فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! مہمان نوازی اخلاق حسنہ کا ایک اہم جزو ہے اسلامی اخلاق میں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ نبوت ولادیت کی شان سرفرازی ہے کوئی نبی علیہ الصّلٰوة والسّلام ہو یا ولی رضی اللہ عنہ ہو سخاوت ومہمان نوازی اس کی خومیں شامل ہوگی۔ اللہ کے ہاں اس کا بڑا درجہ ہے۔ اور اس وصف کو بہت پسند فرمایا ہے بلکہ اسے اپنی دوستی کی ایک علامت قرار دیا ہے کہ میرے دوست مہمان نواز بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی مہمان نوازی کا قصہ بیان فرما کر مہمان نوازی کی ترغیب دی ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی طرف بھی مہمان اللہ تعالیٰ نے خود ہی بھیجے تھے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ترجمہ: بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کیا۔ انہوں نے بھی جواب میں سلام کہا(دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان تو اپنے گھر جاکر ایک(بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے(اور کھانے کے لئے) ان کے آگے رکھ دیا کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟ اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجئے اور ان کو ایک دانش مند لڑکے کی خوشخبری بھی دی۔
یہ مہمان نوازی کا قصہ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتوں کو انسانی شکل میں بطور مہمان حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پاس بھیجا۔ ان فرشتوں نے ابراہیم علیہ السّلام کو سلام کیا۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے جواب میں سلام کہا۔ آپ یہ سمجھے کہ یہ مہمان ہیں۔ لہذا انہیں بٹھا کر ان کی مہمان نوازی کا بندوست کرنے میں مصروف ہوگئے۔ مقصد یہ ہے کہ پتہ چل جائے کہ یہ شخص میرے پاس بطور مہمان آیا ہے تو پھر اس کی مہمان نوازی کرنا ضروری ہے۔ یہی فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے ملاقات کے بعد آپکے بھتیجے حضرت لوط علیہ السّلام کے پاس بھی گئے۔ انہوں نے بھی انہیں مہمان سمجھا اور ان کی بے حد عزت وتکریم کی۔ بستی کے لوگوں نے ان مہمان فرشتوں کے ساتھ بھی اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کرنا چاہا تو اس پر حضرت لوط علیہ السّلام نے لوگوں کو جواب دیا کہ یہ تو میرے مہمان ہیں لہذا تمہارا فرض ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو جیسا کہ میں کر رہا ہوں۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے یوںبیان فرمایا ہے ترجعہ: اور اہل شہر(لوط کے پاس) خوش خوش(دوڑے) آئے۔(ٹونے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں۔(کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا۔ اور خدا سے ڈرو۔ اور میری بے آبروئی نہ کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مہمان کے آرام وآسائش کے ساتھ ساتھ مہمان کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنا بھی میزبان کے فریضہ میں شامل ہے۔ اس لئے اگر کوئی دوسرا شخص مہمان کے ساتھ برا سلوک کرنا چاہے تو میزبان کو چاہئے کہ مہمان کا بچائو کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوط علیہ السّلام نے فرشتوں جو بطور مہمان تھے کے ساتھ توہین آمیز برتائو کرنا چاہا تو حضرت لوط علیہ السلام نے قوم کو کہا کہ میرے مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی مت کرو۔ کیونکہ یہ میرے مہمان ہیں مہما نوازی کا وصف اگرچہ اہل عرب میں اسلام سے پہلے بھی موجود تھا اور عرب میں مہمان کی ہر لحاظ سے خدمت کرنا اخلاقی فریضہ سمجھا جاتا تھا مگر حضورۖ نے اس فرض کی اہمیت کو اور بڑھا دیا واضح کردیا اور اخلاقی نقطہ نظر سے یہ مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دے دیا کہ وہ مہمان نوازی میں کسی قسم کی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ حضورۖ خود بڑے مہمان نواز تھے۔ مہمانوں کو خدا کی رحمت فرمائے اور سمجھے تھے۔
کوئی مہمان آتا توخود اس کی میزبانی فرماتے۔ اور مہمان نوازی میں ازحد کوشش تک خدمت کرتے اس لئے مہمان کی اپنی بساط کے مطابق خدمت کرنا حضورۖ کی سنت بھی ہے۔ مہمان نوازی کی اہمیت کے پیش نظر حضورۖ نے مہمان نوازی کو ایمان قرار دیا ہے۔ اور فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو شخص خدا تعالیٰ اور قیامت پر ایمان لایا ہے۔ اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کو عزت کے ساتھ رکھے مہمان نوازی میں وہ ساری باتیں داخل ہیں جو کسی کے آنے کی خوشی میں اعزاز واکرام آرام و راحت اور سکون ومسرت کے جذبات کے لئے ہوں۔ ایک شخص چل کر ہمارے پاس آتا تو ہمارا فرض ہے کہ اس کے لئے ہر طرح کا انتظام وانصرام کریں۔ اللہ کے نبیۖ کے عمل اور فرمان سے مہمان نوازی کی فضلیت اور اہمیت واضح ہوتی ہے اس کی جھلک فقیر راقم الحروف نے اللہ کے ولی ابن ولی حضور شمس المشائخ، نائب محدّث اعظم پاکستان صاحبزادہ پیر قاضی محمد فضل رسول حیدر قادری رضوی رضی اللہ عنہ کے عمل وفرمان سے آنکھوں سے دیکھی۔ ہمان کی بے انتہا تکریم اور عزت اور حد سے بڑھ کر خدمت اور مہمان کے ساتھ اپنائیت کا اظہار وسلوک۔ آرام و راحت کا اپنے سے بڑھ کر خیال خوشی ومسرت کے جذبات کے ساتھ ساتھ ہر لحاظ سے خدمت کرنا احادیث وآیات کو پڑھ کر اور آپ کے عمل شریف کو دیکھ کر انسان کو ایک عملی سبق حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جلَّ مجدہ الکریم ہم سب کو آپ کے فیوض وبرکات سے وافر حصہ عطا فرمائے اور مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭











