دنیا میں امن اور پاکستان میں ہیومن رائٹس کی دھجیاں

0
4
سردار محمد نصراللہ

قارئین اور عزیزان وطن! اقوام متحدہ کا اجلاس ختم ہوا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دھمکی اور چاپلوسی کا دو طرفہ تماشہ دیکھنے میں آیا، لیکن اگر کوئی بدنام ہوا تو پہلی مرتبہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی بربادی کا تماشہ دنیا نے دیکھا۔ ان کی ساری تقریر نیویارک کے میئر ممدانی کے سامنے ایک ناکام کوشش نظر آئی۔ جب وہ تقریر کیلئے ڈائس پر پہنچے تو تقریباً اسی ممالک کے سربراہان اور ان کا سفارتی عملہ احتجاجاً وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
پھر ہمارے وطن عزیز کے فارم 47 کے وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا میں امن و سلامتی کی بات کی، لیکن اپنے ہی ملک میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رکھی ہیں۔ ملک کے سب سے مقبول سیاستدان عمران خان، ان کی اہلیہ، ڈاکٹر راشدہ اور پاکستان تحریک انصاف کے تمام نامور قائدین کو تین سال سے پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود جمہوریت کا سوانگ رچا کر کس منہ سے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی گئی؟ یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوا جب پشت پناہی کے لیے سالار اعظم فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کھڑے ہیں۔
شہباز شریف کی قسمت اچھی تھی کہ نیویارک میں خراب موسم کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف اور جمہوریت پسند کارکن ان کیخلاف بھرپور مظاہرہ نہ کر سکے۔ اگر موسم کی صورتحال خراب نہ ہوتی تو امجد نواز اور ان کے ساتھیوں نے وہ احتجاج برپا کرنا تھا کہ لوگ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ بھول جاتے۔ وطن عزیز میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر اور ہر گلی کوچے میں کنٹینر کھڑے کر کے فارم 47 کی حکومت نے کون سا معرکہ مارا ہے؟ عمران خان کا خوف اس حد تک غالب ہے کہ عوام کی نظروں میں موجودہ حکومت اور تمام صاحبان اقتدار مکمل طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اب عوام کی باری ہے کہ وہ کب ان تمام مظالم کے خلاف اور اپنی نجات کے لیے صدوطن! شہباز دنیا میں امن اور ملک میں انسانی حقوق کی دھجیاں!
قارئین اور عزیزانِ وطن! یو این او کا ہنگامہ ختم ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب ایران کو دھمکی اور چاپلوسی کا دو طرفہ تماشہ تھا، لیکن اگر کوئی بدنام ہوا تو پہلی مرتبہ اسرائیل کے نیتن یاہو کی بربادی کا تماشہ دیکھنے والا تھا۔ ان کی ساری تقریر میں نیویارک کے میئر ممڈانی کے ساتھ متھا لگایا ہوا تھا۔ جب موصوف تقریر کیلئے ڈائس پر پہنچے تو تقریباً اسی ملکوں کے سربراہ اور ان کا سفارتی عملہ اٹھ کر چلا گیا۔ پھر ہمارے وطنِ عزیز کے فارم 47 کے وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا میں امن کی بات کی، لیکن اپنے ملک میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہوئی ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے سیاست دان عمران خان، ان کی اہلیہ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور پی ٹی آئی کے نامور قائدین کو تین سال سے پابندِ سلاسل کر کے جمہوریت کا تاج پہن کر کس منہ سے یو این او کے اجلاس میں شرکت کرنے آئے ہیں؟ ان کو شرم نہیں آتی، اور شرم بھی کیسے آئے جب پشت پناہی کے لیے سالارِ اعظم فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کھڑے ہیں۔ شہباز شریف کی قسمت اچھی تھی کہ نیویارک میں موسم خراب ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکن اور جمہوریت پسند ان کے خلاف مظاہرہ نہ کر سکے۔ اگر موسم خراب نہ ہوتا تو امجد نواز اور ان کے ساتھیوں نے وہ ہنگامہ برپا کرنا تھا کہ لوگ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ بھول جاتے۔ وطنِ عزیز میں تو پی ٹی آئی کے لیڈروں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر اور ہر گلی کوچے میں کنٹینر کھڑے کر کے فارم 47 کی حکومت نے بڑا تیر مارا ہے۔ عمران خان سے اتنا خوف ہے کہ عوام کی نظروں میں حکومت اور اس کے وردی والے حاکم سب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اب عوام کی باری ہے کہ وہ ان ظالموں سے اپنی نجات کے لیے کب نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔
آج کل مہنگائی کا رونا ہر طرف ہے۔ وطنِ عزیز میں رشتہ داروں یا دوستوں سے بات ہو تو ایک ہی آہ نکلتی ہے کہ مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے، خاص طور پر پیٹرول کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ بھائی امریکہ کا بھی یہی حال ہے، یہاں بھی پیٹرول کی قیمتوں نے برا حال کر رکھا ہے اور مہنگائی انتہائی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ صرف کافی کی مثال دیتا ہوں کہ جہاں ہم ڈیڑھ ڈالر کا کپ پیتے تھے، اب وہی کپ چار ڈالر کا پیتے ہیں۔ ہمارے دوست تصدق بٹ صاحب کا کہنا ہے کہ اگر یہاں کریڈٹ کارڈ کی سہولت میسر نہ ہو تو یہاں بھی عوام قیامت برپا کر دے۔ صرف پاکستان کی معیشت قرضوں پر نہیں چلتی بلکہ امریکہ کا بھی یہی حال ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں حکومت غریبوں کے نام پر قرضہ لیتی ہے اور خود بارہ تیرہ کروڑ کا جہاز خرید کر اپنی سیر و تفریح کے لیے استعمال کرتی ہے جبکہ قوم بھوکی رہتی ہے، اور یہاں ہم کو حکومت کریڈٹ کارڈوں کے چکر میں جکڑ کر رکھتی ہے۔ گو مہنگائی کا تماشہ ہر سو لگا ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ کے سر جاتی ہے جو اپنی ایرانی شکست کی ہزیمت مٹانے کے لیے ابھی تک ایرانی قوم سے الجھنے سے باز نہیں آ رہے، جبکہ امریکی عوام 4 نومبر کے الیکشن پر نظر جمائے بیٹھے ہیں تاکہ ان کی پارٹی کو شکستِ فاش دیں اور ان کے سر سے جنگی جنون کا بھوت اتارا جا سکے۔ میں امریکہ میں بسنے والے پاکستانی امریکیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ڈیموکریٹس کو اپنا قیمتی ووٹ دیں۔ بقول ملک سجاد ایمن آبادی، امریکہ میں ڈالا ہوا ووٹ شمار ہوتا ہے جبکہ وطنِ عزیز میں ڈالا ہوا ووٹ فارم 47 میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ خیر، کبھی نہ کبھی پاکستانی ووٹ بھی عوام کی مرضی کے مطابق شمار ہوں گے اور ملک فارم 47 کی گندگی سے پاک ہو گا۔
ایک عرصے کے بعد ایک پروگرام میں ارشاد بھٹی اور احسن اقبال کا شو دیکھا، جہاں احسن اقبال، ارشاد بھٹی کے سامنے انتہائی بے بس نظر آ رہے تھے۔ میں احسن اقبال کو اس زمانے سے جانتا ہوں جب میں نے امریکہ میں پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی۔ ہمارے مرحوم دوست عبدالشکور صاحب نے، جو امریکہ میں جماعتِ اسلامی کے امیر ہوا کرتے تھے، احسن اقبال سے ملوایا تھا۔ ہم نے ان کو مسلم لیگی جان کر اپنے جلسے کا مہمانِ خصوصی بنایا۔ احسن اقبال کو جب ہمارے اس وقت کے سیکرٹری جنرل عالم خان نے سٹیج پر دعوت دی تو ان کی تقریر ساری کی ساری جماعتِ اسلامی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی۔ میں یادِ ماضی میں ڈوبا یہ سوچ رہا تھا کہ موصوف جو آج کل بڑے مسلم لیگی بنے پھرتے ہیں، انہوں نے اپنی ساری تقریر میں ایک دفعہ بھی قائدِ اعظم کا نام نہیں لیا بلکہ قیامِ پاکستان کا سہرا سر سید احمد خان کے سر باندھا۔ احسن اقبال سے پھر مسلم لیگ کے حوالے سے راہ و رسم بڑھتی گئی۔ جب نواز شریف وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے میری دعوت پر نیویارک تشریف لائے تو احسن اقبال بطور معاون ان کے ساتھ آئے اور حسین حقانی بطور مشیر، لیکن احسن اقبال کی سرپرستی اور خوشامدی مزاج نے ان کا رتبہ بلند کر دیا۔ آج ارشاد بھٹی نے جس طرح ڈٹ کر ان کا محاسبہ کیا اس سے سچائی سامنے آ گئی۔ احسن اقبال سے نہ تو کوئی جواب دیا گیا اور نہ ہی کوئی بات بن سکی۔ امید ہے کہ ارشاد بھٹی ایک دن نواز شریف اور ان کے حواریوں کو بھی اسی طرح بے نقاب کریں گے اور قوم کو ان جعلی رہنماؤں کا اصلی چہرہ دکھائیں گے۔ پاکستان زندہ باد!

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here