پیارے دوستو، بار بار کی ناکامی بعض اوقات انسان کو مایوسی، حوصلہ شکنی اور ہار ماننے کا احساس دلاتی ہے۔ اگرچہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ناکامی بھی کامیابی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ناکامیوں کے بغیر انسان نہ تو سیکھ سکتا ہے، نہ آگے بڑھنے کا حوصلہ آتا ہے اور نہ ہی وہ خود کو بہتر بنا سکتا ہے۔
بہت دفعہ یہ سوال آتا ہے کہ انسان کب اور کتنی کوشش کرے، کیونکہ بار بار ناکامی ہی ہوتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کئی بار ہماری کوششیں اور ہمارے مقاصد ایک سیدھ میں نہیں ہوتے۔ یعنی مقصد کچھ ہوتا ہے اور کوشش کچھ اور ہو رہی ہوتی ہے۔ اسے یوں سمجھ لیجیے کہ جہاں کیل لگانے کے لیے ہتھوڑے کی ضرورت ہے، وہاں اگر صرف ہاتھ کا ہی استعمال کرتے رہیں گے تو ہم صرف اپنا ہاتھ ہی زخمی کریں گے اور حاصل کچھ نہیں ہوگا۔
اگر آپ یہ جان لیتے ہیں کہ آپ کی کوششیں آپ کے اہداف یا ٹارگٹ سے مماثل نہیں ہیں، تو اس کا دوبارہ جائزہ لینا اور ضروری ایڈجسٹمنٹ کرنا لازم ہے۔ اپنے مقاصد کو واضح کریں۔ کچھ وقت لیں اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اپنی کوششوں کا اندازہ کریں، ان اقدامات کو دیکھیں جو آپ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کر رہے ہیں۔ کیا وہ موثر ہیں؟ کیا آپ اپنی بنائی گئی حکمت عملی پر مستقل مزاجی سے کام کر رہے ہیں؟ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو بہتری لانے کی ضرورت ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ رکاوٹ کی نشاندہی کرنا کہ آپ کی کامیابی کی راہ میں کیا حائل ہو رہا ہے، نہایت اہم ہے۔ کیا کوئی بیرونی یا اندرونی عوامل ہیں جو آپ کو اپنے مقاصد کے حصول سے روک رہے ہیں؟
اپنے ساتھ ایماندار رہیں اور ان رکاوٹوں پر کام کریں۔ بار بار ناکامی کو مینج کرنے کے لیے اسے قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر ہی جائزہ لیا جا سکے گا کہ کہاں غلطی ہو رہی ہے، کہاں تبدیلی کی ضرورت ہے اور کس جگہ بہتری لانی ہے۔ اس کے لیے ایک مثبت سوچ اور طرز فکر کے ساتھ اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔
٭٭٭














