وی لاگر کراچی کی ملکانی!!!

0
5
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

سید کاظم رضا نقوی کا سلام۔ ہمارے معاشرے میں آئے دن ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں عوام کو قانون اور پولیس سے شدید شکایات رہتی ہیں۔ عوام کے جان و مال کے نقصان میں پولیس اکثر برابر کی شریک نظر آتی ہے اور مملکت پاکستان میں بالخصوص کراچی کا حال سب سے زیادہ ابتر ہے۔ اس کی وجوہات انتہائی طویل ہیں، لہٰذا ان کی تفصیل میں جائے بغیر آج ایک ایسی خاتون کی آپ بیتی پیش کی جا رہی ہے جو آن لائن دنیا میں ملکانی کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ وہ ایک بہترین ویلاگر ہیں اور معاشرتی برائیوں کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔
کراچی اور پورے پاکستان کی موجودہ صورتحال اس تحریر سے مکمل طور پر عیاں ہوتی ہے۔ ملکانی، جن کا اصل نام رخشندہ خان ہے، وہ یہ تحریر مکمل سچائی پر مبنی بیان کرتی ہیں۔ دو دن پہلے وہ کراچی کے علاقے ملیر میں اپنی والدہ کی عیادت کے لیے گئیں اور تقریباً دو گھنٹے مزاج پرسی کے بعد واپس اپنے گھر کے لیے روانہ ہوئیں۔ وہ گھر کے قریب کی گلیوں سے نکل کر مرکزی سڑک پر آئیں اور احتیاط سے سڑک پار کرنے لگیں۔ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے بائیک چلا رہی ہیں اور ایک ذمہ دار شہری کی طرح ٹریفک کے تمام قوانین پر عمل کرتی ہیں۔ جب بھی وہ بائیک لے کر نکلتی ہیں تو ان کے پاس سواری کے کاغذات، ڈرائیونگ لائسنس، قومی شناختی کارڈ اور ہیلمٹ لازمی موجود ہوتا ہے۔
سڑک پار کرنے سے پہلے انہوں نے اچھی طرح جائزہ لیا تاکہ کوئی تیز رفتار گاڑی ان کے قریب نہ ہو۔ دور سے گاڑیاں آتی دکھائی دے رہی تھیں اور بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا، اس لیے اشارہ آن کر کے سڑک پار کرنے لگیں۔ وہ سڑک کے کنارے تک پہنچی ہی تھیں کہ دور سے آنے والا ایک رکشہ انتہائی تیز رفتاری سے آگے نکلنے کی کوشش میں ان سے ٹکرا گیا۔ یہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ وہ سڑک پر جا گریں۔ کچھ دیر بعد حواس بحال ہونے پر وہ جیسے تیسے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ حادثے والے مقام کے بالکل سامنے پولیس اسٹیشن واقع تھا۔ وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے یہ پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور فوراً ان کی مدد کو پہنچے۔ اسی وقت بس سے اترنے والی ایک خاتون وکیل نے بھی یہ پورا واقعہ دیکھا اور موقع پر پہنچ کر ان کی خیریت دریافت کی اور کہنی و ٹانگ میں شدید درد کے باوجود انہوں نے سنبھلنے کی کوشش کی۔
ان کی اسکوٹی شدید متاثر ہو چکی تھی جبکہ پولیس اہلکاروں نے رکشہ ڈرائیور کو پکڑ لیا تھا۔ خاتون وکیل نے اپنا تعارف کروایا اور قانونی کارروائی میں مدد کی پیشکش کی۔ پولیس اہلکار نے خاتون سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی قانونی کارروائی کروانا چاہتی ہیں، جس پر انہوں نے مثبت جواب دیا۔ پولیس اہلکار نے اسکوٹی اور رکشے والے کو تھانے کے اندر لے جانے کا حکم دیا اور وکیل نے بھی مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
تھانے کے اندر موجود افسران نے پورا واقعہ سنا اور وکیل کی گواہی بھی قلمبند کی سچی۔ جب خاتون کے لائسنس اور گاڑی کے کاغذات مانگے گئے تو انہوں نے فوراً فراہم کر دیے، لیکن رکشہ ڈرائیور کے پاس نہ تو لائسنس تھا اور نہ ہی رکشے کے کاغذات۔ اس صورتحال پر خاتون نے موقف اختیار کیا کہ بغیر کاغذات اور لائسنس کے گاڑی چلانے پر پہلے چالان کاٹا جائے اور بعد میں دیگر قانونی کارروائی کی جائے۔ وکیل نے بھی اس بات کی حمایت کی، تاہم کہانی میں نیا موڑ تب آیا جب ایک اور وکیل وہاں پہنچا اور رکشہ ڈرائیور کو بچانے کے لیے ان پر لین دین کر کے معاملہ ختم کرنے کا دباؤ ڈالنے لگا۔
خاتون نے شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے وہ تمام قوانین اور قواعد کی پاسداری کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب بغیر لائسنس اور کاغذات کے تیز رفتاری سے حادثہ کرنیوالے کو سزا دینے کے بجائے انہیں رشوت لے کر معاملہ رفع دفع کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ شہر میں رکشہ، بس اور ڈمپر مافیا کی تیز رفتاری کی وجہ سے شہری غیر محفوظ ہیں اور اس طرح کے رویے سے قانون کی حاکمیت ختم ہوتی ہے۔
تھانے کے اندر موجود عملے اور چند دیگر وکلاء نے مسلسل دباؤ ڈالا کہ وہ کچھ رقم لے کر معاملہ ختم کر دیں اور مقدمہ درج نہ کروائیں۔ وکیل خاتون مسلسل ان کے ساتھ کھڑی رہیں اور انسانیت کے ناتے ان کا ساتھ دیا۔ پولیس اہلکار مقدمہ درج کرنے سے مسلسل ٹال مٹول کرتے رہے اور تین گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ بالآخر ساتھ موجود وکیل نے بھی مشورہ دیا کہ موجودہ نظام کے تحت وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہٰذا اسکوٹی کے نقصان کے ازالے کے لیے رقم لے لی جائے۔
نتیجتاً دس ہزار روپے کے عوض رکشے والے کو چھوڑ دیا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے قانونی نظام اور انصاف کی فراہمی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جہاں قانون کی پاسداری کرنے والے شہری غیر محفوظ ہیں اور قانون شکنی کرنے والے رقم دے کر آسانی سے چھوٹ جاتے ہیں، وہاں معاشرتی اصلاح اور نظام کی تبدیلی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ امید ہے کہ باصلاحیت اور ایماندار افسران کی آمد سے اس نظام میں بہتری آئے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here