ہم نے اپنا گزشتہ کالم حضرت علی کے قول ”کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا” پر ختم کیا تھا، افسوس اس امر پر ہے کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی ریاست کے قیام کے دو سال بعد سے ہی نظریہ محض نعروں، بیانات، دعوئوں اور نغمات ”ہم تابہ ابدسعی و تغیر کے ولی ہیں، ہم مصطفوی مصطفوی ہیں” تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے اور مفادات و ملک گیری اور اقتدار کے حصول کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس طویل تماشے میں ملک کی سیاسی اشرافیہ اپنی اغراض کی خاطر کسی نہ کسی حوالے سے شریک ہوتی رہی ہے۔ ماضی بعید سے تاحال یہی کھیل کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ ہماری یہ تمہید محض اس لئے نہیں کہ وطن عزیز کے موجودہ سیاسی حالات پر ہی اظہار کیا جائے بلکہ ان کی وجہ سے جو اندرونی و بیرونی اثرات وطن و قوم کیلئے منضبت ہو رہے ہیں وہ کسی بھی طرح مثالی نہیں۔
وطن عزیز میں جو سیاسی بحران اس وقت برپا ہے اس کی وجہ سے تو خود موجودہ طاقتور وزیر داخلہ اس طرح اعتراف کر چکا ہے کہ نظام تباہ ہو چکا ہے اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں، کوئی شعبہ ایس اہیں جس کے اشارئیے مثبت ہوں اور عوام اپنی زندگی گزارنے میں اطمینان کا اظہار کر سکیں اور سونے پر سہاگہ اسٹیبلشمنٹ اور عوام کے مقبول ترین رہنما کے مابین عدم اعتباری و نزاعی صورتحال نے حالات کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ مقتدرین کے بیساکھی بردار حکومت کے تعاون سے جبر و استبداد اور ایجنڈے نیز پی ٹی آئی کی جدوجہد و تحریک کے سبب صورتحال جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس کے ہر لمحے سے تو قارئین آگاہ ہو رہے ہیں لیکن اس کا دوسرا رُخ بیرونی دشمنوں خصوصاً فتنہ الخوارج و فتنہ الہند اور ٹی ٹی اے کی دہشتگردی کی وارداتیں نہ صرف وطن عزیز کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں بلکہ وطن کے بیٹوں اور مائوں، بہنوں بیٹیوں کی شہادتوں اور مضروبیات کا مہیب انجام بن رہی ہیں۔ جس وقت ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں کے پی اور بلوچستان میں دہشتگردی کی نہ صرف وارداتیں ہوئیں بلکہ افغانستان کی جانب سے ڈرون حملے بھی کئے گئے، گو پاکستان نے جواباً ڈرونز کو تباہ کرنے کیساتھ پاکستان میں افغان سفیر کو بلا کر ڈیمارش کیا بلکہ افغانستان کے دس مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ ڈرون فائر کئے جاتے تھے۔
بھارت اور افغانستان کی جانب سے دہشتگانہ سرگرمیوں کی سرپرستی اب کی بات نہیں طویل سلسلہ ہے اور دشمنی کے اہداف کے پی اور بلوچستان ہیں۔ اے پی ایس سے گزشتہ دنوں کی دہشتگردانہ وارداتوں تک پختونخواہ مرکزی ہدف رہاہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں عرصے سے کے پی کو نظر انداز کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں خصوصاً گزشتہ 4 برسوں سے اسٹیبلشمنٹ اور دفاعی حکومت کا سیاسی بنیاد پر منفی رویہ اور کے پی کو نظر انداز کرنا دہشتگردی میں اضافے کا بھی ایک سبب ہے لیکن بغض عمرانیہ نے اصل حکمرانوں کی آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور انہیں پی ٹی آئی کو کچلنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ہے خواہ اس کے نتیجے میں خدانخواستہ پختونخواہ جہنم ہی کیوں نہ بن جائے۔ خان کو جن اذیتوں اور دشمنیوں سے جس طرح گزارا جا رہا ہے کہ اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں اور وفاداروں کو مقید کیا جا رہا ہے، صوبہ کے پی میں ایمرجنسی، گورنر راج اور آئین کے آرٹیکل 32 کی خبریں اور دو تہائی اکثریت کے حامل سہیل آفریدی کو ہٹائے جانے کیلئے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کی پاداش میں سزا اور نا اہل قرار دینے کی سازش صوبے کو دہشتگردی سے محفوظ کرنے کا ہر گز راستہ نہیں ہو سکتا ہے۔
ایک محب وطن پاکستانی اور صحافتی تجربے کے ناطے پہلے بھی اور آج بھی ہمارا مؤقف یہی ہے کہ وطن کی سلامتی، خوشحالی اور عظمت آپسی عداوت، مفاداتی و ذاتی پرخاش میں نہیں ہو سکتی بلکہ اجتماعیت، باہم بے غرض وطن کی بہتری اور مساوات و حقوق کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ بیرونی دشمنوں اور دہشتگردی کے خاتمے کا واحد حل محض فوج، قانون و وطن کے رکھوالوں ہی نہیں قوم اور وطن کی تمام اکائیوں کے اتحاد اور تنظیم میں مضمر ہے۔ جو قومیں افتراق، انتشار اور تقسیم میں ڈوبیں وہ تاریخ کے صفحات پر ہی رہیں اور اپنا وجود کھو چکی ہیں۔
٭٭٭٭٭









