقابلِ برداشت ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کام کے لیے نکلتے ہی ڈرائیور کا دن منفی اعداد و شمار سے شروع ہوتا ہے کیونکہ اسے سب سے پہلے دن بھر کے بنیادی اخراجات اور گاڑی کے مالک یا بینک کا حصہ پورا کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ ایک مخصوص رقم حاصل نہ کر لے اس وقت تک اس کی اپنی کوئی روزی روٹی نہیں بنتی۔ یہی وجہ ہے کہ شدید بیماری، خاندانی غم یا کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے باوجود یہ محنت کش گاڑی کا اسٹیرنگ چھوڑنے کی ہمت نہیں کر پاتے کیونکہ کام روکنے کا سیدھا مطلب مزید مقروض ہونا ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں شہر کے معاشی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں نے اس بحران کو مزید شدید کر دیا ہے۔ پرائیویٹ ٹیکسی سروسز یعنی اوبر اور لفٹ جیسی بے تحاشا سروسز نے بغیر کسی ضابطے کے مسافروں کی منتقلی نے روایتی گاڑیوں کے کاروبار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ پہلے جہاں ان گاڑیوں کی مانگ اور قدر بہت زیادہ تھی اور ڈرائیور مناسب معاوضہ کما لیتے تھے وہاں اب صورتِ حال بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ مقابلے کی اس دوڑ میں سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے جبکہ روایتی ڈرائیوروں کی آمدنی میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی معاشی دباؤ کے باعث ڈرائیور چودہ سے سولہ گھنٹے مسلسل کام کرنے پر مجبور ہیں جس کے نتیجے میں شدید ذہنی تناؤ اور جسمانی تھکن ان کی صحت کو نچوڑ دیتی ہے۔ پچھلے دور میں اس طرح گاڑیوں کے اندر ڈرائیوروں کے دم توڑنے کی مثالیں نہیں ملتی تھیں کیونکہ اس وقت کام کا ماحول اس قدر سنگین اور جابرانہ نہیں تھا لیکن اب یہ صورتِ حال ایک دائمی عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
نیویارک شہر کی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی بے حسی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانون ساز ادارے اور بلدیاتی کمیٹیاں سڑکوں کی حفاظت اور نئی ٹیکنالوجی کی تنظیم کے بارے میں تو مختلف قوانین پر غور کرتی رہتی ہیں لیکن ان انسانوں کی زندگی کی حفاظت ان کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتی جو اس شہر کے نقل و حمل کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ نیویارک کی سڑکیں اگرچہ دن رات روانی سے چلتی رہتی ہیں لیکن اس روانی کو برقرار رکھنے کے لیے جن محنت کشوں کا خون پسینہ بہایا جا رہا ہے ان کی داد رسی کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ جب تک اس بنیادی معاشی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جاتا اور ان پروانوں کے لیے لیے گئے قرضوں کی ازسرنو تنظیم یا معافی کا کوئی منصفانہ منصوبہ پیش نہیں کیا جاتا یہ المیہ اسی طرح جاری رہے گا۔
نیویارک میں پیش آنیوالے یہ واقعات صرف چند افراد کی موت کا واقعہ نہیں ہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب معاشی نظام انسانی اقدار سے بالاتر ہو جائے تو محنت کش طبقہ کس طرح پس جاتا ہے۔ تارکینِ وطن جو روشن مستقبل کے خواب لے کر اس دیار میں قدم رکھتے ہیں وہ محض اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ اگر اب بھی شہر کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے اس تباہ کن صورتِ حال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا اور ڈرائیوروں کے حقوق اور ان کے کام کے اوقات کی حد بندی کے لیے عملی قدم نہ اٹھایا تو یہ چمکتی ہوئی پیلی گاڑیاں محض نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ محنت کشوں کے لیے چلتی پھرتی قبریں بن کر رہ جائیں گی۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here