والدین تنہائی کا شکار!!!

0
4
رعنا کوثر
رعنا کوثر

والدین تنہائی کا شکار!!!

آج کل یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ والدین کی نافرمانی ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ بچوں کو یا تو صحیح تربیت فراہم نہیں کی جاتی یا پھر ان پر بیرونی ماحول کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں والدین کے لیے وہ جذبہ پیدا نہیں ہو پاتا جو محبت اور احترام کو جنم دیتا ہے۔ جذبہ محبت، اطاعت اور احترام وہ بنیادی عناصر ہیں جو اگر کسی اولاد کے دل میں موجود ہوں تو وہ والدین کا خیال رکھتی ہے، ان سے بدتمیزی نہیں کرتی اور ان کی خدمت کو کبھی بوجھ نہیں سمجھتی۔ تاہم، مغربی ماحول اور جدید رجحانات کے زیرِ اثر بچے اب ابتدا ہی سے والدین کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کا رویہ نہیں رکھتے۔ معمولی تنازع کی صورت میں بات سکول، اساتذہ اور پولیس تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ باپ جو دن بھر محنت مشقت کر کے بچوں کے لیے رزق کماتا ہے، اگر تھکن اور پریشانی کے باعث کچھ کہہ دے تو اولاد اسے ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے۔ اسی طرح اگر ماں پڑھائی یا کسی اور بات پر تنبیہ کرے تو اگلے ہی دن دوستوں کے سامنے یوں شکایت کی جاتی ہے جیسے کسی بیگانی خاتون کا ذکر ہو رہا ہو۔
ایک وہ وقت تھا جب کوئی بچہ اپنے والدین کی برائی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ والدین کا حق تسلیم کیا جاتا تھا کہ وہ پیار بھی کریں، ضروریاتِ زندگی بھی فراہم کریں اور غلطی پر سرزنش بھی کریں۔ بعض اوقات باپ سخت رویہ بھی اپناتے تھے اور مائیں گھر کا کام سکھانے کے ساتھ ساتھ دادی اور نانی کے ذریعے اخلاقی تربیت کا سامان کرتی تھیں۔ اس کے باوجود کوئی بچہ اپنے گھر کی باتیں باہر دوستوں میں لے جانے کا تصور بھی نہ کرتا تھا۔
اگر بچوں کے دلوں سے والدین کی عزت اور محبت کا احساس ہی ختم ہو جائے تو وہ کس طرح ان کی خدمت کر سکیں گے؟ خدمت کے لیے قربانی اور محبت کا جذبہ درکار ہوتا ہے جو اسی وقت ممکن ہے جب والدین کی خدمات کو سراہا جائے اور ان کا شکر گزار رہا جائے۔ والدین کی پرورش اور نگرانی ہی میں انسان بڑا ہوتا ہے اور شعور کی منزل تک پہنچتا ہے۔ وہ بغیر کسی غرض کے انتہائی شفقت کے ساتھ اولاد کی سرپرستی کرتے ہیں۔ اس بات کا تقاضا ہے کہ انسان کا دل اپنے والدین کی عظمت، محبت اور احسان مندی سے سرشار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب العزت نے بھی اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ والدین کی شکر گزاری کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
قرآن مجید میں حکم ربانی ہے کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کے شکر گزار رہو۔ لیکن اس کے برعکس، مسلسل ناشکری اور ہر بات پر ماں باپ کی شکایت کرنا آج کل کے بچوں کا شعار بن چکا ہے۔ جب کوئی انسان شکر گزاری کا رویہ ترک کر دے تو وہ کسی کے احسانات کی قدر نہیں کر سکتا اور نہ ہی بڑھاپے میں ان کی خدمت کا حق ادا کر پاتا ہے۔ بچپن میں جن بچوں سے والدین کی بات برداشت نہیں ہوتی، وہ عملاً جوانی کی مصروفیت اور پریشانیوں میں والدین کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ ان کی بیماریوں اور غصے کو جھیلنے سے قاصر رہتے ہیں۔
اگرچہ تحمل اور اخلاق کی تربیت بچپن ہی سے سکھائی جاتی ہے، مگر سوچنا یہ ہے کہ اس بگاڑ کا الزام کس پر عائد کیا جائے؟ بعض اوقات والدین خود صبر و برداشت کا مظاہرہ نہیں کرتے یا بچوں کو اخلاقیات سے آراستہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ انہیں یا تو دین سے دور رکھا جاتا ہے یا پھر وہ خود غرضی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ بچے اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ انہی والدین نے انہیں پال پوس کر اس مقام تک پہنچایا تھا۔ سبب کچھ بھی ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کے والدین اپنی اولاد سے وہ توقعات نہیں رکھ سکتے جو ماضی کے والدین رکھتے تھے، اور یہی وجہ ہے کہ آج کے والدین خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here