اسلام میں موت کا فلسفۂ حقیقت!!!

0
7

ایک امریکی جس نے صدر صدام حسین کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، بیان کرتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر کر رہا ہے اور اکثر یہ سوچتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔ اس کے مطابق صدام حسین ایک ایسی شخصیت تھے جو احترام کے لائق ہے۔ رات 2 بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا اور پھانسی کی نگرانی کرنیوالے گروہ کے سربراہ نے اندر آ کر امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام حسین کو اطلاع دی گئی کہ ایک گھنٹے بعد انہیں پھانسی دی جائے گی۔ یہ سن کر وہ ذرا بھی سراسیمہ نہ ہوئے۔ انہوں نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول تناؤل کیے جو انہوں نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، اس کے بعد شہد ملا گرم پانی پیا جو ان کا بچپن سے پسندیدہ مشروب تھا۔ کھانے کے بعد انہیں بیت الخلاء جانے کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے معذرت کر لی۔ رات 2:30بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے جو انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا معائن کر رہی تھی۔:45 2 بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔ 2:50بجے صدام حسین کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا جہاں موجود گواہان میں جج، علماء ، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔ 30:01 بجے پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا، جبکہ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا تھا۔ صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں، وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔ امریکی فوجی کا کہنا ہے کہ اس کا جی چاہا کہ وہ بھاگ جائے جب اس نے صدام حسین کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار ادا کر رہے تھے۔ اس فوجی نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور وہ کسی جال میں پھنس گئے ہیں، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔ اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو اس کے امریکی ساتھی یہی سمجھتے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔ لیکن اصل راز یہ ہے کہ انہوں نے کلمہ پڑھا اور مسکرائے۔ وہ امریکی فوجی یقین دلاتا ہے کہ وہ واقعی مسکرائے تھے، جیسے انہوں نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک ان کے سامنے ظاہر ہو گئی ہو، پھر انہوں نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ دہرایا جیسے کوئی غیبی طاقت ان سے کہلا رہی ہو۔
صدام حسین سے متعلق کچھ اہم حقائق یہ ہیں کہ وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے اور یہودیوں کو اس حد تک خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔ وہ جنگوں کے دوران بھی عرب قومیت کا نعرہ بلند کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے جج سے کہا کہ کیا تمہیں یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کر دیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، جس پر جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد رؤوف کو لایا گیا تھا۔ انہوں نے دشمنوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ اے غیرو، ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے شام اور لبنان سے کہا تھا کہ مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔
پھانسی سے ٹھیک پہلے امریکی افسر نے صدام حسین سے ان کی آخری خواہش دریافت کی تو صدام حسین نے اپنا وہ کوٹ لانے کو کہا جو وہ پہنا کرتے تھے۔ افسر کے تعجب اور وجہ پوچھنے پر صدام حسین نے جواب دیا کہ عراق میں صبح کے وقت شدید سردی ہوتی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ سردی کی وجہ سے ان کا جسم کانپے اور ان کی قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔ پھانسی سے قبل ان کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے اور انہوں نے عرب حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔ یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک سچی حقیقت بن چکا ہے۔ اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے۔ اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھ لی ہے تو حضور نبی کریم پر درود بھیجیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here