یہاں نیو یارک کے مرکز مین ہٹن کی بلند و بالا عمارتوں کے جنگل میں ہر سال ماہِ ستمبر کا ایک ہفتہ ایسا بھی گزرتا ہے جب دنیا بھر کی حکومتوں کے سربراہ، وزیر اور مشیر اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے جمع ہو کر جنگ و امن کے رموز و اسرار پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ ویسے تو زیادہ تر تقریریں اور بحثیں لایعنی اور وقت کا ضیاع سمجھی جاتی ہیں لیکن کبھی کبھی کوئی علامتی عمل اور پھر اس پر ردِ عمل ہماری دنیا کے موجودہ بی ڈائریکٹ نظم و ضبط کے دہرے معیارات کو ایک بڑے فورم پر عیاں کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ نام نہاد سپر پاور نے گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی فلسطین کے سربراہ محمود عباس کو اس سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزہ نہیں دیا۔ دوسری جانب عالمی عدالت سے مفرور شخص اور لاکھوں مظلوم فلسطینیوں کے قاتل کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ اسی طرح غزہ کے بچوں کے قاتل کی تقریر کے دوران بحرین، امارات، مراکش اور دیگر چند ممالک کا اسمبلی ہال میں بیٹھا رہنا بھی مجرمین اور منافقین کی فہرست میں درج ناموں کا اعلان ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں ندا فاضلی کا ایک خوبصورت شعر حاضر ہے۔
ہر ایک چہرے پہ لکھے ہیں کئی چہروں کے نام
تم جسے دیکھو اسے اپنے ہی جیسا دیکھو
دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے ہر سال اس اجلاس میں شریک ممالک کی مقبولیت اور غیر مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ چند سال پہلے جب وزیرِ اعظم عمران خان اس سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تھے تو بلاشبہ پاکستانی وفد مرکزِ نگاہ بنا رہا تھا۔ ہمارے صحافی ساتھیوں کے مطابق اس سال یہ اعزاز ایرانی وفد کو حاصل رہا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی دیکھنے کو ملی کہ بہت سارے سربراہانِ مملکت نے میڈیا کی خصوصی توجہ حاصل کرنے کے لیے نیو یارک کے مسلمان میئر ظہران ممدانی سے ملاقات کا سہارا لیا اور اس فہرست میں امریکی صدر ٹرمپ بھی شامل تھے۔
اس سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت بنگلہ دیش کے مندوب ڈاکٹر خلیل الرحمان کے پاس ہے۔ انہوں نے ہفتے کے پہلے دن ہی سماجی کاروبار، نوجوان اور ٹیکنالوجی کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کا اہتمام کیا ہوا تھا جس میں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک رہے۔ زکوٰةفاؤنڈیشن آف امریکہ کو گذشتہ برس اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کی رکنیت ملی تو ان کے مندوب کی حیثیت سے مجھے بھی اب اقوامِ متحدہ کے مختلف اہم اجلاسوں میں شرکت کا موقع مل جاتا ہے۔ اس خصوصی اجلاس میں شریک تمام مندوبین نے ڈاکٹر محمد یونس کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی یہ عزت افزائی دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بنگلہ دیشی بھائیوں کو مزید عزت و عظمت سے نوازے۔ عبیداللہ علیم کا یہ شعر ذرہ سی تحریف کے ساتھ میری دلی کیفیت بیان کر رہا ہے۔
دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں
وہ ایک ”ملک” جو دل کو دعا سا لگتا ہے
زکوٰة فاؤنڈیشن پوری دنیا میں ہزاروں نادار اور یتیم بچوں کی کفالت کرتی ہے اور اس سلسلے میں ہم اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے بچوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کے نظام ویسے تو حکومتوں کی مدد کے لیے بنے ہوئے ہیں لیکن بڑی تعداد میں بچوں کی کفالت کرنے کی وجہ سے زکوٰة فاؤنڈیشن بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ امریکہ میں اس ادارے کے دو بڑے حصے ہیں؛ پہلا حصہ واشنگٹن ڈی سی کے حکومتی ایوانوں میں اپنے مقاصد کی پیش رفت کے لیے کام کرکے وسائل حاصل کرتا ہے جبکہ دوسرا حصہ عالمی ادارے کے طور پر نیو یارک کے اقوامِ متحدہ پلازہ میں قائم و دائم ہے۔ اس سفر کے دوران میری ایک انتہائی اہم ملاقات ادارے کے امریکہ شعبے کے اعلیٰ انتظامی سربراہ سے دو بدو ہوئی جبکہ دوسری ملاقات میں انتظامی ایجنسی کے مختلف اعلیٰ عہدیدار شریک رہے۔ ہر طرف پھیلے ہوئے اسلام سے خوف کے طوفانوں میں اپنا کام کرنے کے لیے چند دردمند اور ہمدرد لوگوں کا دستیاب ہو جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
ملیں جب درد مندوں سے تو کچھ دل کی کہیں ہم بھی
سنائیں داستانِ غم، سنیں کچھ ان کی بھی ہم بھی
اس سال جنرل اسمبلی اور اس کی ذیلی نشستوں میں ہونیوالے تقریباً سارے اجلاسوں میں مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلو چھائے رہے۔ زیادہ تر لوگ خوف کا شکار نظر آئے اور اس موضوع پر ماہرین کی کمی کی وجہ سے کوئی متوازن بحث کم ہی دیکھنے کو ملی، تاہم اقوامِ متحدہ انسانیت کو درپیش خطرے کے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرنے کے لیے بالکل تیار نظر آئی۔ البتہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اور مضمرات پر الہامی مذاہب کا موقف بیان کرنے والے غائب تھے۔ علماء اسلام کو بھی اس موضوع پر کافی تحقیق کرنی پڑے گی تاکہ دنیا مصنوعی ذہانت پر جن حدود و قیود کے عائد کرنے کی باتیں کر رہی ہے ان میں ہمارے موقف کا تعین بھی ہو سکے۔ اس ضروری تحقیق سے پہلے ہی باقی دنیا کی طرح ہم لوگ بھی مصنوعی ذہانت کے صارف تو بن ہی چکے ہیں۔ آج کل کی نئی غزلوں کا معیار دیکھ کر صاف لگتا ہے کہ ہمارے کسی شاعر نے مصنوعی ذہانت کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ ویسے غالب کے اس مشہور زمانہ شعر سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری شاعری کے مضامین کہاں سے آتے ہیں۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے













