ہم خان کے ہیں!!!

0
5
عامر بیگ

سیاست میں افواہیں نئی بات نہیں، مگر جب افواہوں کو کسی جماعت یا اس کے کارکنوں کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ ایک منظم تاثر سازی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور بالخصوص بیرون ملک موجود اس کے حامیوں کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً ایسی خبریں اور چہ میگوئیاں سامنے آتی رہتی ہیں جن کا مقصد بظاہر یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔
حالیہ دنوں میں ایک گھریلو نشست کی چند تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ اس نشست میں اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا بھی مدعو تھے جبکہ چوہدری ضمیر اور چوہدری پرویز ریاض بھی موجود تھے۔ تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں تو حسبِ روایت بعض نکتہ چینوں نے فوراً یہ تاثر دیا کہ شاید چوہدری برادران نے بھی پارٹی بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چونکہ ماضی میں وہ مسلم لیگ ق سے تحریک انصاف میں آئے تھے، اس لیے کچھ لوگوں نے اپنی قیاس آرائی کو یہ رنگ دے دیا کہ شاید اب ایک مرتبہ پھر چڑھتے سورج کو سلام کرنے کی تیاری ہے۔
گزشتہ رات شکاگو سے آنے والے تحریک انصاف کے پورے پینل کو لے کر پی ٹی آئی شکاگو لینڈ کے روح رواں راجہ یعقوب سے محمد حسین ایڈووکیٹ کے ہاں ملاقات ہوئی۔ یہ احباب ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے آئے تھے، تاہم موسم کی خرابی کے باعث پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ اسی نشست میں کئی سیاسی معاملات زیر بحث آئے۔ علی امتیاز ملک، سیم خان اور جانی بشیر سمیت مختلف احباب کے بارے میں گفتگو ہوئی لیکن چوہدری ضمیر اور چوہدری پرویز ریاض کے حوالے سے تفصیلی بات بھی ہوئی۔
بات کا خلاصہ یہی تھا کہ انہیں کسی ایسی سیاسی تبدیلی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے جس کی افواہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ نوجوان خون جوشیلہ ہوتا ہے۔ نمایاں نظر آنا، سیاسی سرگرمیوں میں آگے رہنا اور آنے والی ہر نمایاں شخصیت کا استقبال کرنا، اس کے ساتھ وقت گزارنا یا اسے پروٹوکول دینا بھی سیاسی و سماجی سرگرمی کا حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان سے کوئی نمایاں شخصیت امریکہ آئے اور ایسے نوجوان جن کے پاس وقت، وسائل اور سیاسی سرگرمی کا شوق ہو، اس کے استقبال یا میزبانی میں آگے بڑھیں تو اسے لازماً سیاسی وفاداری کی تبدیلی قرار دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ شاید یہی وہ معمولی سی بات تھی جسے بڑھا چڑھا کر ایک افواہ کا رنگ دے دیا گیا۔
رات کے دو بجے فون کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ صبح ہوتے ہی پہلی کال چوہدری ضمیر کو کی اور ہنستے ہوئے دریافت کیا کہ کیا افطاری سے پہلے ہی روزہ کھول لیا؟ قہقہہ گونجا اور جواب آیا کہ بیگ صاحب! آپ مجھے جانتے ہیں۔ ہم خان صاحب کے ٹائیگرز ہیں اور مرتے دم تک خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ابھی تو حکومت کے دن بھی گنے جا چکے ہیں، ہم بھی دنیا دیکھے ہوئے ہیں، ہم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟
یہ جواب شاید ان تمام قیاس آرائیوں کا سب سے سادہ اور واضح جواب ہے جو چند تصویروں سے اخذ کی جا رہی تھیں۔ سیاست میں اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر سیاسی وابستگی کو ہر تصویر، ہر ملاقات اور ہر مصافحے سے ناپنا مناسب نہیں ہے۔ خاص طور پر بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں۔ کسی کی میزبانی، استقبال یا تصویر کو فوراً پارٹی تبدیلی کا ثبوت بنا دینا ایک ایسی روش ہے جو بالآخر خود سیاسی گفتگو کو کمزور کرتی ہے۔
عمران خان سے کارکنوں کی وابستگی محض وقت کی سیاسی مصلحت نہیں بلکہ ایک فکری اور جذباتی رشتہ ہے۔ عمران خان نے ملک، عوام اور ریاستی اداروں کے بارے میں اپنی سیاسی جدوجہد کو ایک مخصوص تصور کے ساتھ جوڑا ہے۔ اسی لیے بہت سے کارکن موجودہ سیاسی حالات سے قطع نظر اپنی وابستگی برقرار رکھنے کا اظہار کرتے ہیں۔
عزت اور ذلت بہرحال اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ سیاست میں حالات بدلتے رہتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی ہیں، سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے ہیں، مگر کسی بھی شخص یا جماعت کے بارے میں حتمی رائے افواہوں کے بجائے اس کے اپنے عمل اور واضح موقف کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان ایک بہت بڑے لیڈر ہیں اور ان کی رہائی اور سیاسی کردار کی بحالی کے لیے آواز اٹھانا بنتا ہے۔ ان کا مخالف بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتا کہ ان کے گرد ایک بڑی سیاسی وابستگی موجود ہے۔ دنیا بھر کے لوگ اور خان کے سیاسی مخالفین بھی ان کی صحت اور زندگی کے لیے نہ صرف دعا گو ہیں بلکہ وہ انہیں سامنے آ کر اپنا کردار ادا کرنے کے بھی شدید خواہش مند ہیں۔
لانگ مارچ مؤخر ہو یا نہ ہو، پاکستان کو عمران خان جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ افواجِ پاکستان کو بھی عمران خان کی ضرورت ہے اور عوام کو بھی عمران خان کی ضرورت ہے۔ عمران خان اکثر کہتے تھے کہ ملک بھی میرا، عوام بھی میری اور افواجِ پاکستان بھی میری ہیں، اور ہم سب عمران خان کے ساتھ ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here