وبال جان…!!!

0
6
ماجد جرال
ماجد جرال

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے صرف ان دونوں ممالک کو ہی اپنی لپیٹ میں نہیں لیا بلکہ اس کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر خطے تک پہنچ رہے ہیں۔ جنگ جہاں انسانی جانوں کے ضیاع، تباہی اور خوف کا باعث بنتی ہے، وہیں اس کے معاشی اثرات بھی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک کسی نہ کسی شکل میں اس جنگ کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ خصوصاً وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونِ ملک سے تیل درآمد کرتے ہیں، ان کے لیے صورتحال مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے سب سے اہم تیل پیدا کرنیوالے خطوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونیوالی کسی بھی بڑی کشیدگی سے عالمی توانائی کی سپلائی کے بارے میں خدشات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ تیل کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی ان ممالک کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف پٹرول اور ڈیزل ہی مہنگے نہیں ہوتے بلکہ اس کا اثر ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر پڑتا ہے۔
سب سے زیادہ دباؤ ترقی پذیر اور درآمدی توانائی پر انحصار کرنیوالی معیشتوں پر پڑتا ہے۔ ان ممالک کو تیل خریدنے کے لیے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً ان کے تجارتی خسارے میں اضافہ، مقامی کرنسی پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حکومتیں ایک طرف عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں اور دوسری طرف انہیں بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جنگ کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ عالمی تجارت، بحری نقل و حمل اور بیمہ کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اگر خطے میں سمندری راستوں یا توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں کو خطرہ لاحق ہو تو جہاز رانی کی کمپنیاں زیادہ خطرے کا معاوضہ طلب کرتی ہیں۔ اس اضافی لاگت کا بوجھ بالآخر صارف تک پہنچتا ہے۔ یوں ایک ایسے ملک کا شہری بھی، جو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھا ہے، جنگ کے اثرات اپنی جیب پر محسوس کر سکتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو عالمی مالیاتی منڈیوں کا غیر یقینی ماحول ہے۔ جنگ کے دوران سرمایہ کار عموماً زیادہ خطرناک اثاثوں سے محتاط ہو جاتے ہیں اور نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کرنسیوں، اسٹاک مارکیٹوں، بانڈز اور سونے کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ کاروباری اداروں کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ توانائی، خام مال اور نقل و حمل کی لاگت اگلے ہفتے یا اگلے ماہ کہاں کھڑی ہوگی۔
ترقی یافتہ ممالک بھی اس بحران سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اگر توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو وہاں بھی مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود کے فیصلے پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور معاشی ترقی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف غریب ممالک کے لیے مسئلہ کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے پاس بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے مالی وسائل محدود ہوتے ہیں۔
اصل تشویش یہ ہے کہ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کے بالواسطہ اثرات اتنے ہی وسیع ہو سکتے ہیں۔ آج مسئلہ تیل کی قیمت ہے، تو کل خوراک، بجلی، صنعت اور روزگار کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس طرح ایک علاقائی جنگ عالمی معیشت کے لیے ایسی زنجیر پیدا کر سکتی ہے جس کی ایک کڑی دوسری کڑی کو متاثر کرتی چلی جائے۔
دنیا کو ایسے وقت میں جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ طاقت کے استعمال سے کسی ایک فریق کو وقتی فائدہ مل سکتا ہے، لیکن طویل جنگ کا معاشی اور انسانی بوجھ بالآخر عام انسان ہی اٹھاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا انجام جو بھی ہو، عالمی برادری کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اس بحران کو مزید پھیلنے سے کیسے روکا جائے۔جنگ کے میدان میں گولیاں چند ممالک کی سرحدوں تک محدود رہ سکتی ہیں، لیکن اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کی منڈیوں، کاروباروں اور گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here